سپریم کورٹ کا زلزلہ متاثرہ اضلاع میں تباہ شدہ سکول 6ماہ میں فعال کرنے کا حکم

سپریم کورٹ کا زلزلہ متاثرہ اضلاع میں تباہ شدہ سکول 6ماہ میں فعال کرنے کا حکم
سپریم کورٹ کا زلزلہ متاثرہ اضلاع میں تباہ شدہ سکول 6ماہ میں فعال کرنے کا حکم

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستا ن آن لائن ) سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ سکول 6ماہ میں فعال کرنے کا حکم جار ی کردیا۔ عدالت نے آئند ہ سماعت پر پیشرفت رپورٹس طلب کرتے ہوئے چیئرمین ایر ا کو ذاتی حیثیت میں طلب بھی کرلیا۔

سپریم کورٹ میں خیبر پختونخوا کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں سکولوں کی عدم تعمیر پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔سما عت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے اور قائم مقام چیف سیکرٹری عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت عظمیٰ نے سوال کیا کہ فنڈز کے باوجود خیبرپختونخوا کے زلزلہ سے متاثرہ سکول کیوں نہیں بنے؟، جن علاقوں میں سکول بنے وہ بھی مکمل فعال نہیں ہیں، جس کے جواب میں ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ زلزلہ زدہ علاقوں کی بحالی ایرا کی ذمہ داری تھی، جس پرچیف جسٹس گلزار احمدنے ریمارکس دیئے کہ سارا گورکھ دھندا صرف پیسہ ادھر ادھر گھمانے کے لئے ہے،ایرا نے جو سکول بنائے و ہ کسی بھوت بنگلے سے کم نہیں ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کیا کہ آپ کے گھر وں سے چھتیں ہٹادیں تو پتہ چلے گا،افسران کے کمروں سے اے سی اور فرنیچر بھی ہٹا دینا چاہئے،گورنر ،سی ایم ہاﺅس اور افسران کے گھر دیکھیں کیسے شاندار ہیں،ایک دن پانی بند کریں تو آپ کی چیخیں نکل جائیں گی۔

 ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت کو فروری2020میں متاثرہ علاقوں کا کنٹرول ملا ہے،جس پر چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ جاپان میں سونامی آیا انہو ں نے چند ماہ میں پورا شہر بنادیا،یہاں 16سال سے بچے تعلیم سے محروم ہیں،خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم کوشرم آنی چاہیے،افسران سمجھتے ہیں مختص شدہ پیسہ ان کے لئے ہے، بیوروکریسی کام نہیں کرسکتی تو گھر چلی جائے۔ 

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کیا پشاور اور مانسہرہ کے بچوں میں کوئی فرق ہے؟، کیا ملک میں سریا، سیمنٹ نہیں ملتا ؟ملک میں پیسہ بھی ہے اور تیار چھتیں بھی دستیاب ہیں صرف نیت کا فقدان ہے ورنہ تینوں چیزوں کو یکجا کیسے نہیں کیا جاسکتا۔

ایڈووکیٹ جنرل کے پی کا کہنا تھا کہ صوبے میں شر ح خواندگی سب سے زیادہ ہے،جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ سکول تو ہیں نہیں شرح خواندگی کیسے زیادہ ہوگئی؟،قائم مقام چیف سیکرٹری کا کہناتھا کہ نشاندہی پر عدالت کا مشکور ہوں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مشکور نہ ہوں قوم سے اپنی نااہلی پر معافی مانگیں۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ بدقسمتی سے تعلیم کاروبار بن چکا ہے اورحکومتی نااہلی کی وجہ سے تعلیم کا کاروبار پھیل رہا ہے،پرانا نظام چاہئے جہاں سب برابری سے پڑھتے تھے۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے پیشرفت رپورٹس طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ماہ کے لئے ملتوی کردی اورچیئرمین ایرا کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -