چیئرمین سینیٹ الیکشن کیخلاف یوسف رضا گیلانی کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت10اگست تک ملتوی 

چیئرمین سینیٹ الیکشن کیخلاف یوسف رضا گیلانی کی انٹرا کورٹ اپیل پر ...
چیئرمین سینیٹ الیکشن کیخلاف یوسف رضا گیلانی کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت10اگست تک ملتوی 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے خلا ف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت 10اگست تک ملتوی کردی۔یوسف رضا گیلانی نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے دوران سات ووٹ مسترد کئے جانے کو چیلنج کررکھا ہے۔

تفصیلا ت کے مطابق اسلام آباد ہائی کو رٹ میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی اپیل پر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی۔سماعت کے دوران چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے وکیل بیرسٹر ظفر علی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کے فیصلے عدالت میں نہیں لائے جاسکتے،ملکی پارلیمنٹ کو وہی استحقاق حاصل ہے جو برطانوی پارلیمنٹ کو ہے،رکن پارلیمنٹ کی ہاﺅس میں صرف تقریر ہی کارروائی نہیں کہلاتی بلکہ ایوان میں کسی رکن کی تحریک اور ووٹ بھی کارروائی کا حصہ ہے۔

 بیرسٹر علی ظفر نے 1698کا ہاﺅس آف کامنز کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہاﺅس آف کامنز میں سپیکر کے حکم پر سارجنٹ ایٹ آرمز نے ایک رکن کو گرفتار کیا جس کے بعد رکن نے عدالت جاکر سارجنٹ کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کیا اور جیت لیااور بعد ازاں عدالت سے فیصلہ دینے ججوں کو ہاﺅس آف کامنز نے طلب کرلیا تھااور ججز سے وضاحت مانگی کہ ہمارے حکم ہوئی کارروائی پر کیسے فیصلہ دیا؟۔

 فاروق ایچ نائیک نے سوال کیا کہ علی ظفر صاحب معزز بینچ کو ڈرا تونہیں رہے ؟ جس پر کمرہ عدالت قہقوں سے گونج اٹھا۔

جسٹس عامر فارق نے ریمارکس دیئے کہ برطانیہ میں بہت سے معاملات میں روایات کو بھی دیکھا جاسکتا ہے،جس پر علی ظفر نے کہا کہ بنیادی نوعیت کے معاملات پاکستانی پارلیمنٹ سے ہی مشابہ ہیں،جس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسارکیا کہ کیا ہمار ی پارلیمنٹ میں آج تک کسی کے خلاف توہین کی کارروائی ہوئی ؟، علی ظفر نے جواب دیا کہ میری یادداشت میں ایسا کچھ نہیں کہ کسی کے خلاف ایسی کارروائی ہوئی ہو۔

عدالت کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے سوال کیا گیا کہ آپ بتائیں ایسا کچھ ہوا ہے؟ جس پرانہوں نے جواب دیا کہ آج کی تاریخ تک کسی کے خلاف توہین پارلیمنٹ کی کارروائی یا سز انہیں ہوئی،ارکان پارلیمنٹ کے استحقاق سے متعلق قانون ہی نہیں بنایا جاسکا۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل66میں ارکان پارلیمنٹ کے استحقاق کا ذکر موجود ہے،آئین کہتا ہے کہ کسی رکن کی تقریر اور ووٹ بھی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتا،پارلیمنٹ اور عدالتوں کے معاملے پر آئین نے واضح لکیر کھینچ دی ہے۔

عدالت نے سوال کیا کہ بیرسٹر صاحب آپ کو دلائل مکمل کرنے کے لئے مزید کتنا وقت درکار ہے ؟ ، جس پر علی ظفر نے بتایا کہ مجھے تقریباً 45منٹ لگ جائیں گے۔

بعدازاں عدالت نے بیرسٹر علی ظفر کو آئندہ سماعت پر دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اپیل پرمزید سماعت 10اگست تک ملتوی کردی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -