وبا کو شکست دینے کے لئے عالمی تعاون کی ضرورت 

وبا کو شکست دینے کے لئے عالمی تعاون کی ضرورت 
وبا کو شکست دینے کے لئے عالمی تعاون کی ضرورت 

  

گزشتہ برس کے اختتام پر یہ امید ہو چلی تھی کہ بنی نوع انسان وبا کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے اور دنیا بھر میں ایک بار پھر معمول کی زندگی واپس لوٹ آئے گی۔ یہ خیال حیاتیاتی وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری میں پیش رفت کے بعد مضبوط ہوا تھا۔ چونکہ سیاسی وائرس کے خلاف تاحال کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی لہذا اس وائرس نے عالمی تعاون کو شدید نقصان پہنچایا اور وہ عالمی برادری جو اتحاد کے ساتھ وبا کے خلاف نبرد آزما تھی اچانک دھڑوں میں تقسیم ہونے لگی اور نوول کورونا وائرس کے خلاف تحقیق کو شدید دھچکا لگا۔ آج صورت حال یہ کہ وبا کی چوتھی لہر جو ڈیلٹا متغیر وائرس کی وجہ سے پھیل رہی ہے ایک بار پھر بے قابو ہور ہی ہے۔  

اس صورت حال میں چین اپنے راستے پر مضبوطی سے گامزن ہے اور وبا کو شکست دینے کے لئے کوشاں ہے۔ چین نے انسداد وبا کے ساز و سامان اور ویکسین کی فراہمی میں عالمی برادری کی بھر پور مدد کی ہے۔ تین اگست کو چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے چین۔آسیان  وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے موقع پر کہا کہ چین  وبا کے خلاف تعاون میں آسیان کو اپنا اولین شراکت دار سمجھتا ہے۔ اب تک چین نے دس آسیان ممالک کو کووڈ-۱۹ ویکسین کی انیس کروڑ سے زائد خوراکیں فراہم کی ہیں اور بڑی تعداد میں ہنگامی انسداد وبا سامان فراہم کیا ہے۔ فریقین نے چین۔آسیان پبلک ہیلتھ کوآپریشن انیشی ایٹو کا آغاز کیا ہے ، جس سے "چائنا-آسیان ویکسین فرینڈز" پلیٹ فارم کو مسلسل بہتر بنا یا جارہا ہے ، اور ویکسین پالیسی سے متعلق رابطے اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دیا جارہا ہے۔ 

چین نے بیلٹ روڈ سے وابستہ ممالک کے ساتھ ویکسین کے تعاون کو بہت زیادہ مضبوط بنایا ہے۔ چین نے اٹھائیس ممالک کے ساتھ بیلٹ اینڈ  روڈ سے متعلق ویکسین کے شراکت دارانہ تعلقات کا انیشئیٹو پیش کیا جس میں ویکسین کی امداد،برآمدات اور مشترکہ پیداوار سے متعلق تعاون کی تجاویز  پیش کی گئیں۔مذکورہ انیشئیٹو کے تحت چین نےانیشئیٹو پیش کرنے والے ممالک کے ساتھ  ویکسین کی کل 88 کروڑ پچاس لاکھ خوراکوں کے تعاون پر اتفاق کیا ہے اور اس وقت کل 35 کروڑ خوراکیں فراہم کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ چینی صنعتی اداروں نے انیشئیٹو پیش کرنے والے چار ممالک کے ساتھ مشترکہ پیداواری سلسلہ بھی شروع کیا ہے اور اس ضمن میں دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون  بھی زیر غور ہے۔  ترجمان نے کہا کہ چین بیلٹ اینڈ روڈ کے شراکت داروں کے ساتھ ویکسین کی منصفانہ تقسیم اور بیلٹ اینڈ روڈ نیز دوسرے ترقی پذیر ممالک میں ویکسین کی دستیابی کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ 

دنیا بھر کے مختلف خطوں اور علاقوں میں موجود ویکسین ساز ادارے چین کے ساتھ مل کر وبا کے تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ گزشتہ ماہ متعدد ممالک کے ویکسین ساز صنعتی اداروں کے انچارج اور ماہرین نے کووڈ-19 ویکسین کے شراکت دار صنعتی اداروں کے ڈائیلاگ میں شرکت کے دوران چین کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔پاکستان کے قومی ادارہِ صحت  کےایگزیکٹو ڈائریکٹر  عامر اکرام   نےانسدادِ وبا میں چین کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ، چین کی سائنو فارم اور سائنو ویک کمپنی  کے ساتھ تعاون کے اچھے تعلقات قائم ہوئے ہیں ۔سری لنکا کی کییوکا کمپنی کے جنرل مینیجر نے بھی چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مارچ سے اب تک چین سے سائنو فارم ویکسین کی 71 لاکھ  خوراکیں سری لنکا تک پہنچائی گئی ہیں جو سری لنکا میں لگائی جانے والی اہم ویکسین بن چکی ہے۔چین اپنی صلاحیت کے مطابق دنیا خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو ویکسین فراہم کرتا آرہا ہے۔اس کے علاوہ چین ویکسین کی پیداوار کے لیے مقامی پروڈکشن لائن کے قیام اور دانشورانہ املاک کے حقوق میں چھوٹ دینےکے لیے ترقی پذیر ممالک کی حمایت بھی کر رہا ہےجس سے ایک سو سے زائد ممالک کو مدد فراہم کی گئی ہے۔  

حالیہ دنوں بوآؤ ایشیائی فورم کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں وبا کے خلاف چین کی کوششوں کو شاندار انداز میں سراہا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ کے اختتام پر بو آؤ ایشیائی فورم نے کووڈ-۱۹ ویکسین کے استعمال سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق ویکسین کی ہنگامی تحقیقات میں چین کی کارکردگی نمایاں  ہے اور ترقی پزیر  ممالک کو ویکسین کی فراہمی میں چین نے سب سے زیادہ خدمت سرانجام دی ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ویکسی نیشن کی تعداد کے لحاظ سے چین پوری دنیا میں سب سے آگے ہے اور دنیا کا وہ پہلا ملک بھی ہے جہاں عوام کی  مفت ویکسینیشن کا اعلان ہوا۔اس وقت چین میں ویکسین کی ایک ارب ساٹھ کروڑ سے زائد خوراکیں لگائی جا چکی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی پزیر ممالک کو ویکسین کی فراہمی دنیا کو درپیش سب سے نمایاں مسئلہ ہے اور چین نے اس ضمن میں سب سے زیادہ اور بڑی خدمات سرانجام دی ہے۔چین کی جانب سےعطیہ کردہ اور برآمد کی جانے والی  ویکسینز کی تعداد دوسرے ممالک کے کل حجم سے زائد ہیں۔رپورٹ میں ویکسین سے متعلق امور کو سیاسی رنگ دینے کی مخالفت کی بھی اپیل  کی گئی ۔ 

دنیا بھر کے مفکرین، سنجیدہ حلقے،تجزیہ نگاراور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ وبا کو شکست دینے کے لئے عالمی تعاون بنیادی کلید ہے۔  

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -