حکومت نے بہت وقت ضائع کردیا اب اسے مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیےکیونکہ۔۔۔سراج الحق نے ایسی بات کہہ دی کہ وزیراعظم عمران خان کی پریشانی کی کوئی حد نہ رہے گی

 حکومت نے بہت وقت ضائع کردیا اب اسے مزید وقت ضائع نہیں کرنا ...
 حکومت نے بہت وقت ضائع کردیا اب اسے مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیےکیونکہ۔۔۔سراج الحق نے ایسی بات کہہ دی کہ وزیراعظم عمران خان کی پریشانی کی کوئی حد نہ رہے گی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نےحکومت سے مطالبہ کیاہے کہ اس سال کشمیر کے یک نکاتی ایجنڈے پر اوآئی سی کااجلاس اسلام آبادمیں بلایا جائے،حکومت نے بہت وقت ضائع کردیا، اب اسے مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے پاس اب زیادہ وقت نہیں رہا،ایک منٹ کی خاموشی نہیں،خاموشی کو توڑادو اور دنیا کو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کیا جائے،جب تک آپ دشمن کو دوست سمجھتے رہیں گے ، نقصان اٹھائیں گے، حکومت جہاد کا اعلان کرے ، قرار دادیں کوئی راستہ نہیں ، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سینکڑوں قرار دادیں پاس کر چکی ہے،کشمیر ہائی وے کے نام کو بحال کیا جائے ،سری نگر ہائی وے نام رکھنا ہے تو کسی دوسری سڑک کا رکھ لیں کشمیریوں نے اس کو مسترد کردیاہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر ڈی چوک میں ہونے والے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئےسینیٹرسراج الحق نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک جاری رہے گی ، 5 اگست2019 ءکے بعد بارہ ماہ سے کشمیر میں ڈبل لاک ڈاؤن اور نسل کشی ہورہی ہے،30 ہزارسے زائد کشمیری نوجوان جیلوں میں ہیں ،کشمیر اس وقت چاروں طرف سے محاصرے اور دنیا کی بڑی جیل کا منظر پیش کر رہاہے،کشمیر کو جیل خانہ بنانے میں پاکستان کے حکمرانوں کا بھی ہاتھ ہے،بھارت کو ایل او سی پر باڑ لگانے کی اجازت پرویز مشرف نے دی ،امریکہ میں ایک سیاہ فام پولیس کے ہاتھوں قتل ہوتاہے تو پورا امریکہ اٹھ کھڑا ہوتاہے مگر کشمیر میں ہرروز قتل عام کے باوجود کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، اسلام آباد سنگ مرمر کا قبرستان بن چکاہے یہاں بڑے بڑے لوگ رہتے ہیں مگر یہ انتہائی چھوٹے اور غیر سنجیدہ لوگ ہیں ،آٹھ ماہ تک کشمیر کمیٹی کا کوئی چیئرمین نہیں تھا،پہلے فخر امام کو کمیٹی کا چیئرمین بنایا اور جب انہوں نے کام شروع کیا تو ان کو بدل دیا،آج تک پاکستانی حکمرانوں کی ایک ہی پالیسی رہی ہے یہ بڑے بڑے نعرے لگاتے ہیں اور پھر ہر بات اور وعدے کو بھول جاتے ہیں،عمران خان نے اقوام متحدہ میں تقریر کرنے کے بعد واپس آ کر جنرل گریسی کی پالیسی پر چلتے ہوئے اعلان کیا کہ جو کشمیر کی طرف جائے گا وہ پاکستان کا غدار ہوگا، حکومت جو اچھل کود کر رہی ہے یہ کشمیر کی آزادی کے لیے نہیں بلکہ قوم کو دھوکہ دینے کے لیے ہے،ان حکمرانوں کے آنے کے بعد معیشت تباہ اور معاشی نظام درہم برہم ہوگیاہے یہ کہتے ہیں کہ معیشت مضبوط ہوگی تو کشمیر آزاد ہوگا،افغان قوم نے چالیس ممالک کی افواج نیٹو اور امریکی فوج کو شکست دی اور آخر امریکہ کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑا ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے بھارت سلامتی کونسل کا رکن بنا اور سعودی عرب اور امارات نریندر مودی کو ہا ر پہناتے ہیں ۔ ان حکمرانوں کی صفوں میں کوئی محمود غزنوی ، سلطان ٹیپو اور محمد بن قاسم نہیں آرہا،کشمیر کی آزادی کے لیے غیرت مند قیادت کی ضرورت ہے یہ حکومت گالی گلوچ کی سیاست لے کر آئی ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم آزاد کشمیر آج وزیراعظم پاکستان کے سامنے رو پڑے کہ ہم کب تک اپنے معصوم بچوں کی لاشوں کا تماشا دیکھتے رہیں گے اور اپنے جوانوں کے لاشے اٹھاتے رہیں گے،صدر آزاد کشمیر پاکستانی حکمرانوں کے رویے سے مایوس ہیں،اسلام آباد کے ٹھنڈے دفاتر اور بنگلوں میں بیٹھ کر حکمرانی کرنے والوں کے لیے چار سالہ معصوم بچے اور اس کے نانا کی تصویر کافی تھی، اگر ان کے دل میں کشمیریوں کا درد ہوتا تو حکمرانوں کی غیرت اور ایمان کو جگانے کے لیے کافی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری پاکستان کی محبت اور آزادی کے لیے اپنی جانیں اور عصمتیں قربان کر رہے ہیں ،ماؤں کے سامنے ان کے جگر گوشوں اور نوجوان بیٹوں اور بھائیوں کے سامنے ان کی ماؤں اور بہنوں کی عصمت دری کی گئی،معصوم بچے دودھ نہ ملنے کی وجہ سے روتے اور بلکتے ہیں،مودی نے ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا مودی نے بابری مسجد کو رام مندر تعمیر کرنے اور کشمیر کو بھارت کاحصہ بنانے کے دو وعدے پورے کردیے اور اب وہ آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کی باتیں کر رہاہے۔

مزید :

قومی -