وزیراعظم کاسندھ میں وفاقی اداروں کے ذریعے ایکشن پلان شروع کرنے کا فیصلہ 

  وزیراعظم کاسندھ میں وفاقی اداروں کے ذریعے ایکشن پلان شروع کرنے کا فیصلہ 

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے سندھ میں وفاقی اداروں کے ذریعے ایکشن پلان شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔بدھ کووزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سند ھ اسٹریٹجی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، شاہ محمود قریشی، اسد عمر، حلیم عادل شیخ، چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی، عامر کیانی اور سیف اللہ ابڑو نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ کی سیاسی اور انتظامی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی اور سندھ میں پی ٹی آئی کے متحرک کردار پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں وفاقی اداروں کے ذریعے ایکشن پلان شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے طے پایا سمگلنگ، منشیات اور بد انتظامی کی روک تھام کیلئے وفاقی حکومت کردار ادا کریگی، بعدازاں وزیرِ اعظم عمران خان سے سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے اسلام آباد میں ملاقات کی،ملاقات میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیرِ منصو بہ بندی اسد عمر، رکنِ قومی اسمبلی غوث بخش مہر، رکنِ صوبائی اسمبلی علی گوہر مہر اور صفدر عباسی شریک ہوئے۔سندھ کی مجموعی صورتحال خصوصا امن و امان اور کورونا کی صورتحال اور عوام کو درپیش مسائل پر بات چیت کی گئی،سندھ میں وفاق کے جاری ترقیاتی منصوبوں خاص طور پر صوبہ سندھ کے پہلے بڑے ٹرانسپورٹ منصوبے گرین لائن پر پیش رفت پر گفتگو ہوئی وزیرِ اعظم عمران خان نے سندھ میں گرین لائن کی متعین شدہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے اور سندھ پیکیج کے تحت منصوبوں پر بھی تیزی سے کام کرنے کی ہدایات جاری کیں جبکہ سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے وزیراعظم کو دورہ سندھ کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے وفد کو یقین دلایا وہ رواں ماہ سندھ کا تفصیلی دورہ کریں گے، ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیں گے اور بزنس کمیونٹی سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ وزیراعظم نے وفد کو اسلام آباد آنے پر شکریہ ادا کیا اور ان کی جانب سے پیش کردہ مسائل اور ان کے حل کی تجاویز پر عمل درآمد کیلئے جلد ایک کمیٹی قائم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔دریں اثنااپنی زیر صدارت ملک میں فضلے کے انتظام کے حوالے سے اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ماحولیاتی تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، درآمدی پلاسٹک پر انحصار کم کرنے کیلئے جامع پلان مرتب کیا جائے، وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ اس ضمن میں چین کی پلاسٹک کی درآمد پر پابندی کی پالیسی کو بھی زیر غورلایا جائے۔۔ اجلاس میں معاون خصوصی ملک امین اسلم اور سینئر حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی کہ پا کستا ن میں سالانہ 30 ملین میٹرک ٹن فضلہ میونسپل سطح پر پیدا ہوتا ہے، پلا سٹک فضلہ کل فضلے کا 10 سے 14 فیصدہے اور 2050 ء تک اس کی مقدار دوگنی ہوجائیگی، 2020 ء میں پیدا ہونیوالے 3.9 ملین ٹن پلاسٹک فضلے میں سے صرف 30 فیصد ری سائیکل ہوتا ہے،پاکستان نے پچھلے مالی سال 2.4 ارب روپے لاگت کا 35,651 ٹن پلاسٹک درآمد کیا۔ 

وزیراعظم فیصلہ

مزید :

صفحہ اول -