ملک کے دیگر حصوصی کی طرح بنوں میں بھی یوم شہداء عقیدت واحترام کے ساتھ منائی گئی

ملک کے دیگر حصوصی کی طرح بنوں میں بھی یوم شہداء عقیدت واحترام کے ساتھ منائی ...

  

بنوں (نمائندہ خصوصی)ملک کے دیگر حصوصی کی طرح بنوں میں بھی یوم شہداء عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا اور شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایصال ثواب کیلئے قرآن وفاتحہ خوانی کی گئی،بعد ازاں آڈیٹوریم ہال بنوں میں یوم شہداء کے حوالے سے خصوصی تقریب منعقد کی گئی جسمیں ڈپٹی کمشنر بنوں کیپٹن (ر)محمد زبیر خان نیازی،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں عمران شاہد،ایس پی ایف آر پی کفایت اللہ خان،ایس پی اینویسٹی گیشن حسن ضیاء،انسانی حقوق ویلفیئر آرگنائزیشن کے صوبائی صدر ملک عصمت اللہ خان،تحریک انصاف کے تحصیل صدر سکندر حیات خان،نیشنل پریس کلب کے جنرل سیکرٹری روفان خان،سینئر صحافی فرید نیازی،عبدالقیوم خانشہداء کے ورثاء اور غازیوں نے شرکت کی فضل قادر شہید پارک پہنچنے پر پولیس نے چوک وچوبند دستے نے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او بنوں کی سلامی دی بعد ازاں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی پی ا او بنوں عمران شاہد نے کہا کہ آج ہم جس آزاد فضاء میں سانس لے رہے ہیں اور آزادنہ سیاست،تجارت کرنے کے علاوہ پر امن ماخول میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوا رہے ہیں یہ پاک فوج،پولیس،ایف آرپی،ایف سی اور سویلین شہداء کی قربانیوں کا نتیجہ ہے ہمارے کل کیلئے اپنا آج قربان کرنے والے شہداء ہمارے اصل ہیروز ہیں جن پر ہمیں فخر ہے اور بنوں میں 146پولیس جوانوں نے جبکہ پورے صوبے میں 1700سے زائد پولیس جوانوں نے اس ملک کیلئے اپنی جانیں قربان کیں جن میں کانسٹیبل سے لیکر آئی جی،ڈی آئی جی اور ڈی پی او تک کے آفسران شامل ہیں، بنوں پولیس کے جذبے اور ہمت کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے ملک اور مٹی کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کئے لیکن دہشت گردوں کے سامنے جھکے نہیں انہوں نے کہا کہ پولیس اور شہداء کے خاندان کی مثال ایک خاندان کی ہے پولیس شہداء ہمارا قیمتی سرمایہ ہے اور پولیس شہداء کے ورثاء کے مسائل کے حل کیلئے ہمارے دروازے دن رات کھلے ہیں آج کا دن منانے کا مقصد پولیس شہداء کو خراج تحسین پیش کرنا ہے انہوں نے کہا کہ ہر سال 4اگست کو یوم شہداء کے طور پر منایا جاتا ہے کیونکہ 4اگست کو جب خیبر پختونخوا کے دلیر آفیسر صفوت غیور کو شہید کیا گیا تو اسی دن یوم شہداء منانے کا فیصلہ کیا گیا اس دن سے ایک روز قبل بنوں میں بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد کیا گیا جبکہ پولیس آفسران نے اپنے اپنے علاقوں میں شہداء کے گھروں پر حاضری دی اور آج اگر ہم نے ان شہداء کو بھلادیا یا اپنے فرائض ایمانداری سے انجام نہ دیئے تو یہ ان شہداء کے خون اور ملک سے غداری ہوگی انہوں نے کہا کہ تبدیلی صرف یوم شہداء منانے اور تقاریر کرنے سے نہیں آئیگی بلکہ اگر ہم سب ان شہداء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیں اور اس دن یہ عہد کریں کہ ہم اس مٹی کی حفاظت کیلئے ہر قسم کی قربانی دیں گے تو یہ ان شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہوگا جنہوں نے اس مٹی کی حاطر جانوں کے نذرانے پیش کئے انہوں نے کہا کہ شہید کبھی نہیں مرتے بلکہ شہید زندہ ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم یہ دن مناکر شہداء کے خاندانوں کویہ احساس دلاتے ہیں کہ شہداء کو ہم بھولے نہیں اور شہداء کے ورثاء کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے شہداء کے خاندانوں کے مسائل کے حل  اور انکی خدمت کیلئے ہم دن رات حاضر ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -