پشاوریونیورسٹی میں قانون کی حکمران سے متعلق ورکشاپ اختتام پذیر 

پشاوریونیورسٹی میں قانون کی حکمران سے متعلق ورکشاپ اختتام پذیر 

  

پشاور(سٹی رپورٹر)پولیس اور عوام میں دوستانہ تعلق، ذمہ دار شہریت اور آئین و قانون سے آگہی کسی بھی ملک میں قانون کی حکمرانی کے بنیادی شرائط ہیں اور ایک ترقیافتہ معاشرے کیلئے سب سے اہم شرط پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ ہے جو ملک میں ہم آہنگی اور امن کو فروغ دیتا ہے۔  ان خیالات کا اظہار سب ڈویژنل پولیس آفیسرحیات آباد مسٹر لقمان خان نے پشاور یونیورسٹی کے تعاون سے منعقدہ سی آر ایس ایس کے اولسی تڑون ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ خیبر پختونخوا کے تیس سے زائد جامعات کیساتھ سی آر ایس ایس کا یہ مشترکہ منصوبہ گزشتہ چار سال سے جاری ہے جس میں اب تک تقریبا ایک ہزار طلباء و طالبات حصہ لے چکے ہیں۔ ایس ڈی پی اوحیات آبادنے کہا کہ اگرچہ قانون کی حکمرانی قائم کرنا ریاست کاکام ہے مگر ذمہ دار اور فعال شہری اس کو قائم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔انھوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ سوشل میڈیا کو محض دباو بڑھانے اور جعلی خبروں کے پھیلاو کی بجائے سماجی ہم ٓہنگی اور برادشت بڑھانے کیلئے استعمال کیا جائے۔پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد چترالی نے کہا کہ امن اور پر امن بقائے باہمی کی اہمیت کو جاننے کیلئے انسانی ترقی کی تاریخ پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ جدید دور میں سیاسی معیشت کا تقاضا ہے کہ ریاست کے وسائل کو اسکی آبادی کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کیا جائے۔ جمیل چترالی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ ملک میں جمہوریت کی بقاٗ اور ترقی کے لئے شخصیت پرستی سے باہر نکلے اور پارٹیوں کے منشور کو دیکھ کر اس کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کرے۔ورکشاپس سے سی آر ایس ایس کی لیڈی ٹرینر شگفتہ گل اور سینئر صحافی شمس مومند نے بھی خطاب کیا۔ اختتام پر حصہ لینے والوں طلبہ میں سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے گئے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -