مزدوروں کو رہائش کی فراہمی کیلئے 2056فلیٹس تیار کئے جارہے ہیں: شوکت یوسفزئی

مزدوروں کو رہائش کی فراہمی کیلئے 2056فلیٹس تیار کئے جارہے ہیں: شوکت یوسفزئی

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر محنت اور ثقافت شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ صوبے میں لیبر ڈیپارٹمنٹ کے اپنے 62 چھوٹے بڑے اسپتال اور 45 سکول ہیں جہاں پر مزدوروں کو مفت علاج معالجے اور ان کے بچوں کو مفت تعلیم کی سہولت فراہم کیجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو اپنی رہائش فراہم کرنے کے لیے 2056 فلیٹس ریگی للمہ میں تیار کئے جا رہے ہیں جبکہ صوبہ میں مزدوروں کا ڈیٹا اکھٹا کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی شروع کیے گئے ہیں۔چائلڈ لیبر سروے کے لئے 241 ملین روپے رکھے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں مزدوروں کے بچوں کی مفت تعلیم کے لئے مختلف تعلیمی اداروں میں 5 کروڑ 4 لاکھ روپے کی سکالرشپس تقسیم کرنے کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔سیکرٹری لیبر کامران رحمان بھی صوبائی وزیر کے ہمراہ موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبے میں مزدوروں کے بچوں میں تقریباً 60 کروڑ روپے کے سکالرشپس تقسیم ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کا ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے مزدور ان مراعات سے محروم ہیں۔ بدقسمتی سے پچھلی حکومتوں نے اس طرف دھیان نہیں دیا۔ اس وقت ای ایس ایس آئی کے ساتھ 51 ہزار مزدور رجسٹرڈ ہیں ان کو 90 ہزار تک لے کر جائینگے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ای او بی آئی اور ای ایس ایس آئی کے ساتھ رجسٹریشن کے بعد مزدور مفت علاج اور تعلیم کے ساتھ ساتھ دوسری مراعات سے بھی مستفید ہو سکیں گے رجسٹرڈ مزدوروں کے بچوں کے جیب خرچ کے لئے بھی سکالرشپ کے علاوہ 71 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔آج 5 کروڑ روپے کی سکالر شپ صرف رجسٹرڈ مزدوروں کو دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے مزدوروں کو لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور محکمہ معدنیات کے ساتھ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لئے بات ہورہی ہے۔ رجسٹرڈ مزدوروں کے لیے ڈیتھ گرانٹ 3 لاکھ روپے سے بڑھا کر 7 لاکھ روپے اور میرج گرانٹ کو دو لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں لیبر ڈیپارٹمنٹ میں غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں۔ ورکنگ فوکس گرائمر سکولوں میں غیر متعلقہ عملے کی بھرتیاں ہوئیں جس سے معیار پر فرق پڑا۔غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ اس وقت سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان کی کوششوں سے بی آر ٹی منصوبہ مکمل ہو چکا ہے جس کا افتتاح کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی بارش کے بعد پورا کراچی پانی میں ڈوب جاتا ہے لیکن اگر کوئی شرم سے نہی ڈوبتا تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ ہے۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس ایک بی آر ٹی کا ایشو تھا وہ بھی اب ختم ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی میں اگر کرپشن ہوئی ہے تو سامنے لائی جائے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان واضح کر چکے ہیں کہ کرپشن کسی صورت میں برادشت نہیں کی جائے گی۔

مزید :

صفحہ اول -