چوبارہ، پرندوں کا قتل عام، سوشل میڈیا پر4سالہ پرانی تصاویر وائرل

چوبارہ، پرندوں کا قتل عام، سوشل میڈیا پر4سالہ پرانی تصاویر وائرل

  

 چوبارہ(نمائندہ پاکستان)  معصوم پرندوں کا قتل عام کا ڈراپ سین، سوشل میڈیا پر4سالہ پرانی تصاویر وائرل، محکمہ انکوائر ی (بقیہ نمبر37صفحہ7پر)

میں جھوٹ کا پلندہ نکلیں، پرانی تصاویر ذاتی رنجش پر پوسٹ کی گئیں، منیر احمد تفصیل کے مطابق گزشتہ روز منیر احمدوائلڈ لائف شوٹر نے اپنے بھائی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ چوک اعظم کے گیم ایریا کے حوالے سے سوشل میڈیا پر معصوم پرندوں کے شکار کی تصاویر وائرل ہوئیں جس پرسعد اللہ لغاری ڈسٹرکٹ آفیسر،تحصیل انسپکٹر وائلڈلائف اسماعیل نے انکوائری کی تو تصاویرچار سالہ پرانی اور کسی اور علاقہ کی ثابت ہوئی، چند عناصر جن میں امام بخش ولد امیر محمد چک نمبر 339الف کے رہائشی نے شکار کی ا جازت نہ ملنے پر پری پلان منصوبہ تیار کرکے اوچھی حرکت کی۔وائلڈ لائف شوٹر نے کہا کہ ہرسال کے گیارویں ماہ سے لیکر دوسرے سال کی 15تاریخ تک اتوا ر کے روز محکمانہ طورپر شکار کھیلنے کی لائسنس ہولڈرز کو اجازت ہوتی ہے اور مخصوص ایریا اوپن کردیا جاتا ہے جہاں وہ 6تیتر کا شکار کرسکتے ہیں شوٹر ہولڈر نے بتایا کہ ہم باضابطہ محکمانہ اجازت نامے سے سالانہ فیس ادا کرتے ہیں اور پھر جاکر شکار کرتے ہیں۔چند بلیک میلر اور ذاتی رنجش کی بنا پر جنہیں شکار کرنے کی اجازت نہیں ملتی جھوٹا واویلا منفی پراپگینڈ کرکے لائسنس یافتہ وائلڈ لائف شوٹر ز کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔انکوائری آفیسر نے موقف میں کہا کہ مزید تحقیقات جاری ہیں کہ ان عناصر کے پیچھے کون ہے اور ان کے مقاصد کیا ہیں۔ حقائق سے جلد پردہ اٹھ جائیگا۔ متاثرین نے کہا ہمارے خلاف جو منفی پراپیگنڈ ہ کیا گیا ہے سائبر کرائم اور قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں۔ہمارا محکمہ وائلڈ لائف کے اعلی آفیسران سے مطالبہ ہے غلط افواہیں پھیلانے والوں کو قانونی شکنجے میں لاکر محکمانہ کاروائی کی جائے۔

وائرل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -