وزیراعظم ہاؤس۔۔۔ بزنس سنٹر؟؟؟

وزیراعظم ہاؤس۔۔۔ بزنس سنٹر؟؟؟
وزیراعظم ہاؤس۔۔۔ بزنس سنٹر؟؟؟

  

ایک موقر روزنامہ میں خبر پڑھی جس کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کو  بزنس کلچرل سنٹر بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کو بزنس کلچرل سنٹر بنانے کا مقصد آمدنی کا ذریعہ بنانے ہے۔  نیز نام کی تبدیلی بھی زیر غور ہے جس کے مطابق  نیا نام ’’ وزیراعظم ہاؤس اینڈ بزنس کلچرل سنٹر ‘‘ ہو گا۔  بزنس کلچرل سنٹر کو  عالمی ومقامی فوڈ ،  ثقافتی اور فیشن تقریبات کے  لیے زیر استعمال لایا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ مقامی کارپوریٹ و سفارتی تقریبات اور سیمینار بھی منعقد کیے جا سکیں گے۔ سننے میں تو ایسی تجاویز بڑی خوش آئند لگتی ہیں کہ ہمارے ہاں  سٹیٹس کو کا سسٹم دم توڑے گا لیکن  عملی طور پر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ پی ٹی آئی جب سے برسر اقتدار آئی اسے ایسے اعلانات اور تجاویز کا شوق آئے دن چڑھ آتا ہے جس  عوام میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دیکھیں جی ہمارے ہاں تو سادگی ہے ماضی کی حکومتیں سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کرتی رہیں ، فلاں اور فلاں۔  لیکن ایسے فیصلوں اور تجاویز کی حقیقت ماضی کے چند فیصلوں  کی روشنی میں  جاننا بھی ضروری ہے۔

جب حکومت برسراقتدار آئی تو فوری اعلان کیا گیا کہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنا دیا جائے گا۔ یونیورسٹی کو سائنس و ٹیکنالوجی  اور تحقیق کے لیے  استعمال کیا جائے گا۔ لیکن پھر وہی ’’ یونیورسٹی‘‘ ابھی تک طلبا کی منظر ہے، ہاں البتہ وزیراعظم عمران خان  کابینہ کے ’’ طلبا‘‘ کو وہاں لیکچر ضرور دیتے ہیں۔ لیکچر بھی خاص اپوزیشن کو  دیوار سے لگانے سے متعلق دیے جاتے ہیں۔ ضروری نصیحت کی جاتی ہے کہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ پائے۔    اس سے قبل یہ بھی اعلان کیا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان وزیراعظم ہاؤس استعمال نہیں کریں گے۔ لیکن ابھی تک اس  پر بھی عمل نہیں ہو سکا۔  پھر کینیڈا کے وزیراعظم کی مثالیں دی جاتی تھیں کہ ترقی یافتہ ممالک کے وزرائے اعظم  سادگی اختیار کرتے ہیں  سائیکل پر دفتر آتے ہیں  اب نا تو سائیکل سسٹم رائج ہو سکا ہے نہ وزیراعظم ہاؤس یونیورسٹی بن سکا۔ عوام سے بلے بلے کروانے کے لیے اس سے پہلے بھی ایک ڈھونگ  رچایا گیا تھاکہ آتے ہیں وزیراعظم ہاؤس میں موجود بھینسوں اور گاڑیوں  کی نیلامی کا اعلان کیا گیا اور پھر گاڑیاں  اپنے ہی قریبی لوگوں کو اونے پونے بیچ دی گئیں۔   ایک  اور تجویز حکومت میں آتے ہی پیش کی گئی تھی کہ گورنر ہاؤسز  کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا یہ پبلک پراپرٹی ہیں  عوام سیرو تفریح کی غرض سے گورنر ہاؤسز میں آسکیں گے تقریبات منعقد ہو سکیں گی لیکن یہ بھی محض دعویٰ ہی رہا  گورنر ہاؤسز چند روز عوام کے لیے کھولنے کے بعد ان پر پھر تالے پڑ گئے، ایسے قفل پڑے کہ دوبارہ نہ کھل سکے۔

 حکومت کی جانب سے ایسے شوشے صرف عوام کی توجہ حاصل کرنے ، یا مہنگائی اور دیگر مشکلات سے توجہ ہٹانے کے لیے چھوڑے جاتے ہیں۔ دعووں ، وعدوں   کے خوشنما جال جو عوام پر پھینکے گئے تھے جن کے  بہکاوے میں آکر عوام  ان پر اعتماد کر بیٹھے تھے ان میں کوئی بھی تو وعدہ ایفا نہیں ہو سکا ۔ مکمل اور شفاف احتساب ہو سکا نہ ہی لوٹی دولت ملکی خزانے میں واپس آ سکی، مہنگائی کم ہو سکی نہ   بجلی گیس کی قیمتیں عوام کی پہنچ میں آسکیں۔ وہ جو کہا جاتا تھا کہ  پٹرول کی قیمت ایک روپیہ بڑھنے سے عوام پر اربوں روپے کا بوجھ پڑتا ہے  عام آدمی اس ست متاثر ہو تا ہے آج پٹرول کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں اور ان کے وزرا صفائیاں دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ جب چکن دالوں کی قیمتیں بڑھی ہیں تو پٹرول کی قیمت بڑھنے سے عذاب نہیں آجائے گا‘‘ ۔  یہ بیان انہیں موصوف کا ہے جن کا ایک کلپ  سابقہ دور حکومت میں تنقید کرتے ہوئے وائرل ہو ا تھا کہ ’’ اتنی مہنگائی ہے کہ مر گیا غریب، ماردو غریب ، نسل ہی ختم کردو غریب کی‘‘ سابقہ دور حکومت میں پٹرول کی معمولی قیمت بڑھنے پر ایسے بیانات دینے والے وزرا آجکل پٹرول کی قیمت بڑھنے پر صفائیاں دیتے نظر آتے ہیں۔ احتساب کا حال دیکھیں بھی تو وہ بھی مختلف نہیں ۔ یکطفرفہ احتساب  کے مناظر موجودہ حکومت میں کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

 صورتحال احوال یہ ہے کہ  ایک طرف احتساب کے نام پر اپوزیشن جماعتوں کی نامور شخصیات کو  جیل کی ہوا کھانا پڑی جب  کسی پر کرپشن یا کک بیک کا کوئی  کیس نہ بن سکا تو  اس کو منشیات کے کیس میں  کال کوٹھری میں ڈال دیا گیا جبکہ دوسری طرف  حکومتی جماعت میں کئی ایسے ارکان موجود ہیں جو کہ احتسابی اداروں کو مطلوب تھے وہ  اقتدار کے ایوانوں کے مزے لوٹ رہے ہیں  لیکن کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں، چینی ،آٹا  توانائی سکینڈٖل میں ملوث کئی ارکان کابینہ  کے  پیچھے چھپے اور کئی  کو پارٹی اعلیٰ عہدوں سے نواز دیا گیا ۔ باقی نوکریوں اور گھروں والی بات تو کسی سے ڈھکی چھپی ہے نہیں ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے عوام سے جو بھی وعدے وعید کیے ان پر عمل درآمد دیوانے کا خواب کے مترادف ہی ہے۔ حالیہ جو وزیراعظم ہاؤس کو بزنس اینڈ کلچرل سنٹر بنانے کی تجویز پر کس حد تک عمل  ہو گا اس سے کتنی آمد ہو گی  یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ واقعی پیسہ آئے گا اسی طرح بزنس سنٹر بنے گا جس طرح ’’ یونیورسٹی‘‘ میں سائنس و ٹیکنالوجی کے لیکچر ہونا تھے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -