کشمیر: جنرل ضیاء الحق جیسے حکمت کار کی ضرورت 

کشمیر: جنرل ضیاء الحق جیسے حکمت کار کی ضرورت 
کشمیر: جنرل ضیاء الحق جیسے حکمت کار کی ضرورت 

  

 پانچ اگست2019 سے پانچ اگست2021 تک گزرنے والے سات سو اکتیس ایام محض سورج طلوع ہونے اور رات کی تاریکی چھا جانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایام اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے پہلے دو سالوں کے بدترین دن ہیں کہ بھارت جس نے ظلم اور جبر روا رکھا ہوا تھا پانچ اگست کے اقدام کے ساتھ وہ کشمیری عوام کے لیے شیطان رجیم بن کر سامنے آیا، اس کے دل میں کشمیری عوام کے لیے جو کھوٹ تھا وہ سب عیاں ہوگیا، بھارت کے اس اقدام نے کشمیر میں خون ریزی کے سوا کچھ نہیں دیا بھارت کی بد اعمالی اور کج فکری نے کشمیر میں بھیانک حالات پیدا کر رکھے ہیں وہ یہاں نئے قانون لاکر ہندو ریاست بنانے پر تلا ہوا ہے مگر اس کے مضحکہ خیز اقدامات کشمیری شہداء کی قربانیوں کے باعث منہ کے بل گریں گے اور بھارت کو ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا اللہ تعالی کے ابدی اور سدا بہار اصول ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ اللہ بھی مکاروں کے خلاف اپنی چال چلتا ہے اور اللہ کا حکم ہی غالب آکر رہے گا، وہ وقت دور نہیں جو کشمیری عوام کی آزمائش ختم ہوجائے گی اور سری نگر میں حق کا پرچم بلند ہوگا، ہم سمجھتے ہیں اور اس خطہ کے حالات و واقعات بھی ہمیں اس بات کی آگاہی دے رہے ہیں کہ آج ہمیں ضیاء الحق شہید جیسے جری بہادر، بہترین حکمت کار اور محب اسلام رہنماء کی ضرورت ہے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو گزشتہ ایک صدی سے کشمیریوں پر مشق ستم جاری ہے لیکن آرٹیکل 370اور 35۔اے کے خاتمے کے بعد سے حالات ابتر ہوچکے ہیں۔ایک ایک پل اہلِ کشمیر کے لیے صدیوں پر بھاری ہے۔

ہزاروں فوجی اہلکار ہر وقت گلیوں میں گشت کرتے رہتے ہیں اور علاقے میں کسی بھی قسم کے احتجاج یا اجتماع کی بھنک پڑنے پر فوری کارروائی کاآغاز کر دیتے ہیں۔یہ کارروائی کیا ہوتی ہے؟ نہتے کشمیریوں کو خاک و خون میں نہلا دیا جاتاہے۔ حوازادیوں کی عصمتوں کے آبگینے پاراپارا کیے جاتے ہیں۔ حریت پسندوں کو قید و بند کی صعوبتوں سے گزارنے کے ساتھ ساتھ ان پر قہروہولناکی کے آتش فشاں برسائے جاتے ہیں۔وہاں قائم کیے گئے عقوبت خانے ہٹلر اور چنگیز خان کے مظالم کو شرما رہے ہیں۔ زندہ انسانوں کو شکنجوں میں کس کر ان کا بند بند ہتھوڑوں سے توڑا جاتا ہے۔ناخن کھینچے جاتے ہیں، سروں اور داڑھیوں کے بال نوچے جاتے ہیں۔آج کشمیر وقت کی نوک قلم سے ٹپکنے والا لہو رنگ سوالیہ نشان ہے۔ بلاشبہ یہ کرہ ارض پر عصر ِ حاضر کا سب سے بڑاالمیہ ہے۔جہاں ایک طرف بھارتی سامراج کے ظلم و تشدد کا آتش فشاں دہکا ہوا ہے وہیں اہلِ کشمیر کا جذبہ بھی لائقِ دید ہے۔ وہ جرات و ہمت کی نئی داستانیں رقم کرنے کے لیے میدان ِ عمل میں نکل آئے ہیں۔آج کشمیر میں ہر گھر مورچہ ہے تو ہر گلی میدان ِ جنگ۔ کشمیر کے ہر گھر میں شہیدوں کے لہو سے چراغاں کیا جا رہاہے۔اہلِ کشمیر کسی بھی قسم کی بیرونی امداد کے بغیر اپنی جنگ خود لڑ رہے ہیں۔ ان کے ارادے عظیم ہیں اور حوصلے فراخ۔وہ اپنے ہی لہو میں ڈوب کر آزادی کشمیر کا پرچم لہرا رہے ہیں، ہم یہ بھی سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ پانچ اگست 2019 کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن تھا جب بھارت کی مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے ایک نئے باب کا آغاز کیا.

بھارت کی تمام سابق حکومتوں نے اپنے آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 370 کے تحت کشمیر کی متنازع حیثیت کو کبھی نہیں چھیڑا تھا  اگرچہ ان کے دور میں بھی مقبوضہ کشمیر میں فوج، پولیس اور دیگر نوعیت کے مختلف اداروں کے ظلم و ستم جاری رہے، لیکن کشمیر کی حیثیت کبھی تبدیل نہیں کی گئی۔مگر 2019 میں نریندر مودی کی حکومت نے وزیر داخلہ امیت شاہ کی سرکردگی میں یہ تار بھی چھیڑ دیا اور 5 اگست 2019 کو 80 لاکھ سے زائد آبادی کا یہ خطہ متنازعہ طور پر تقسیم کر دیا گیابھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں کشمیر میں کرفیو نافذ کیا اور لاک ڈاؤن کے ذریعے موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی، یہ صورت حال آج تک جاری ہے، کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر کے کشمیر تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا۔بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے لیے آرڈیننس پر دستخط کر دیئے۔اور یوں آرٹیکل 370 کو ختم کرکے دستوری حکم 2019 نافذ کر دیا گیا، ہمیں علم ہے کہ بھارت کے 2019 کے عام انتخابات کے دوران نریندر مودی اور بی جے پی نے اپنے منشور میں کہا تھا کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے بعدمقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے قانون سازی کرکے اسے بھارت کا حصہ بنائے گی جبکہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دے گی، اس کا منشور اقوام متحدہ اور انصاف پسند عالمی تنظیموں کو دیکھنا چاہیے تھا مگر انہوں نے آنکھیں بند کیے رکھیں،

بھارت نے صرف آرٹیکل میں ترمیم پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ پانچ اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر میں ہنگامی حالت نافذ کرکے سید علی گیلانی،میر واعظ عمر فاروق،اور دوسرے تمام دیگر سیاسی قائدین کو گرفتار کر لیا  یا نظر بند کر دیا، اس دن سے کر آج تک مقبوضہ کشمیر میں ظلم اور بربریت جاری ہے، جعلی مقابلوں میں نوجواں شہید کیے جارہے ہیں، بھارت ان اقدامات کے نتیجے میں آگے ہی بڑھ رہا ہے اس نے آرٹیکل 370 کو باقاعدہ ختم کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کو دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کیا۔31 اکتوبر کو جموں کشمیر اور لداخ کو جغرافیائی طور پر باقاعدہ تقسیم کر دیا گیا اور لداخ براہ راست وفاقی حکومت کے زیر انتظام چلا گیا۔1947 سے قائم ریڈیو کشمیر سرینگر کا نام بھی تبدیل کرکے نیا نام آل انڈیا ریڈیو سرینگر رکھ دیا گیا. چین نے بھارتی اقدام کو مسترد کردیا۔ بھارت کے جاری نقشوں میں جموں و کشمیر اور لداخ میں کچھ حصہ چین کا بھی شامل تھا۔چین نے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا، یہی وجہ ہے اسی سال 10 دسمبر 2019 کو دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے انسانی حقوق کا عالمی دن یوم سیاہ کے طور پر منایا۔۔ مکمل شٹرڈاؤن کیا گیا۔10 دسمبر 2019 کو جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1989 سے لے کر 10 دسمبر 2019 تک مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی میں 95000 سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔

