مہمند،سال قبل شہید اہلکار کے ورثاء شہید پیکچ سمیت ملازمت سے محروم

مہمند،سال قبل شہید اہلکار کے ورثاء شہید پیکچ سمیت ملازمت سے محروم

  

ضلع مہمند(نمائندہ پاکستان)تین سال قبل شہید اہلکار کی ورثاء شہید پیکچ سمیت نوکری سے محروم۔2018کو دوران ڈیوٹی سابقہ خاصہ دار اہلکار پوسٹ جارہا تھا کہ بم دھماکے میں شہید ہوا۔تعزیت میں اس وقت کے پولیٹیکل ایجنٹ نے شہید پیکچ سمیت ایک سپیشل نوکری کا اعلان کیا۔مگر ایک ماہ تنخواہ ادائیگی کے بعد انتظامیہ اپنے اعلان سے مکر گیاتین سال سے پشاور ہائی کورٹ میں کیس زیرالتواء ہے۔فوری بند تنخواہوں سمیت شہید پیکچ اور ورثاء سے ایک بندہ بھرتی کی جائے۔وزیراعلی اور آئی جی پولیس شہید ورثاء کی خبرگری کریں۔شہید عیسیٰ خان کے والد میراخان کا یوم شہداء کے موقع پر مہمند پریس کلب میں فریاد۔تحصیل صافی سکنہ علینگار عیسیٰ خان شہید کے والد میراخان نے یومِ شہداء کے موقع پر مہمند پریس کلب میں اپنے فریاد بیان کرتے ہوئے کہا۔کہ میرا بیٹا عیسیٰ خان سابقہ خاصہ دار فورس کی اہلکار 29 اکتوبر 2018 کو دوران ڈیوٹی بم بلاسٹ میں شہید ہوا۔جنہوں نے ایک بیٹا اور بیوہ چھوڑ کر وطن کی حفاظت پر اپنی جان قربان کردی۔تعزیت میں اس وقت کے پولیٹیکل ایجنٹ نے شہید پیکچ اور سپیشل نوکری کا اعلان کیا۔ مگر واقعہ کے بعد ایک ماہ کا تنخواہ دیدیا۔اور بعد میں انتظامیہ اپنے وعدے سے مکر کر بتایا کہ فاٹا ضم ہوچکاہے اور سابقہ اعلانات جیسے شہید پیکچ اور سپیشل نوکری وغیرہ ختم ہوگئے ہیں۔ لہذا آپ کورٹ سے رجوع کریں جبکہ مجھے اپنے حقوق کے لئے مجبوراً عدالت جانا پڑا اور تین سال سے عدالتوں کاچکر کاٹ رہا ہوں۔ انہوں نے یومِ شہداء کے موقع پر وزیراعلی اور آئی جی پولیس سے مطالبہ کرتے ہوئے اپنے فریاد میں کہا کہ شہداء تقاریب کے بجائے شہید ورثاء کی خبرگیری کریں۔اور تین سال سے میرے شہید بیٹے کی بند تنخواہوں سمیت شہید پیکچ اور ورثاء سے ایک بندہ بھرتی کیا جائے۔اور شہید کے پرسنل نمبر پردوسری غیر مستحق بھرتی والے کاشفاف انکوائری کی جائے تاکہ شہید اہلکاروں کی خاندان  کو تین سال بعد انصاف مل سکے۔کیونکہ علاقے میں بیشتر شہداء کو پیکچ اور متاثرہ خاندانوں سے دوسرے بندے بھرتی ہوچکے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -