لشکر گاہ اور ہرات میں گھمسان کی جنگ، سڑکوں پر لاشوں کے ڈھیر، طالبان کو دوبارہ ”بین الاقوامی اچھوت“ بنایا جا سکتا ہے: امریکی وزارت خارجہ 

لشکر گاہ اور ہرات میں گھمسان کی جنگ، سڑکوں پر لاشوں کے ڈھیر، طالبان کو ...

  

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ طالبان جنگجوں اور افغان فرسز کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں لشکرگاہ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں لاشوں کے ڈھیرلگ گئے۔خونریز لڑائی کے بعد لشکرگاہ کی سڑکوں پر لاشیں بکھری پڑی ہیں، تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا وہ عام شہریوں کی ہیں یا افغان فوجیوں کی لاشیں  شہر کے کئی حصوں پر طالبان نے قبضہ کرکے افغان فوجیوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔لشکر گاہ میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد محفوظ مقامات کی جانب نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی اور دیگر بین الاقوامی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان ملک کے مخلتف حصوں میں لڑائی میں شدت آئی ہے۔اس وقت طالبان افغان صوبے ہلمند، قندھار اور ہرات پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور نینوں صوبائی دارالحکومتوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ تجزہ کاروں کا خیال ہے کہ لشکر گاہ پر قبضہ طالبان کے لیے ایک بہت بڑی علامتی کامیابی ہوگی۔ جنوبی ہلمند صوبے کے شہر لشکر گاہ میں امریکی اور افغان ایئرفورس کے طالبان کے خلاف لگاتار حملے جاری ہیں۔ مگر اس کے باوجود طالبان افغان فورسز پر شدید حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔اگر لشکر گاہ افغان حکومت کے ہاتھ سے نکل گیا تو یہ سنہ 2016 کے بعد طالبان کے کنٹرول میں آنے والا پہلا صوبائی دارالحکومت ہو گا۔اس کے علاوہ افغانستان کے مغربی شہر ہرات اور جنوب میں صوبہ ہلمند کے مرکزی شہر لشکرگاہ میں شدید لڑائی کے بعد طالبان نے دعوی کیا ہے کہ وہ ان بڑے شہروں کے مختلف حصوں پر قابض ہو چکے ہیں۔دوسری جانب افغان سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا کہ کچھ جگہوں پر قبضے کے بعد کل سے طالبان جنگجوؤں کو ان شہروں سے واپس پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔۔مغربی شہر ہرات میں افغان حکام کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شہر کے اندر لڑائی جاری ہے لیکن ان کے مطابق گذشتہ رات سے طالبان کے کئی ٹھکانوں پر فضائی بمباری بھی کی گئی ہے۔حکام کے مطابق ہرات شہر کے مغربی حصے شیوان، دستگر، پشتون پل اور ایئرپورٹ کے راستوں کو طالبان سے چھڑوا لیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی شہر کے داخلی راستوں پر لڑائی تاحال جاری ہے۔ہرات کے گورنر عبدالصبور قانع نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں دعوی کیا کہ شہر کی حفاظت کے لیے افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ عوامی لشکر بھی ہمہ وقت تیار ہیں۔۔ہرات شہر میں طالبان کے خلاف سکیورٹی فورسز کے ساتھ سابق جنگجو کمانڈر اسماعیل خان بھی میدان جنگ میں ہیں۔۔دوسری جانب طالبان ترجمان کا دعوی ہے کہ ان کے جنگجو آج بھی ہرات شہر میں موجود ہیں اور ان کے صرف پانچ جنگجو افغان فورسز کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔طالبان کی جانب سے ہرات اور ہلمند میں افغان فورسز کو بھاری نقصانات پہنچانے کے دعوے کیے گئے ہیں۔دوسری جانب ہلمندزمینی لڑائی بھی جاری ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں ہی محصور ہیں۔طالبان نے ایک ٹی وی سٹیشن کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے اور دیہی علاقوں سے فرار ہونے والے ہزاروں لوگوں نے شہر کی عمارتوں میں پناہ لے لی ہے۔ہلمند کے لیے افغان فورسز کے کمانڈر جنرل سمیع سعادت نے صحافیوں کے ساتھ شیئر کیے گئے آڈیو پیغام میں شہریوں پر زور دیا کہ وہ طالبان کے زیر قبضہ علاقے فوری خالی کر دیں، تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی جاری جھڑپوں کے باعث شہری ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔سمیع سعادت نے اپنے پیغام میں شہریوں سے کہا کہ وہ اپنے گھروں اور اطراف کا علاقہ خالی کر دیں اور اپنے اہلخانہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کر لیں اگر طالبان نے لشکر گاہ پر قبضہ مکمل کر لیا تو یہ ان کی بڑی جیت ہوگی اور یہ کئی سالوں بعدپہلا صوبائی دارالحکومت ہوگا جس پر طالبان نے قبضہ کرینگے۔۔ طالبان نے دعویٰ کیا کہ لشکر گاہ میں سینکڑوں افغان فوجی کے ساتھ آملے ہیں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ لڑائی نے انہیں گھروں میں محصور کر دیا ہے اور وہ اشیائے ضروریہ کے لیے بھی گھر سے باہر نہیں جا پارہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان کے جنگجو سڑکوں پر کھلے عام گھوم رہے ہیں اور کم از کم لشکرگاہ کا ایک ضلع ان کے کنٹرول میں ہے۔حالیہ ماہ میں طالبان نے ملک بھر کے درجنوں اضلاع پر قبضہ کیا جن میں سے بیشتر دور دراز اور دیہی اضلاع ہیں جہاں آبادی نسبتا کم ہے۔۔دیگر دو صوبائی دارالحکومت جن کا طالبان نے گھیرا کر رکھا ہے وہ ہلمند کا پڑوسی صوبہ قندھار اور مغربی صوبہ ہرات ہے۔ہرات کے نام سے ہی صوبائی دارالحکومت میں افغان فورسز نے منگل کو طالبان کو شہر کے کنارے تک پیچھے دھکیل دیا اور شہری ایئرپورٹ دوبارہ کھول دیا گیا۔دوسری طرف افغانستان میں لڑائی کابل تک پہنچ گئی، سفارت خانوں کے گرین زون میں دھماکے اورفائرنگ میں 8 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے، حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی ہے۔پہلا دھماکا قائم مقام وزیر دفاع جنرل بسم اللہ کی رہائش گاہ کے باہر ہوا جس کے بعد مسلح افراد وزیر دفاع کے گھر میں داخل ہوگئے۔ دو گھنٹے کے اندر ایک اور زور دار دھماکہ ہوا۔افغان حکام کے مطابق جوابی کارروائی میں تمام حملہ آور مارے گئے، وزیردفاع بسم اللہ نے کہا کہ حملے میں میرے گھر کے کچھ گارڈز خمی ہوئے۔ترجمان امریکی دفترخارجہ نے کابل دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے بزور طاقت حکومت حاصل کی تو دنیا قبول نہیں کرے گی، امریکا افغانستان میں اپنے اتحادیوں کیساتھ کھڑے ہیں امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زادنے کہا ہے کہ طالبان نے طاقت سے قبضہ کیا تو افغانستان میں لاقانونیت ہو جائے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بیان میں امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے کہا کہ طالبان نے قبضہ کیا تو عالمی برادری انہیں مسترد اور مزاحمت کرے گی، انہیں تسلیم نہیں کرے گی، انہیں عالمی معاونت حاصل نہیں ہو سکے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ طالبان خود بھی کہتے ہیں کہ وہ افغانستان میں لاقانونیت نہیں ہونے دینا چاہتے۔امریکی مندوب کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں دونوں فریقوں نے امن کے موقع کا فوری فائدہ نہیں اٹھایا۔زلمے خلیل زاد کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں دونوں فریقوں کے درمیان گہرے اختلافات ہیں، دونوں فریق ذاتی مفادات پر ملکی مفاد کو ترجیح دیں۔طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز میں گھمسان کی لڑائی، لاشوں کے ڈھیر لگ گئے

افغانستان لڑائی

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) طالبان کیلئے ضروری ہے کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ وہ تشدد کے ذریعے اقتدار حاصل نہیں کرسکتے۔ اگر وہ سیاسی عمل میں شرکت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں فوجی کی بجائے پرامن جمہوری راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ یہ تبصرہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈپرائس نے یہاں ایک پریس بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں کیا۔ کابل میں تازہ بم دھماکے پر ان کا ردعمل پوچھا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھاکہ ابھی اس کارروائی کا سرکاری جائزہ لینا باقی ہے تاہم بظاہر یہ طالبان کا عمل ہی معلوم ہوتا ہے۔ امریکی ترجمان نے واضح کیا کہ امریکہ سمیت بین الاقوامی کمیونٹی کا اس بات پر پورا اتفاق ہے کہ افغانستان کے مسئلے کو فوجی ذریعے سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے طالبان کو بھی چاہئے کہ وہ فوجی کارروائیوں اورتشدد کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے سے گریز کریں۔ اطلاعات کے مطابق کابل میں تازہ بم دھماکے کا نشانہ افغانستان کے قائم مقام وزیر دفاع تھے۔ ترجمان نے اس پرتشدد کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم پوری مضبوطی کے ساتھ اپنے افغان اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے طالبان کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے سیاسی کی بجائے فوجی یا تشدد کا راستہ اپنایا تو پھر تاریخ دہرائی جاسکتی ہے  اور انہیں ایک بار پھر انہیں افغانستان سے نکا لکر ”بین الاقوامی اچھوت“  بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ افغانستان کے ماضی کے چالیس پچاس برسوں میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب بھی کسی اور فریض یا پارٹی نے دوسروں پر اپنی مرضی ٹھونسنے کی کوشش کی تو اس کا نتیجہ خون ریزی، تشدد اور عدم استحکام ہی نکلا۔ کئی عشروں کے بعد اب افغانستان کو پہلی مرتبہ یہ نادر موقع ملا ہے کہ وہ اسے مستحکم اور خود مختار ملک بنائے۔ جہاں تمام افغان محفوظ طریقے سے رہ سکیں۔ ترجمان نے کہا کہ ہم دونوں فریقوں طالبان اور کابل انتظامیہ کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ اس موقع پر فائدہ اٹھائیں کیونکہ اس میں تمام فریقوں کا فائدہ ہے۔ امریکی ترجمان نے دونوں فریقوں کو مشورہ دیا کہ وہ عفل سے کام لیتے ہوئے افغان عوام کی خواہشات کے مطابق پوری سنجیدگی کے ساتھ ہنگامی طور پر پرامن حل تلاش کرنے کیلئے مذاکرات کریں تاکہ سیاسی، تصفیئے ہوسکے۔ انہیں ملک اور عوام کے مفاد میں اپنے اختلافات کو دور کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، چین، روس اور امریکہ پر مشتمل گروپ نے بھی اپنے بیان میں اس بات پرزور دیا تھا کہ تمام فریق فوجی کی بجائے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا سیاسی حل دریافت کریں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اب بھی ”دوہا سمجھوتے“ پر عملدرآمد کرنیکا یقین دلاتے ہیں لیکن ان کی کارروائیاں اس کے برعکس ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ سمجھوتے کے تحت پرتشدد کارروائیوں سے پرہیز کریں۔

امریکہ

مزید :

صفحہ اول -