حکومت کا یکساں نصاب تعلیم وژن بہترین فیصلہ، اطلاق کا طریقہ کار انتہائی غلط

    حکومت کا یکساں نصاب تعلیم وژن بہترین فیصلہ، اطلاق کا طریقہ کار انتہائی ...

  

 لاہور (دیبا مرزا سے) عمران خان کاوژن یکساں نصاب ”تعلیم“ کو نقصان پہنچانے کی بہت بڑی سازش ہے۔یکساں نصاب تعلیم کو رائج کرنے کا فیصلہ درست نہیں۔ ملک کے ایک لاکھ نوے ہزار سکولوں کو سیشن مکمل کرنے کی اجازت دی جائے۔ اکیسویں صدی کے عین مطا بق بنائے گئے نصاب کی ٹریننگ چھ دن میں دینا حیران کن ہے۔ سات کلاسز میں یکمشت یکساں نصاب تعلیم رائج کرنا نہایت غلط فیصلہ ہو گا۔ حکومت دانستہ طور پر بچوں کی تعلیم کا نقصان کرنا چاہتی ہے۔کتاب اور نصا ب میں فرق ہے لیکن بد قسمتی سے آج کتا ب کو نصا ب بنا دیا گیا ہے۔ ان خیالا ت کا اظہا ر یکسا ں نصا ب تعلیم کے حوالے تعلیمی شعبہ سے تعلق رکھنے والے ما ہر تعلیم عاطف الرحما ن، جا وید نو ر تا مبرا چیئر مین چیمبر آف ایجو کیشن،میا ں رضا الر حما ن صدر سرونگ سکو لز ایسو سی ایشن، رائد افضل ماہر تعلیم وسا بق ورلڈ بنک ایڈوائزر، قاضی محمد نعیم انجم چیئرمین ایوان تعلیم نے روزنا مہ ”پا کستا ن“ سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا۔ انہو ں نے کہا بلا شبہ حکو مت کا یکسا ں نصا ب تعلیم کا ویژن بہترین فیصلہ تھا لیکن حکو مت کو چا ہیے تھا اس سے منسلک تما م تک اسٹیک ہو لڈرز کی مشا ورت کی جا تی تا کہ اس کو اس کی فیزیبلیٹی کے مطا بق را ئج کیا جا تا، پرا یؤیٹ پبلشرز کو بھی این اوسی جا ری کئے جاتے۔ماہر ین تعلیم نے مزید کہا کتاب اور نصا ب میں فرق ہے لیکن بد قسمتی سے آج کتا ب کو نصا ب بنا دیا گیا ہے حکو مت کو چا ہیے تھا وہ ایک کتا ب گو رنمنٹ کے سکو لو ں کیلئے بنا تی پھر پرا ئیو یٹ سیکٹر میں اس کو لا گو کیا جا تا۔ ا نہوں نے کہا گو رنمنٹ کا کام نصا ب بنا نا ہوتا ہے لیکن گو رنمنٹ پا بند نہیں کر سکتی ہے کہ تمام سکو ل اس ایک ہی کتا ب کو پڑھا نے کے پا بند ہو ں۔

اطلاق غلط 

مزید :

صفحہ اول -