جبکہ 4 ہزار کشمیری دوران حراست شہید ہوئے۔31 دسمبر کو مقبوضہ جموں کشمیر میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے 4 مقامی رہنماؤں کو وادی کے دورے سے قبل نظر بند کر دیا گیا 2019 میں بھارتی فوج نے 210 سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا۔ان میں 3 خواتین اور 9 بچے بھی شامل ہیں، اگلے سال بھارت نے دنیا کو دھوکہ دینے کی کوشش کی اور سفیروں سے کہا کہ وہ وادی کا دورہ کریں مگر 8 جنوری کو یورپی ممالک کے سفیروں نے حکومت کی سربراہی میں مقبوضہ کشمیر کے دورے کی دعوت مسترد کر دی۔15 جنوری کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور یہ بات تسلیم کی گئی کہ گزشتہ کئی سالوں سے بھارتی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایسے پیلٹ گنزاستعمال کیے ہیں جس کے کارتوس میں ایک وقت میں تین سو سے چھ سو چھرے داخل کیے جا سکتے ہیں۔26 جنوری 2020 کو مقبوضہ کشمیر لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف سے دنیا بھر میں موجود کشمیریوں نے بھارت کے 71ویں یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا جنوری میں یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قانون سازی کو عالمی قوانین کے خلاف قرار دیااورایک قرارداد میں رائے شماری کا فیصلہ کیا گیا جنوری 2020 صرف ایک ماہ میں بھارتی فورسز نے 21 کشمیریوں کو شہید کیا، اور اس دوران رمضان المبارک کا بھی لحاظ نہیں رکھا گیا،جون 2020.

میں صورت حال یہ تھی کہ ایک طرف تو کرونا دوسری طرف بھارتی ظلم و ستم عروج پر تھاجون ہی میں  ایک ایسا دن بھی آیا جب جنازوں پر بھی پابندی عائد کی گئی آج دو سال ہونے کو ہیں مقبوضہ کشمیر کے تمام اضلاع کھلی جیل کا منظر پیش کر رہے ہیں ان سالوں کے دوارن مقامی معیشت کو 80 ہزار کروڑ کا نقصان ہوچکا ہے گزشتہ سال جولائی میں ہی مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ایک کمیشن نے رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ کشمیر میں لاک ڈاؤں بھارتی جمہوریت کے لیے ایک امتحان ثابت ہو رہا ہے۔یہ رپورٹ حکومتی اعداد و شمار،صنعتی انجمنوں، اور کئی غیر سرکاری اداروں کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات پر مبنی ہے،اس کمیشن میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن لوکور،ریٹائرڈ میجر جنرل اشوک کمار مہتا،سابق جج اجیت پرکاش شاہ،سابق جسٹس حسنین مسعودی،سابق ایئر وائس مارشل کپِل کاک،معروف مورخ رام چندر گوہا،سابق سیکرٹری خارجہ نروپما راو،سابق سیکرٹری جنرل ایچ ایس پناگ،اور معروف دانشور رادھا کمار سمیت 21 ارکان  پر مشتمل ٹیم نے تیار کی تھی پانچ اگست 2019 سے لے کر 5 اگست 2021 ظلم و ستم  کے دوسال مکمل ہوئے ہیں مگر عالمی برادری ابھی تک مدہوش ہے بھارت کو ظلم و ستم سے روک نہیں رہی۔بھارت کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ آزادی کی تحریک تشدد سے ختم نہیں کی جا سکتی۔ایک وقت آئے گا جب مقبوضہ کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔اور ظلم و ستم کا باب بند ہوگا

مزید :

رائے -کالم -