بغیر وردی کے ہیرو

بغیر وردی کے ہیرو
بغیر وردی کے ہیرو

  

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج کے وردی پہنے جوان ہمیشہ سے ہمارے ہیرو ہیں،، میریا ڈھول سپاہیا  تینوں رب دیاں رکھاں  اور میرا ماہی چھیل چھبیلا اے کرنیل نیں جرنیل نیں،، کے نغمے ان کے لئے آج بھی ہماری آواز ہیں اور وہ اس کے حقدار بھی ہیں،سینوں پر گولی کھانا اور شہادت حاصل کرنا ایک عظیم کام ہے، دہشت گردی کی جنگ میں ہماری پولیس اور دوسری ایسی ہی سروسز کے لوگ بھی اب ہیروز کا درجہ پاچکے ہیں، مگر سول اداروں کے وہ لوگ بھی ہیروز سے کم نہیں، جنہوں نے وبائی دور میں مردانہ وار کام کیا، کرونا کی وبا میں ہمارے ڈاکٹرز اور نرسز بھی کمال جرات اور حوصلے سے کام کر رہے ہیں،میں ان سب کو بغیر وردی کے ہیروز کہتا ہوں۔ 

کام ہو تو دکھائی دیتا ہے دعوے کرنا پڑتے ہیں نہ شوراور واویلا،لمبی چوڑی پریس کانفرنس کی ضرورت ہوتی ہے نہ کاسہ لیسوں کے توصیفی بیانات کی حاجت رہتی ہے، نتائج دینے کیلئے مخلص، محنتی،تجربہ کارفرض شناس ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے،جس حکومت نے ایسی ٹیم جتنی جلد تیار کر لی وہ اتنی ہی جلدی نتائج دینے کی پوزیشن میں آجاتی ہے،ا س ٹیم سپرٹ کا مظاہرہ حالیہ بارشوں اورعیدقربان پر صفائی کی کامیاب مہم کے دوران دیکھنے میں آیا،وزیراعلیٰ عثمان بزدار اکیلے ہی شہر کے دورہ پر نکلے اور قربانی کے جانوروں کی آلائشیں ٹھکانے لگانے کی مہم کا جائزہ لیا،بارشوں کے دنوں میں بھی عثمان بزدار سڑکوں پر گھوم پھر کے نکاسی آب مہم کا جائزہ لیتے رہے،یہ سب کامیابی صرف اچھی ٹیم کو ساتھ لے کر چلنے کی وجہ سے ملی،یہ ساراکام بہت پہلے ہو جاتا تو آ ج نتائج بالکل مختلف ہوتے اور مخالفین کو شائد اعتراضات یا تنقید کاموقع ہی نہ ملتا لیکن دیر آید درست آید، عید قربان کے موقع پر اچھی کار کردگی دکھانے والے افسروں کو ایک پر وقار تقریب میں تعریفی اسنادبھی پیش کی گئیں۔

عید کے موقع پر صفائی کے حوالے سے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی کارکردگی قابل ستائش رہی۔ بہاولپور دوسرے اورسیالکوٹ تیسرے نمبر پر ہے، بلدیاتی اداروں کی کار کردگی بھی بہتر رہی،گجرات بلدیہ اس حوالے سے پہلے اور اوکاڑہ دوسرے نمبر پر ہے، شائد یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ کارکردگی کی درجہ بندی کی گئی جو افسروں اورملازمین کی دلجوئی کا باعث ثابت ہوئی،تحریک انصاف کی صوبائی،مقامی قیادت بھی اس مہم میں پیش پیش رہی مجھے تحریک انصاف پنجاب کے صدر سینیٹر اعجاز چودھری بھی اب ہر کام میں آگے آگے نظر آتے ہیں،وزیراعلیٰ نے اچھی کارکردگی دکھانے والے افسروں سے کہا کہ اب ہر دن کارکردگی دکھانا ہو گی،عوامی خدمت کرنے والے افسروں کی بھر پور حوصلہ افزائی کی جائیگی، سرکاری افسروں نے عوام کے دل جیت لئے، عوامی خدمت ڈیوٹی کم اور عبادت زیادہ ہے، اس لئے یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے،عید کے تین ایام میں سوا دو لاکھ ٹن آلائشیں اٹھائی گئیں جوایک بڑا کام تھا، اس طرح عوام کو گندگی،تعفن اور بیماریوں سے بچایاگیا ٹریفک کی روانی بھی متاثر نہیں ہونے دی گئی۔

