تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر،پاکستان نے بھارت کا مکروہ چہرہ پھر بے نقاب  کردیا 

 تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر،پاکستان نے بھارت کا مکروہ چہرہ ...
 تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر،پاکستان نے بھارت کا مکروہ چہرہ پھر بے نقاب  کردیا 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان نےبھارت میں  تاریخی بابری مسجدکی جگہ رام مندرتعمیرکرنےکی ایک بارپھرشدید مذمت  کرتےہوئےکہاہےکہ بھارتی سپریم کورٹ کے خامیوں وسقم سے بھرے فیصلے سے اس مندر کی تعمیر کی راہ ہموار ہوئی جو انصاف پر عقائد کے غالب ہونے کی واضح عکاسی ہے،یہ بھارت کے اندر اکثریت کی بڑھتی ہوئی مطلق العنانیت کا بھی کھلا اظہار ہے،تاریخی مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر آنے والے وقت میں نام نہاد بھارتی جمہوریت کے چہرے پر سیاہ دھبہ بن کر برقرار رہے گی،عالمی برادری، اقوام متحدہ اور تمام متعلقہ عالمی تنظیموں کو بھارت میں ہندتواحکومت سے اسلامی ورثہ اور تاریخی مقامات اور بھارت میں بسنے والی اقلیتوں اوران کے مذہبی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

نجی ٹی وی کے مطابق اپنے ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ پاکستان پانچ صدی قدیم تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کی ایک بار پھر شدید مذمت کرتا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے خامیوں وسقم سے بھرے فیصلے سے اس مندر کی تعمیر کی راہ ہموار ہوئی جو انصاف پر عقائد کے غالب ہونے کی واضح عکاسی ہے،یہ بھارت کے اندر اکثریت کی بڑھتی ہوئی مطلق العنانیت کا بھی کھلا اظہار ہے جس میں اقلیتوں بالخصوص مسلمان اور ان کی عبادت گاہیں مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ترجمان نے کہاکہ تاریخی مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر آنے والے وقت میں نام نہاد بھارتی جمہوریت کے چہرے پر سیاہ دھبہ بن کر برقرار رہے گی،بی جےپی اور اس کےانتہاپسندوں کی جانب سے1992میں مسجدشہید کرنےکےدردناک مناظردنیا بھر میں مسلمانوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ اس وقت سے او آئی سی نے کئی صدیاں قدیم مسجد شہید کرنے کے بہیمانہ اقدام کی مذمت میں کئی قراردادیں منظور کی ہیں۔

مسلمانوں کی آنے والی نسلیں یہ یاد رکھیں گی کہ یہ غیرقانونی ڈھانچہ ہندتوا پر کاربند بی جےپی کی مہم کے نتیجے میں قائم ہوا تھا جو اپنے اس ایجنڈے کی تکمیل کے لئے اسے تعمیر کررہی ہے کہ بھارت کو ہندو راشٹرا میں تبدیل کیاجائے، ایودیہا میں آج کا واقعہ اس سمت میں ان کی بڑھنے کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وباکے دوران بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر میں انتہائی عجلت کا مظاہرہ، مسلمانوں کے خلاف شہریت ترمیمی ایکٹ (سی۔اے۔اے) مسلمانوں کو شناخت سے محروم کرنے کے لئے نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنز (این۔آر۔سی)کاعمل، رواں سال کے شروع میں ریاستی سرپرستی میں دہلی میں مسلمانوں کا دانستہ قتل عام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے دیگر اقدامات اس طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی منظم انداز میں پامالیاں اور مقبوضہ خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا بی۔جے۔پی کا مذموم ایجنڈا بھارت میں بڑھتے ہوئے فساد اور انتہاپسند نظریہ کی بڑھتی ہوئی لہر کی عکاسی ہے جس سے بھارت میں مذہبی ہم آہنگی اور علاقائی امن کو خطرات لاحق ہیں۔ آر۔ایس۔ایس، بی۔جے۔پی کے میلاپ کے نتیجے میں منظم حکمت عملی کے تحت بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے اور ان کی عبادت گاہوں کو منہدم کیاجارہا ہے خواہ یہ 2002 میں گجرات یا پھر 2020 میں دہلی میں مسلمانوں کا قتل عام ہو۔ ہندوانتہاپسندوں کے مساجد پر حملے کورونا وبا کے دوران بھی جاری رہے۔نہ صرف مسلمانوں کو کورونا وبا کے پھیلاو کا موردالزام ٹھہرا کربدنام کیاگیا بلکہ بی۔جے۔پی،آر۔ایس۔ایس انتہاپسند ان کی مذہبی آزادیوں پر بھی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جو اقلیتوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کا سلوک کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان بھارتی حکومت پر زوردیتا ہے کہ تمام اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی جان ومال اور ان کی عبادت گاہوں، اسلامی مقامات کا تحفظ یقینی بنائے جن پر ہندو انتہاپسند اپنے دعوے کررہے ہیں۔  ترجما ن نے کہاکہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور تمام متعلقہ عالمی تنظیموں کو بھارت میں ہندتوا حکومت سے اسلامی ورثہ اور تاریخی مقامات اور بھارت میں بسنے والی اقلیتوں اوران کے مذہبی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔  

مزید :

قومی -