’ہم کشمیر کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں‘فواد چوہدری نے مودی سرکار کا کچا چٹھا کھول دیا 

’ہم کشمیر کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں‘فواد چوہدری نے مودی ...
’ہم کشمیر کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں‘فواد چوہدری نے مودی سرکار کا کچا چٹھا کھول دیا 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ کشمیر پر ہم نے چار جنگیں لڑیں، میرے حلقہ جہلم میں کوئی ایسا گاؤں نہیں جس کے سپوت نے کشمیر کے لئے جان قربان نہ کی ہو، ہماری معاشی اور خارجہ محاذ پر پالیسیاں کشمیر کے مسئلہ کے گرد گھومتی ہیں، ہم کشمیر کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہٹلر کے نظریئے کے بہت قریب ہیں، وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہاں کوئی قانون نہیں، مودی نتائج کی پرواہ کئے بغیر بھارت جیسے بڑے ملک میں ہندوتواکا نظریہ مسلط کرنا چاہتا ہے،اگر بھارت کشمیر کا مسئلہ حل کر دیتا ہے تو پاکستان، بھارت اور چین دنیا کے اہم معاشی مراکز بن سکتے ہیں۔

 نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئےوفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارتی حکومت کی غیر ذمہ دارانہ، غیر قانونی اورجابرانہ پالیسیوں کی وجہ سے خطہ کو کئی مواقع سے محروم ہونا پڑا ہے، 5 اگست 2019ءکو بھارت نے جو اقدام اٹھایا، کوئی ذمہ دار حکومت اس طرح کا اقدام نہیں اٹھاسکتی، بدقسمتی سے بھارت میں ایک ایسی حکومت قائم ہے جسے عالمی ذمہ داریوں کا ادراک نہیں، یہ انتہاپسند لوگ ہیں اور آر ایس ایس کے فلسفے کے بہت قریب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کئی مرتبہ اپنی تقاریر میں بھارت کی موجودہ حکومت کے آر ایس ایس نظریئے کا حوالہ دے چکے ہیں، بھارتی وزیراعظم مودی کے 5 اگست کے اقدام پر پوری دنیا حیران ہے، بھارت کے اندر اور بیرونی دنیا میں 5 اگست 2019کے بعد آنے والے ردعمل سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے جبری طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت بدلنےکی کوشش کی،بھارت میں کانگریس نے اس اقدام کی مخالفت کی جو ریکارڈ پر موجود ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سچ کہا جائے تو معاشی مفادات بھی اہمیت رکھتے ہیں لیکن بھارت کو اس غیر قانونی قبضہ کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے،اگر آج کشمیر کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے ہمسائیگی کے تعلقات قائم ہو جائیں گے،وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ سات مرتبہ بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اپنا وژن پیش کیا ، وزیراعظم عمران خان پاکستان کے ان چند رہنماؤں میں سے ہیں جو بھارت کو اچھی طرح جانتے ہیں، بھارت میں ان کے دوست ہیں، انہیں وہاں مشہور شخصیت کا درجہ حاصل ہے۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ایک مرتبہ جب وہ بھارت گئے تو وہاں پر کہا کہ اگر عمران خان دہلی میں جلسے سے خطاب کریں تو یہ پاکستان میں ان کی ریلیوں سے بڑا جلسہ ہوگا،عمران خان بھارت میں بھی بہت مقبول ہیں،عمران خان کا بھارت سے تعلقات کے بارے میں وژن یہ ہے کہ اگر دونوں ممالک کشمیر کا معاملہ حل کرلیتے ہیں تو پاکستان دنیا کی دو بڑی منڈیوں بھارت اور چین کے درمیان ہوگا اور خطہ ترقی کی جانب گامزن ہوگا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم مودی کا انداز فکر ہٹلر سے ملتا جلتا ہے، مودی کو یقین ہے کہ یہاں کوئی عالمی قانون نہیں ہے، وہ انتہاپسند ہندوتوا نظریئے پر یقین رکھتے ہیں، وہ نتائج کا ادراک کئے بغیر بھارت جیسے بڑے ملک میں اسے مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں اس بات کا ادراک نہیں کہ لوگ اس پر کیا رد عمل ظاہر کریں گے؟ہٹلر نے یورپ میں جو کچھ کرنے کی کوشش کی، یہ اس کے بہت قریب ہیں،یہ موازنہ ان کے ساتھ فٹ بیٹھتا ہے اور یہ حقیقت پر مبنی معاملہ ہے اور عمران خان دنیا کے سامنے اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اقوام متحدہ میں عمران خان نے متاثر کن تقریر کی، 5 اگست 2019ءکے بھارتی اقدام کے بعد پاکستان نے فعال سفارتکاری سے کشمیر پر آواز بلند کی، 65 سال بعد پہلی بار اقوام متحدہ میں کشمیر کا معاملہ دوبارہ اٹھایا گیا اور برطانوی پارلیمنٹ میں بھی کشمیر کے مسئلہ پر بحث کا آغاز ہوا، چنانچہ پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر موثر انداز میں اجاگر ہوا، وزیراعظم عمران خان کی کوششیں اور وژن مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر زندہ رکھنے کا باعث بنیں، ہم کشمیر کے لئے کسی بھی حد تک جائیں گے، ہمارے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جس طرح کینیڈا کے امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں، اسی طرح پاکستان بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں، اس حوالے سے پیشرفت کے لئے بھارت کو 5 اگست کے اقدامات واپس لینا ہوں گے، انتہاپسند نظریئے کو جنوبی ایشیاکی خوشحالی، خودمختاری اور آزادی کے خواب پر قابض نہیں ہونا چاہئے، بھارت کے عوام اس انتہاپسند نظریئے سے بھارت کو باز رکھنے کے لئے بھارتی حکومت پر دباؤڈالیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں کشمیری عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہیں، وزیر اعظم عمران خان متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے، ہم کشمیر کے لئے جو کر سکتے ہیں وہ کریں گے، یہ ہر انسان کی بنیادی آزادی اور بنیادی حق ہے اور کشمیر کے لوگوں کو بھی یہ حق حاصل ہے،دنیا کو سمجھنا چاہئے کہ بھارت اور پاکستان دو ایٹمی طاقتیں ہیں، یہ تنازعہ جنگ کی حد تک نہیں جانا چاہئے، اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان خدانخواستہ جنگ ہوتی ہے تو اس جنگ کے اثرات دنیا کے تمام ممالک تک جائیں گے،لہذا عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو کشمیری عوام، اس خطے کے اربوں لوگوں اور دنیا کی معیشت کے لئے انتہائی اہم ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد کشمیر پر پارلیمان کے اندر کئی مرتبہ بحث ہوئی، ہم نے تین مشترکہ قراردادیں منظور کیں، پاکستانی سیاسی جماعتوں کے آپس میں بہت سے اختلافات ہیں لیکن جب کشمیر کی بات آتی ہے تو تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جاتی ہیں، ہم نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاسوں میں تین سے زائد قراردادیں منظور کی ہیں۔

مزید :

قومی -