کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ،خاموش رہنے کانہیں اب کچھ کرنے کا وقت ہے،سینیٹ میں  اپوزیشن جماعتوں نے "چپ"توڑ دی

کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ،خاموش رہنے کانہیں اب کچھ کرنے کا وقت ہے،سینیٹ ...
کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ،خاموش رہنے کانہیں اب کچھ کرنے کا وقت ہے،سینیٹ میں  اپوزیشن جماعتوں نے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹ میں  اپوزیشن جماعتوں کےارکان نےکہاہےکہ کشمیرہمارےلئےزندگی اورموت کامسئلہ ہے،کشمیر کےبغیر پاکستان نامکمل ہے، مسئلہ کشمیر کا حل ساری دنیاکےلئےبہت ضروری ہے،خاموش رہنےکاوقت نہیں اب کچھ کرنےکاوقت ہے،جو مقبوضہ کشمیر میں ہوا ہے وہ دنیا کا سب سےبڑا زبردستی کا قبضہ ہے،مقبوضہ کشمیرمیں لوگ محاصرےمیں ہیں،وہ اپنےگھروں  سےباہرنہیں نکل سکتے،نریندرمودی دنیائےانسانیت کا ایک گھٹیاانسان  ہے،مودی قاتل ہےآر ایس ایس فاشسٹ آرگنائزیشن ہے،اقوام متحدہ امریکہ کی لونڈی بنی ہوئی ہےوہ اپنی  قراردادوں پرعمل درآمدکرانے کےبجائےمجرمانہ غفلت سےکام لےرہی ہے،کشمیر کےحوالےسےہر پالیسی میں کشمیری قیادت کو شامل کیاجائے،پاکستان کو اپنی ممبر شپ او آئی سی سے ایک وقت کے لئےبطور  احتجاج معطل کرنی چاہیے،اقوام متحدہ  صرف بین الاقوامی سٹیبلشمنٹ اورامریکی سامراج کےاشاروں پرچلنےوالاہے،پاکستان کا بچہ بچہ کشمیری  عوام کےساتھ کھڑا ہے۔

ان خیالات کا اظہار  سینیٹ میں  سینیٹرز سراج الحق، میاں رضاربانی، عبد الغفور حیدری،شیری رحمان، مشاہد حسین سید، فاروق ایچ نائیک ، کرشناکماری اور دیگر  ارکان نے کیا۔سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا،  اجلاس میں وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور  بابر اعوان نے تحریک پیش کی کہ یہ  ایوان  اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بدلنے  کے لئے بھارتی آئین میں ترمیم    کے نتیجے میں بھارتی قابض افواج کی جانب  سے  ایک سال  سے جاری غیر معمولی مظالم، نسل کشی اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی  اور مکمل لاک ڈاؤن کو زیر بحث  لائے۔تحریک پربحث کرتےہوئےسینیٹر شیری رحمان نےکہاکہ آج یوم استحصال منایاجارہا ہے،جو مقبوضہ کشمیر میں ہوا ہے وہ دنیا کاسب سےبڑا زبردستی کاقبضہ ہے،مقبوضہ کشمیرمیں ایک سال سےکیا ہو رہاہے؟وہاں  میڈیا کی بھی آواز بند کردی گئی ہے ،جیلیں کشمیریوں سے بھری ہوئی ہیں۔

سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ آج پوری قوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کر رہی ہے، کشمیری 70سال سے مار کھا رہے ہیں، اپنی آزادی کے لیئے خون بہا رہے ہیں،نریندر مودی دنیائے انسانیت کا ایک گھٹیا انسان  ہے،خونخوار ہے دہشت گرد ہے،اقوام متحدہ امریکہ کی لونڈی بنی ہوئی ہے وہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمدکرانے کے بجائے مجرمانہ غفلت سے کام لے رہی ہے۔سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ  آج ہم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں اور کریں گے،کشمیری کب تک ظلم سہتے رہیں گے؟ ان ماؤں اور بہنوں کی چیخوں پر کب کوئی کان دھرے گا؟ یہ ظلم و جبر کب تک رہے گا،  کیا صرف قراردادوں سے کام  بن جائے گا، ایک منٹ کی خاموشی سے کیا پیغام جائے گا؟ خاموش رہنے کا وقت نہیں اب کچھ کرنے کا وقت ہے ،  نقشے میں تو دہلی ، حیدر آباد دکن اور  چندی گڑھ کو بھی شامل کر سکتے  ہیں،  نقشے میں لکھتے جائیں کیا فرق پڑتا ہے؟۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے،کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے،کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، مسئلہ کشمیر کا حل ساری دنیا کے لیئے بہت ضروری ہے، کشمیریوں کی طویل جدوجہد ہے،  اس وقت بھارت  پر ایک ایسے شخص کی حکمرانی ہے جس کو دنیا پاگل آدمی سمجھتی ہے، اس آدمی سے ہر چیز متوقع ہے،کشمیر کے حوالے سے ہر پالیسی میں کشمیری قیادت کو شامل کیا جائے، او آئی سی کا اجلاس کشمیر کے مسئلے پر اسلام آباد میں بلایا جائے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کی خاطر ہم سب نے مل کر آگے بڑھنا ہے، کشمیر کی آزادی کے لیئے عملی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آج مقبوضہ کشمیر میں لوگ محاصرے میں ہیں، وہ اپنے گھروں  سے باہر نہیں نکل سکتے، مائیں اپنے بچوں کو نہیں مل سکتیں۔سینیٹر کرشنا کماری نے کہا کہ پورا پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ ہے،  پاکستان کی ہندو کمیونٹی مودی کے خلاف کھڑی ہے اور وہ کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے   پاکستان کا بچہ بچہ کشمیری  عوام کے ساتھ کھڑا  ہے ۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ 2 ملین لوگوں کو باہر سے مقبوضہ کشمیر میں  لایا  گیا ہے جن میں سے4لاکھ کو ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ مل چکےہیں،آرایس ایس ایک غنڈہ آرگنائزیشن ہے،مودی اس کاممبر ہے،وہ  ڈیمو گرافک تبدیلی لانے کی کوشش کررہےہیں،5.3بلین ڈالرکاایک سال میں کشمیر اکانومی کونقصان ہواہے،پانچ لاکھ کشمیری بےروز گارہو گئے ہیں۔مشاہد حسین سید نےکہاکہ ہمیں مودی کےبارےمیں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے،یہ سب سےبدبودار انتہاپسند ہندوتوا کا مکروہ چہرہ ہے،یہ وہ مکروہ چہرہ ہےجو قائد اعظم نے 80سال پہلےپہچاناتھا،مودی قاتل ہے،آرایس ایس فاشسٹ آرگنائزیشن ہے،بھارت چاہ بہار سے فارغ ہو گیاہے،بھارت اس وقت خطےمیں تنہا ہے۔

سینیٹر میاں رضا ربانی نےکہاکہ ہزاروں کشمیری  قیدمیں ہیں،ابھی میری پارٹی کاموقف اس بات پرنہیں آیاکہ نقشےپرکیاہماراردعمل ہے،جس وقت آٹھ آنے کےسٹیمپ ہوا کرتےتھےاس وقت آٹھ آنے کےسٹیمپ پریہی نقشہ موجودتھا،جب یہ نقشہ اس وقت موجودتھاتوکیاضرورت پڑی کہ اس نقشےکوبیچ میں تبدیل کردیاجائے؟۔سینیٹرمیاں  رضاربانی نےکہاکہ اپوزیشن کواعتمادمیں نہیں لیاگیا،قومی اتفاق رائےاس طرح بلڈنہیں کیاجاتا،پاکستان کےاندرآپ اتنابڑاقدم اٹھانےجارہےہیں،آپ نےکابینہ کا فورم استعمال کیا،وزیراعظم یہاں سینیٹ میں آکر اعلان کرتاکہ یہ پاکستان کانیانقشہ ہوگا۔سینیٹر میاں رضاربانی نےکہاکہ پاکستان کواپنی ممبرشپ او آئی سی سےایک وقت کےلئےبطوراحتجاج معطل کرنی چاہیے،اقوام متحدہ  صرف بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اور امریکی سامراج کے اشاروں پر چلنے والا ہے،خطے کےاندرصورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے،ایران اورچین کےمعاہدے کاخطےپرکیااثر پڑے گا، وزیر خارجہ یہاں آئے اور اس ایشو پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے۔سینیٹر عثمان خان کاکڑنے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 73سال سےکشمیریوں کی  نسل کشی ہو رہی ہے ،موجودہ حکومت کے دور میں کشمیر کا سودا ہو چکا ہے، اپوزیشن کشمیریوں سے نہیں موجودہ  حکومت سے یکجہتی کر رہی ہے، کشمیر کی  ایک ایک انچ  زمین کشمیریوں کی ہے، ہر مسئلے پر  پارلیمنٹ میں بحث کرنی  کرنی چاہیئے۔

مزید :

قومی -