5اگست کے ظالمانہ اقدام کی واپسی تک  بھارت سے بات چیت نا ممکن،وزیرخارجہ

 5اگست کے ظالمانہ اقدام کی واپسی تک  بھارت سے بات چیت نا ممکن،وزیرخارجہ

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی  نے کہا ہے کہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو بھرپور اجاگر کیا ہے، کشمیریوں کی ہر حوالے سے حمایت جاری رکھیں گے، پانچ اگست کے ظالمانہ اقدام کی واپسی تک بھارت سے بات چیت ممکن نہیں، عالمی برادری مودی سرکار کی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لے۔ اسلام آباد میں پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے، عالمی اداروں کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کا نوٹس لینا چاہیے، وزارت خارجہ نے مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر بھرپور اندازمیں اجاگر کیا، حکومت پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔ عالمی برادری بھارت پر دباو ڈالے کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ انسانوں والا سلوک کرے،بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہٹلر جیسا آمرانہ وجابرانہ قدم اٹھایا،بھارت اپنے یک طرفہ اقدامات کو کالعدم قرار دے اور ریاستی جبر و دہشتگردی کے تمام ہتھکنڈے ختم کرے، بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا احترام کرے اور کشمیریوں کو استصواب رائے کا اپنا حق استعمال کرنے دے۔دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سلامتی کونسل کے صدر اور سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی سرپرستی اور ان کی مالی معاونت میں ملوث ہے،لاہور بم دھماکا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے 15ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو غیرقانونی طورپر قید کررکھا ہے، سلامتی کونسل وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوائے۔خط میں وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ  سلامتی کونسل بھارت کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی اورتخریبی سرگرمیوں سے روکے،  بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی سرپرستی اور ان کی مالی معاونت میں ملوث ہے،لاہور بم دھماکا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

وزیرخارجہ

مزید :

صفحہ اول -