پنجاب پولیس نے بہت ات مچائی ہے، اب یہ تماشہ نہیں چلے گا: لاہور ہائیکورٹ

پنجاب پولیس نے بہت ات مچائی ہے، اب یہ تماشہ نہیں چلے گا: لاہور ہائیکورٹ

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے قراردیا ہے کہ بے روزگاری کی وجہ سے خودکشیاں ہورہی ہیں، پنجاب پولیس کو ہوش ہی نہیں،پنجاب پولیس نے بہت ات مچائی ہوئی ہے،اپنے رولز کو پولیس اس طرح روندتی ہے جیسے غریبوں کو گھسیٹتی ہے،اب یہ تماشا نہیں چلے گا،فاضل جج نے یہ ریمارکس ویٹنگ لسٹ پر موجود امیدواروں کو پولیس کانسٹیبل کے عہدہ پربھرتیوں کے لئے ترجیح دینے کاحکم جاری کرتے ہوئے دیئے،فاضل جج نے خبردار کیا کہ جن اضلاع میں امیدواروں کی ویٹنگ لسٹ کونظر انداز کیا گیاان کے ڈی پی اوز پر ایک لاکھ روپے ماہانہ فی کس ہرجانہ عائد کریں گے جو متعلقہ امیدواروں کو اداکیا جائے گا،پولیس والوں کے پاس بہت پیسے ہیں،عدالت نے سرکاری وکیل کی طرف سے غلطی درست کرنے کی مہلت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے 19اگست تک رپورٹ طلب کرلی،مختلف شہریوں کی طرف سے دائر درخواستوں کی سماعت کے موقع پر سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ملک عبدالعزیز عدالت میں پیش ہوئے،فاضل جج نے سی سی پی او لاہورکو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ رولز کو پولیس نے پیروں تلے روند دیا،کانسٹیبل کی ایک ماہ کی تنخواہ کتنی بنتی ہے، کیوں نہ متعلقہ ڈی پی اوز کو ویٹنگ لسٹ میں شامل امیدوراوں کو کانسٹیبل کی تنخواہ کے برابر رقم اداکرنے کاحکم جاری کردیں،چیف جسٹس نے مزید کہا کہ سی سی پی او لاہور خدا کا خوف کریں، عدالت نے استفسار کیا کتنے اضلاع میں ویٹنگ لسٹ پر امیدواروں کو ترجیح نہیں دی گئی؟جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ لاہور،شیخوپورہ اور اوکاڑہ میں کانسٹیبل کے عہدہ کے لئے ویٹنگ لسٹ کے امیدوراوں کو ترجیح نہیں دی گئی،فاضل جج نے کہا کہ جتنے ڈی پی اوز ان تینوں اضلاع میں رہے،ان پر بھاری ہرجانہ عائدکرتے ہیں،چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے کہا کہ پولیس کے رولز کے مطابق ویٹنگ لسٹ والوں کو ترجیح دینی ہوتی ہے،فی کس ایک ڈی پی او پر ایک لاکھ روپے ماہانہ ہرجانہ عائدکردیتے ہیں،جس پر سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ ایک بار مہلت دے دیں ہم ویٹنگ لسٹ کا دوبارہ جائزہ لے لیتے ہیں،غلطی کو درست کرلیں گے،جس پر فاضل جج نے مذکورہ بالاحکم جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی،درخواست گزار وں کا موقف ہے کہ وہ 2017ء سے امیدواروں کی ویٹنگ لسٹ پر موجود ہیں لیکن انہیں ترجیح دینے کے بجائے نئی بھرتیاں شروع کردی گئیں۔

بہت ات

مزید :

علاقائی -