چھتری اور رشتے 

چھتری اور رشتے 
چھتری اور رشتے 

  

کل دفتر سے واپسی پر میں چھتری وہیں بھول گئی ۔ گھر جاتے جاتے بادلوں نے گھیر لیا اور پھر خوب برسے ۔ ایسے میں  چھتری کی کمی شدت سے محسوس ہوئی ۔ اچانک ہی ذہن میں  خیال آیا کہ ہمارے مخلص رشتے بھی تو اسی چھتری کی مانند ہیں ، وہ ہمارے لئے سائے کی طرح ہیں ۔ وہ نہ ہوں تو غم کی بارشوں ، دھوپ کی تپش اور کڑے وقت کی سختی سے کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے ؟ 

مزید :

ادب وثقافت -