جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کابھارت سے شدید احتجاج، بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

 جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کابھارت سے شدید احتجاج، بھارتی ناظم ...
 جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کابھارت سے شدید احتجاج، بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نےایل اوسی  پرجنگ بندی کی خلاف ورزیوں پربھارتی ناظم الامورکودفتر خارجہ طلب کرتےہوئےبھارت سے شدید احتجاج کیااوربھارتی فوج کی جانب سے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتےہوئے زوردیا گیا کہ بے حسی پر مبنی بھارتی اقدامات نہ صرف 2003 کے جنگ بندی معاہدے بلکہ عالمی انسانی حقوق اور عالمی اقدارکی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، ان واقعات سے خطے میں پہلے سے کشیدہ ماحول مزید خراب ہوگا ، بھارت 2003 کے جنگ بندی سمجھوتے کا احترام کرے، حالیہ اور اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کی دانستہ خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرائے، ایل اوسی  اور ورکنگ باونڈری پر امن قائم کرے۔یہ بھی زوردیاگیا کہ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تفویض کردہ کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔  بدھ کو ڈائریکٹرجنرل (جنوبی ایشیاوسارک)زاہد حفیظ چوہدری نے بھارتی ناظم الامور گوراو اہلووالیا کو آج دفتر خارجہ طلب کیا اور 4 اگست 2020 کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر قابض بھارتی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایک بے گناہ شہری کی شہادت اور چھے کے زخمی ہونے پر پاکستان کی طرف سے شدید احتجاج کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی فوج کی بلااشتعال اور بلاامتیاز فائرنگ کے نتیجے میں ایل۔او۔سی کے تتہ پانی سیکٹرمیں 18 سالہ انیلہ دختر عبدالکریم سکنہ گاوں فتح پور شہید ہوگئیں جبکہ 22 سالہ عبدالنعیم ولد عبدالکریم، 18 سالہ سدرہ دختر عبدالکریم اور 40 سالہ شمیم اختر زوجہ عبدالکریم سکنہ گاوں فتح پور زخمی ہوگئیں۔ قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے گاوں تہی کے رہائشی 12 سالہ عاطقہ شبیر دختر محمد شبیر، 14 سالہ ثنادختر محمد شبیر اور 28 سالہ ذوالفقار شریف ولد محمد شریف بھی شدید زخمی ہوگئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق  بھارتی قابض فوج ایل۔ او۔ سی اور ورکنگ۔باونڈری پر بھاری اور خودکارہتھیاروں اور گولہ باری سے مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنارہی ہے۔رواں سال بھارت نے جنگ بندی کی 1877 خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا جس کے نتیجے میں 15 بے گناہ شہری شہید اور 144 زخمی ہوگئے۔

انہوں نے کہاکہ بھارتی فوج کی جانب سے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے زوردیا گیا کہ بے حسی پر مبنی بھارتی اقدامات نہ صرف 2003 کے جنگ بندی معاہدے بلکہ عالمی انسانی حقوق اور عالمی اقدارکی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ ان واقعات سے خطے میں پہلے سے کشیدہ ماحول مزید خراب ہوگا۔ ایل۔ او۔ سی اور ورکنگ۔باونڈری پر کشیدگی میں اضافہ کرکے بھارت اپنے غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بدتر ہوتی صورتحال سے توجہ نہیں ہٹا سکتا۔بھارتی حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ اس کی غیرذمہ دارانہ پالیسیاں اور یک طرفہ اقدامات خطے کے امن وسلامتی کے لئے خطرات میں اضافہ کا باعث ہیں،خطے کے امن وسلامتی کے مفاد میں بھارت ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کرے۔

ترجمان کے مطابق احتجاج  کے دوران بھارت پر زوردیا گیا کہ 2003 کے جنگ بندی سمجھوتے کا احترام کرے، حالیہ اور اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کی دانستہ خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرائے، ایل اوسی  اور ورکنگ باونڈری پر امن قائم کرے۔یہ بھی زوردیاگیا کہ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تفویض کردہ کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔ 

مزید :

قومی -