بیوروکریسی آئینی طریقے سے کام  کرتی تو بل کی ضرورت نہ پڑتی 

بیوروکریسی آئینی طریقے سے کام  کرتی تو بل کی ضرورت نہ پڑتی 

  

پنجاب حکومت کی ترجمان مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ آین و قانون میں ہر قومی ادارے کے کام کرنے کا طریقہ کار متعین ہے اب یہاں سوال یہ ہے کہ اگر بیورو کریسی اپنے اس آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق اپنا کام کررہی ہوتی تو پھر شاید پنجاب اسمبلی کو یہ استحقاق بل اسمبلی سے منظور کروانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔وہ ایشو آف دی ڈے میں اظہار خیال کررہی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ میرا یہ ذاتی نکتہ نظر ہے کہ ہمیں بطور پاکستانی شہری اپنا اپنا رول ادا کرنا ہوگا اگر ہم سب اپنا اپنا کام زمے داری کے ساتھ سر انجام دیں تو پھر میرا نہیں خیال کہ کسی کو کوی بل منظور کرنے کی ضرورت پڑے گی اب بھی اس بل کو بیورو کریسی یا پھر کوی بھی ادارہ اس کو اپنے خلاف نہ سمجھے اسمبلی نے یہ بل اس لیے پاس کیا ہے کہ ہر کوی اپنی اپنی زمے داریوں کو سمجھ سکے امید ہے کہ اس بل پر عملددرآمد ہونے سے معاملات میں مزید بہتری آے گی اور کوی بھی اس بل کو پرسنل نہیں لے گا۔

مسرت جمشید چیمہ 

مزید :

صفحہ اول -