وزیراعلیٰ نے ایک تقریب میں بہترین کارکردگی کے حامل افسروں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نور الامین مینگل، کمشنر ملتان، بہاولپور اور لاہور کو تعریفی اسناد دیں،لاہور ویسٹ مینجمنٹ کی سی ای او رافعہ حیدر، سیالکوٹ، بہاولپور کی کمپنیوں کے افسروں میں بھی سرٹیفکیٹ تقسیم کئے گئے،کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی سربراہ کوثر خان،لوکل بورڈکی یکرٹری سائرہ عمر،گجرات، اوکاڑہ،سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنروں کی کارکردگی کوبھی تسلیم کیاگیا،اوکاڑہ،گجرات، بوریوالہ کے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن کو بھی تعریفی اسناد دی گئیں۔ سرکاری افسروں کوان کا حقیقی مقام و مرتبہ دیا جا رہا ہے،ذاتی ملازموں کی طرح گھر نہیں بلایا جاتا،اور گھنٹوں گھر میں بلا وجہ انتظار نہیں کرایاجاتا،آج افسروں کو عزت بھی ملتی ہے اور ستائش و توصیف بھی،ایسے ہی ماحول میں کار کردگی دکھائی جا سکتی ہے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزداراکیلے ہی صورتحال کا جائزہ لیکر موقع پراحکامات صادرکرتے رہے، مانیٹرنگ روم میں بھی افسر لمحہ لمحہ صورتحال کا جائزہ لیتے رہے،نتیجے میں ہنگامی صورت حال پیدا نہیں ہوئی،ٹریفک کی روانی متاثر نہیں ہوئی،بارشی پانی کی فوری نکاسی کی وجہ سے چھتیں دیواریں گرنے کے واقعات میں بھی کمی آئی جس کے باعث جانی اور مالی نقصان بھی کم ہوا،یہ بھی یوں ممکن ہوا کہ بیوروکریسی کو عزت و احترام دیا گیا اور ان پراعتمادکیا گیا،اگر معاملات ایسے چلتے رہے تو تحریک انصاف حکومت باقی ماندہ مدت میں انتخابی مہم میں کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد یقینی بنا سکے گی، بیورو کریسی اورسرکاری مشینر ی کو یونہی حکومت کا چہرہ نہیں کہا جاتا،حکومتی فیصلوں،اقدامات اور پالیسیوں کو عملی طور پر نافذ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن اگر کسی سے اصل کام لے کر اسے وہ کام دے دیا جائے جو دراصل اسکا ہے ہی نہیں تو کوے کو ہنس کی چال چلانے کے مترادف ہو گا اورایسی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوتی،وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے اپنی انتظامی ٹیم بنانے میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے،اب مقننہ اورانتظامیہ کی ٹیم مل کر بحرانوں سے نبٹنے کے قابل ہو گئی ہے تو مسائل کے جلد حل ہونے کی توقع بھی کی جاسکتی ہے۔

پچھلے دنوں لاہور میں ہونے والی بارشوں اور کرونا کی ماسک آگاہی مہم میں ڈپٹی کمشنر لاہور  مدثر ریاض ملک کے کردار کی بھی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے،وہ بارش کے دوران لاہور کے ایسے علاقوں میں خود کام کرتے پائے گئے جہاں اکثر پانی جمع ہو کر لوگوں کی پریشانی کا سبب بنتا ہے،انکی اسسٹنٹ کمشنروں کی ٹیم بھی مثالی کام کر رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -