قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا” انڈیا کبھی بھی ایک نہ تھا۔نہ ایک ہے نہ ایک رہے گا۔۔“

 قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا” انڈیا کبھی بھی ایک نہ تھا۔نہ ایک ہے نہ ...
 قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا” انڈیا کبھی بھی ایک نہ تھا۔نہ ایک ہے نہ ایک رہے گا۔۔“

  

 تحریر : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

قسط (5) 

آل انڈیامسلم لیگ ۔۔۔ پس منظر:(برطانوی حکومت کا خاتمہ)

مغل سلطنت کے زوال کے بعدانگریز ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے پورے ہندوستان پر قابض ہونے لگے ۔ انگریز نے ہندوستان کے شمال مشرقی حصہ پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے1753ءمیںقبضہ حاصل کیا اور آہستہ آہستہ ہندوستان کے مختلف حصوں پر قبضہ کرتے گئے اور شمال مغربی حصہ (موجودہ پاکستان) پر1849ءمیں قابض ہو گئے۔ دراصل انگلستا ن کی ایسٹ انڈیا کمپنی تجارت کے ذریعے مغلیہ دور میںہند میں داخل ہوئی تھی اور آہستہ آہستہ مضبوطی حاصل کرتی گئی۔تجارت کےساتھ ساتھ انڈیا کے مختلف حصوں پر 1805ءتک ملکیت حاصل کر لی اورایک طاقت کی رُوپ میں بڑھتی گئی۔ہند کی دھرتی پر مختلف اقوام اور ذات کے لوگ آباد تھے۔ ریاست راجپوتانہ ، کاٹھیاواڑ حیدرآباد دکن ، میسور، ادھر قلات ،لسبیلہ ، مکران ،فاران اور بہاولپور وغیرہ تھیں۔23۔1813ءتک مرہٹوں نے کمپنی کے لیے مشکل وقت پیدا کیاتاہم کمپنی کی قوت گرِنے سے بچتی رہی۔

 انگریز نے سندھ پر 1843ءمیں قبضہ حاصل کیاجبکہ موجودہ پاکستان کا حصہ سکھوں کے زیرِ حکومت و کمان میں تھا۔ سکھوں سے 1849ءمیں حکومت حاصل کی اور فرنٹیئر تک انگریز کی رسائی ہو گئی۔ شمال میں انگریز فوج نیپال پر1814-16ءتک قابض ہو گئی اور مسلمانوں کو انگریز نے دبانے کی کوشش کی اور ہمالیہ کی پہاڑیوں تک بڑھتی گئی۔ مشرق میں برما تک رسائی1885ءتک حاصل کر لی۔ آسام پر بھی قابض ہو گئے۔ اگرچہ انگریز کے خلاف مقامی قبیلوں اور علاقوں میں رنجشیں تھیں۔مگر مقامی حکومتوں اور فوج میں انتشار پیدا ہو گیا۔فوج میں بغاوت اس لیے ہوئی کہ فوج میں بندوق کے سرِے پر سورکی چربی کا استعمال کیاگیا۔انگریز قابض ہوتا گیا۔انگریز نے آنے کے بعدہندوﺅں میں ”ستِی “کی رسم کو ختم کرنے کی کوشش کی اور بہت سارے واقعات اکٹھے ہو گئے۔

 لہٰذا 10 مئی 1857ءکو میرٹھ میں انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے لیے بغاوت کاعلم بلند ہو گیا جو آگ کی طرح ہند کے باقی حصوں میں پھیل گیا۔ اس میں ہندو اور مسلمان شامل تھے۔ تاہم سکھوں نے پنجاب میں اور دِکن نے تیزی سے حصہ نہ لیا۔ جب نفرت کا طوفان انگریز کے خلاف اٹھا ،شروع میں فوج کے سپاہی تھے جنہوں نے جانوں کی قربانی پیش کی۔ بعد میں بادشاہ زادے ، لینڈ لارڈ اور عام آدمی نے بڑی جرأت کے ساتھ انگریز سرکار کی مخالفت کی۔یہ سبھی کچھ مرکزی ہندوستان اور شمالی ہندوستا ن میں ہوا ۔ انگریز فوج نے نہایت بے دردی سے لوگوں کو موت سے آشنا کیا اور 14 ماہ پورے ہوگئے۔بے حساب لاشیں زمین پر بے آب ماہی کی طرح تڑپتی رہیں۔بے شمار لاشیں درختوں پر لٹکائی گئیں۔ لا تعداد کفن کے بغیر زمین کا حصہ ہو گئے۔ آزادی کے متوالے اپنا پیغام آزاد وطن کا دے گئے۔

 برطانوی فوج نے بڑی جدوجہد کے بعد 1858ءتک ” بغاوت“ (آزادی کی لہر) کو کنٹرول میں کر لیااور حکومت کی باگ ڈور مضبوط کر لی۔ طاقت سے ہندوستان کے مختلف حصوں،ریاستوں ، قوموں ، زبانوں ، تہذیبوں کو کنٹرول کرنا اتنا آسان نہ تھا۔ کیونکہ ہند کے شمال مغرب میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ تھی۔ تہذیب و تمدنّ، مذہب ، زبان، لباس، ثقافت جُدا تھی۔ لوگ اسلام کے پیروکار تھے۔ہند کے شمال مشرق میں بھی مسلمانوں کی آبادی اکثریت میں تھی۔ تہذیب ، تمّدن ، کاروبار ، روزی کمانے کے طریقے ، لباس، صنعت و حرفت ، قدوقامت ایک جیسا مگر زبان بنگالی اور مذہب اسلام کے پیروکار تھے۔ سنٹرل انڈیامیں مختلف تہذیب ، مذہب ، خاندان ، نسل، زبان سب کچھ جُدا تھا۔ لہٰذا ہندوستان جو ہمیشہ مختلف تہذیبوں میں بٹا ہوا تھا۔ اس کے مختلف علاقوں میں مختلف حکومتیں تھی۔ کسی حصے میں راجہ مہاراجہ حاکم تھے۔ کسی پر پرتھوی راج چوہان کی حکومت تھی۔حیدرآباد دکن ، مرہٹے ، راجپوت سب جُدا تھے۔ سب کے سب انگریز کے محکوم ہو گئے۔ اِسی بناءپر قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا” انڈیا کبھی بھی ایک نہ تھا۔نہ ایک ہے نہ ایک رہے گا۔ تقسیم سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“ انگریز کے قابض ہونے کے بعد ہندوستان میں صرف برٹش انڈیا کی ایک مرکزی حکومت بنتی گئی۔ روس کی کاوش تھی کہ وہ افغانستان کے راستے سمندر تک قبضہ حاصل کر لے ۔ کیونکہ افغانستان میں امیر امان اللہ خان کی کمزور حکومت تھی۔ برطانوی پالیسی کی وجہ سے انڈیا کی اقتصادی پوزیشن میں نکھار آنے لگا اور ہندوستان نے1853ءتک ٹیکسٹائل مارکیٹ تک رسائی پائی۔آہستہ آہستہ انگریز کا قبضہ مضبوط ہوتا گیا۔ قبضے کے بعد حکومت ہندوستان کی ایڈمنسٹریشن میں تبدیلی لائی گئی۔ انگریزی زبان رائج ہوئی، لباس، اورانگریزی کلچر کو ہر دلعزیز کیا۔ مغل بادشاہت کے دوران سرکاری زبان فارسی تھی۔ پھر اُردو ہوئی۔ انگریز نے اپنا کلچر چرچ اورسکول کی تعلیم کے ذریعے پھیلایا۔ مغربی طرز کی تعلیم کا رواج 1835ءسے شروع کیا جو آج تک چلا آ رہا ہے۔ 

 اِسی دوران1819ءکے قریب ” دی برہمنو سماج“ THE BRAHMO SAMAJ ہندوستان کی اپنی تہذیب کی تحریک رام موہن رائے نے شروع کر دی کہ ہندو اپنے مذہب کو جاری رکھے ۔ انگریز کی بات نہ مانی جائے گی۔ اسی طرح آریہ سماج کی تحریک اٹھتی نظر آنے لگی۔ بنگال میں مسلمانوں کی تحریکیں اٹھنے لگیں۔ کٹر ہندو انگریزی راج کو اپنے مذہب میں مخالفت سمجھنے لگے اور جلسے جلوس، کارنر میٹنگ کے ذریعے اظہار نفرت ہونے لگا۔ لہٰذا انگریز سرکار کے خلاف اور ہندو دھرم کے حق میں سارے ہندوستان میں آگ لگنے لگی۔ مسلمانوں نے بھی کروٹ بدلی۔ سیداحمد شاہ شہید بالا کوٹ اور دیگر مذہبی تحریکیں میدان میں آنے لگیں۔انگریز نے ہندوﺅں میں بے چینی کو روکنے کےلئے اپنے ایک سابق سول سرونٹ اے کے ہیوم کے ذریعے انڈین نیشنل کانگریس کی تجویز دیکر نئی سیاسی جماعت قائم کر دی تاکہ انڈیا کے ہندواور سرکردہ لوگوں کو ہندوستان میں سیاسی پلیٹ فارم مہیا کیا جائے اور ان کی معاشرہ میں شناخت کی جائے۔ کانگریس کو ہندوﺅں نے قبول کیا۔پہلا صدر انگریز ، دوسرا صدر انگریز ، تیسرا صدر انگریزاور چوتھا صدر انگریز بعد میں صدارت ہندوﺅں اور مسلمانوں کو میسّر آتی رہی۔ پھر اسی جماعت نے انگریز کو ہندوستان سے نکل جانے کے لیے کہا۔گاندھی جی اور پنڈت نہرو کا خاندان کانگریس میں شامل ہو گیا اور ان کا سیاسی تشخص بڑھتا گیا۔ گاندھی جی نے پہلی ایجی ٹیشن 1905ءمیں (NON-VIOLENT)(NON-CO-OPERRATION ) انگریزکےخلاف مقدمہ سے شروع کی اور سیلف رول (اپنی حکومت) کا مطالبہ کر دیا ۔ ” سارواج‘ ‘کی کچھ اسی تحریک کا حصہ بنگال کی تقسیم 1905ءکے ساتھ منسلک تھا۔ 1905ءکی تقسیم بنگال میں ہندوﺅں نے مسلم بنگال یعنی مشرقی بنگال کے مسلمانوں کی املاک اور جانوں کو بڑانقصان پہنچایا۔بنگال کے ہندوﺅں اورکانگریس کے لیڈروں نے6 سال تک تقسیم بنگال کے خلاف احتجاج جاری رکھا اور لارڈ ہارڈنگ کے ذریعے دربار دہلی منعقدہ1911ءبسلسلہ کنگ جارج فورتھ کی تاجپوشی کے موقع پر جس میں ہندوستان بھر کے حکمران، سردار، اور انگریز کے وفادار جاگیردار اکٹھے تھے۔ بنگال کی تقسیم کا فیصلہ واپس لیا گیا۔ اس سے بنگال کے مسلمانوں میں بڑی مایوسی کی لہر دوڑ گئی اور ہندو، کانگریس بڑے خوش ہو گئے۔ کیونکہ مسلمان دوبارہ پستی کی طرف دھکیلے گئے۔ 

 یہ وہ واقعات تھے جن کی بناءپر مسلمانوں کے ذہن میں آزادی اورعلیٰحدگی کی روش پروان چڑھی۔ 1857ءکی جنگ آزادی کے بعد ہندوﺅں نے اپنے آپ کو بچا لیا۔ انگریز سرکار کو خبردار کیا کہ آپ نے مسلمانوں سے ہندوستان کاقبضہ کیا ۔ یہ مسلمان آپ سے بدلہ لیں گے اور یہ مسلمان ہمارے بھی دشمن ہیں کہ انہوںنے ہماری دھرتی پر قبضہ کیا ۔ اس کو پلید کر دیا۔ ہم آپ کے خلاف بغاوت نہیں کریںگے ۔ہم مسلمانوں کے بہکاوے میں آگئے تھے۔ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ نے ہمارے لیے انڈین نیشنل کانگریس پارٹی بنائی۔ ہندوﺅں نے انگریز کو بتایا کہ بنگال کی تقسیم سے مسلمانوں کے علاقے میں تعلیم اور سماج میں ترقی ہوجائے گی۔ پھر آپ کےلئے مسئلہ ہو گا۔ چنانچہ انگریز نے مسلمانوں کے علاقوں کو تعلیم سے محروم رکھا۔ 1919ءمیں مینٹگوچیمسفورڈ ریفارم آئیں کہ ہندوستان کے صوبے اپنی کونسل کےلئے ممبران انتخاب کے ذریعہ چُن لیں۔ مگر اِس ریفارم میں مسلمانوں کے علاقوں خاص کر سرحد اوربلوچستان کو محروم رکھاگیا۔ وقت گزرتا گیا۔ انگریز اور ہندو مختلف طریقوں سے یکجا ہونے شروع ہو گئے اور مسلمانوں کوتعلیم و ترقی سے محروم رکھنے لگے۔ انگریزسرکار ایک طرف اپنی گرفت مضبوط کرنے کےلئے کوشاں تھی تو دوسری طرف ہندوستان میں سوشل ریفارمز کر رہی تھی۔ غیر پسندیدہ مسلمانوں کو بغیر ٹرائل کے جیل میں ڈال دیا جاتا تھا۔ گاندھی جی نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور اپنی” عدم تشدد تحریک“ کا آغاز کردیا۔رولٹ ایکٹ کے تحت امرتسر میں جلیانوالہ باغ میں جنرل ڈائیر نے گولی چلائی جس میں ہزاروں انسان مارے گئے۔ کچھ نے کنوﺅں میں چھلانگیں لگائیں۔ آزادی ہندوستان کے تصّور میں مزید تیزی آ گئی۔ مسلمانوں کے ساتھ ایک مزید بدقسمتی ہوئی کہ ترکی کی خلافت کے حق میں تحریک خلافت کا آغاز1920-22ءمیں ہو گیا۔ 

 تاکہ ترک سلطان کو مذہبی روحانی پیشوا رکھا جائے۔ اس کام کےلئے ہندوستان کے مسلمانوں نے خاص کر امرتسر کے مسلمانوں نے کابل کی طرف ہجرت شروع کر دی۔ اپنے گھر اور زمین بیچ ڈالی۔ کاروبار ختم ہو گیا۔ کئی لوگ راستے میں فوت ہو گئے۔ کئی لوگ افغانستان پہنچ کر بیمار ہو گئے۔ وہ بھی پردیس میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ادِھر ترکی نے خلافت کو خود ہی خیرباد کہہ دیا اور ہندوستان میں مسلمان غربت کی حالت میں مر گئے۔ مزے کی بات تو یہ تھی کہ تحریک خلافت میں گاندھی جی شامل ہو گئے اورمسلمانوں کے مفاد کی باتیں کرنے لگے۔ اس طرح مسلمانوں کے چیدہ چیدہ لیڈر بھی تحریک خلافت میں آگے آگے تھے۔ گاندھی جی نے اپنا منافقانہ روپ دکھایااور تحریک خلافت سے علیٰحدہ ہو گئے۔ اُن کےساتھ خان عبدالغفار خان بھی جُدا ہو گئے۔ ظاہری طور پر گاندھی جی اور کانگریس نے عام لوگوں کو دکھایا کہ ہندو مسلمان ایک ہیں۔ حالانکہ آگ اور پانی کیسے اکٹھے رہ سکتے ہیں؟مسلمانوں کو ہندوﺅں اور کانگریس سے لڑا دیا۔ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے۔ مزید نفرتیں پیدا ہو ئیں۔ ایک بڑی نفرت ہندو مسلمانوں میں تقسیم بنگال کا1911ءمیں خاتمے کی صورت تھی۔ دوسری تحریک خلافت میں دھوکہ ، تیسری مسلمانوں کو بذریعہ ووٹ انتخاب میں دھوکہ دیا گیا اور مسلمانوں کو ہر معاملہ میں پیچھے رکھا گیا۔ساتھ ہی کانگریس کے اندر اختلاف اُبھر آئے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو صدر کانگریس تھے۔ سبھاش چندر بوس کا تعلق بنگال سے تھا۔وہ فوجی گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔انیسویں صدی کے درمیان وہ ہندوستا ن سے انگریز کو چلتا کرنا چاہتے تھے۔ سبھاش چندر طاقت کے استعمال سے آزادی حاصل کرنے کے حامی تھے۔ اس نے کانگریس سے کہا 1869ءتک آزادی حاصل کر لیں۔ 

 1930ءمیں گاندھی جی نے نیا انداز اپنایا۔ تحریک سوِل نافرمانی اور مکمل آزادی، ساوراج کا نعرہ لگایا۔ کانگریس ، خدائی خدمت گار ،مسلم نیشنلسٹ سب نے حصہ لیا تحریک سارے ہندوستان میں پھیل گئی۔مگر محمد علی جناحؒ نے حصہ نہ لیا۔ وہ اس تحریک کو نئی چال سمجھتے تھے۔ گاندھی جی کے ساتھ 60,000 لوگ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں پابند سلاسل کر دیئے گئے۔ یہ تحریک 1930-45 ءتک جاری رہی۔ تاہم مسلمان اپنی آزادی کے بارے میں سوچنے لگ گئے۔ اس تحریک سے قبل ڈھاکہ میں مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کا27-30 دسمبر1906ءمیں رہائش گاہ نواب سلیم اللہ خا ن پراجلاس ہوا۔جس میں سیاسی پلیٹ فارم کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیا گیا اور نواب شمس الملک کی زیر صدارت 1906ءمیں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس افتتاحی تقریب میں ہندوستان بھر کے چیدہ چیدہ مسلمان لیڈر ، زعماءموجود تھے اوراس طرح مسلمانوں میں سیاسی شعور بیداری کا عمل شروع ہو گیا۔ 

 10اکتوبر1913ءکو محمد علی جناحؒ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے صدرمنتخب ہوئے۔ آپ کے ممبرشپ فارم پر مولانا محمدعلی جوہراور حسن علی نے تصدیق کی۔مسلم لیگ کے دفاتر مختلف صوبوں اورضلعوں میں کھولے گئے۔ 1908ءمیں پنجاب برانچ آف مسلم لیگ بنائی گئی۔ علامہ محمداقبالؒ مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ سرعلامہ محمد اقبال نے الہ آباد کے مقام پر30دسمبر 1930ءکواپنے خطبہ صدارت میں ہندوستان کے اندر مسلم انڈیا کی تجویز پیش کر دی۔ 

 لارڈ اُردن وائسرائے ہند کی گفتگو کے بعد گاندھی جی نے تحریک کو ختم کر دیا اور راﺅنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کےلئے لندن روانہ ہوگئے۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبال بھی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کےلئے گئے تھے اور اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔1940ءمیں قرار داد لاہور پاس ہو ئی۔ اور فیڈرل سسٹم آف برطانیہ کے خلاف تقریر کی۔یہاں پر بھی مسلمانوں کے مفاد کا خیال کیا گیا۔ آل انڈیا کانگریس پارٹی میں کٹر ہندو مثلاً بال گنگا دھرتلک برہمن جیسے داخل ہو گئے۔ وہ مسلمانوں کے خلاف (Millitant ) ملی ٹینٹ نظر ئیے کے حامی تھے۔ اسی طرح بے شمار ہندوﺅں کی تحریکیں مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں۔ کانگریس کی ساری تحریکیں ہرایک زاویہ پر ہندو کی حامی تھیں۔ اس لیے مسلمانوں کے اندر بے چینی بڑھنا شروع ہو گئی اور سبھاش چندربوس جیسے لوگ آگئے ۔ وہ بھی طاقت کے استعمال سے آزاد ی چاہتے تھے۔ انگلستان میں انگریز نے 1939ءمیں ذہن بنا لیا تھاکہ ہندوستان کی حکومت سے واپسی کی جائے۔ چنانچہ آزادی ہند کی خاطر لندن سے کرپس مشن، ونسٹن چرچل وزیر اعظم انگلستان نے بادل نخواستہ امریکہ کی ایما ءپر ہندوستان روانہ کیا جو مایوس ہو کر واپس آگیا۔1942 ءمیں کانگریس کے لیڈر اورگاندھی جی جیل میں دھکیل دیئے گئے۔

 برطانوی حکومت کو بڑی مشکلات اس لیے پیش آ گئیں کہ آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت ایک بڑے ذہین اور دیانت دار بیرسٹر محمد علی جناحؒ کو میسّر آئی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے بڑی جانفشانی سے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سارے ہندوستان کے دورے کیے اور مسلمانوں کو دعوت دی کہ وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں۔ مسلم لیگ نے1937ءکے انتخابات میں اتنی پوزیشن حاصل نہ کی اور کانگریس کی 6 بڑے صوبوں میں وزارتیں قائم ہو گئیں۔الیکشن کے بعد کانگریس حکومت نے6 صوبوں میں 1937-1939ءتک حکومت کی مگر مسلمانوں کے ساتھ بڑی زیادتی کی گئی۔ جس سے مسلمانوں کے دِلوں میں ہندومسلم اتحاد کا جذبہ ختم ہو گیا۔23 مارچ1940ءکو مسلم لیگ کے 27ویںاجلاس لاہور میں قرار داد لاہور ایک بڑے جلسے میں منظور ہوئی۔ 1946ءکے انتخابات میں مسلم لیگ نے ہندوستان بھر سے بھاری اکثریت سے مسلمانوں کے ووٹ حاصل کیے اور پاکستان کی راہ ہموار ہو گئی اور14 اگست 1947ءکو دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک ابھر کر سامنے آ گیا۔

 3جون1947ءکو تقسیم ہند کا اعلان ہندوستان کے آخری وائسرائے ہند نے آل انڈیا ریڈیو سے کیا۔ مسلم اکثریت والے ہندوستان کے علاقے کو پاکستان ڈومین کا نام دیا گیا اور ہندو اکثریت والے علاقہ کو بھارت کا درجہ دیا گیا۔ کوئی 500 سے زائد ریاستوں کو آزادی دی گئی کہ وہ مرضی سے اپنا الحاق بھارت یا پاکستان سے کر سکتے ہیں۔ اگر ان کی سرحدیں کسی ایک ملک کے ساتھ ملتی ہیں۔ 

 باؤنڈری کمیشن اس لیے تشکیل دیا گیاکہ مسلم اکثریت والے علاقوں کو جُدا جُدا مختص کیا جائے۔ پنجاب کی تقسیم میں کمیشن کے سربراہ سرریڈکلف نے ڈنڈی ماری۔ آخری وقت17 اگست1947ءکو گورداسپور، اجنالہ،زیرا اور امرتسر کی تحصیل فیروز پور ہیڈ ورکس جو مسلم اکثریت والے علاقے تھے ہندوستان کو دئیے گئے تھے۔ مشرقی پنجاب سے 6 ملین کے قریب مہاجرین کسمپرسی کی حالت میں پاکستان بڑی مشکلات کے سفر سے آئے اور4.5 ملین ہندو سکھ مغربی پنجاب سے مشرقی پنجاب اور دیگر علاقوں میں گئے۔اسی طرح بنگال کی تقسیم میں1.7 ملین ہند و مشرقی بنگال سے مغربی بنگال اپنا گھر باہر چھوڑ کر گئے اور اسی طرح لاکھوں کی تعداد میں مسلمان کلکتہ ، بہار اور دوسری جگہوں سے مشرقی پاکستا ن منتقل ہو ئے۔ پاکستا ن ووٹ کے ذریعے حاصل ہوا۔ تقسیم ہند سے قبل پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے مسلمان ممبران نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ جبکہ ہندو اور سکھ نے ووٹ نہیں دیا تاہم تقسیم ہند قبول کی۔  

 صوبہ سندھ کی اسمبلی نے1947ءسے قبل پاکستا ن کے حق میں ووٹ دیا۔ مشرقی بنگال اور آسام نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔سلہٹ میں ریفرنڈم پاکستان کے حق میں ہوا۔ بلوچستان کے جرگہ ممبران اور میونسپل کمیٹی کے ممبران نے جون1947ءمیں پاکستان کے حق میں ووٹ دیئے۔ فرنٹیئرمیں مسلم لیگ نے 17 نشستیں حاصل کی تھیں۔21 کانگریس کی تھیں۔3 ممبر کانگریس سے ہٹ کرمسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ اس طرح 20 ممبران مسلم لیگ کے ہو گئے۔ اس سے قبل فرینٹئرمیں20-17 جولائی1947ءریفرنڈم ہوا لوگوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیئے۔ 

 کشمیر میں مہاراجہ کی حکومت تھی۔ باؤنڈری ، کلچر، مذہب سب کچھ پاکستان کے ساتھ ہے۔مگرمہاراجہ نے اپنا وقتی الحاق بھارت سے کر لیاتھا۔ بھارت نے 26 اکتوبر 1947ءکو گورداسپور کے راستہ فوجیں بھجوادیں۔ کشمیر کے لوگ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انڈیا پاکستا ن کی جنگ لگ گئی۔1949ءمیں یو این او نے جنگ رکوا دی۔ 

 مسلم لیگ تقسیم بنگال اور پنجاب کے حق میں نہ تھی۔ تاہم سرریڈکلف کی غلطیوں کی وجہ سے 500,000سے زائد لوگ بڑی بے دردی سے قتل ہوئے۔ معصوم ،بوڑھے، جوان عورتیں قتل ہوئیں اور مہاجرین کا تبادلہ ہوا۔ لوگوں کی جان و مال ، دکانیں، گھر جلائے گئے۔ کچھ ریاستیں اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئیں مثلاً قلات ، لسبیلہ، مکران،بہاولپور،ا مب دربند،ریاست سورت۔ہندوستان نے حیدر آباد دکن میں پولیس ایکشن سے قبضہ کر لیا۔ اسی طرح جونا گڑھ اور دیگر ریاستیں ہندوستان نے ہڑپ کر لیں۔مشرقی پنجاب اور مغربی بنگال کے مسلمانوں کو نہایت بے دردی سے قتل کیا گیا۔ 

 قائد اعظم محمد علی جناحؒ (1876-1948ء) مسلم دنیا کے عظیم سیاسی رہنما تھے۔ آپ کراچی میں پیدا ہوئے،وہیں مدفن ہوئے۔ آپ پاکستا ن کے پہلے گورنرجنرل بنے۔ آپ نے 1906ءمیں آل انڈیا کانگریس میں شمولیت اختیارکی اور اپنی قابلیت ، ذہنی سوچ، غیر متزلزل قوت سے ہندومسلم اتحاد کے پیامبر پکارے گئے۔ جب آپ کانگریس کے ہندوانہ رویّہ سے مایوس ہوئے تو ایک قوت بن کر مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے دو قومی نظریہ کے تحت تحریک چلائی۔ مسلمان قوم نے آپ کی صداقت ، ذہانت، دیانت کی وجہ سے 1947ءمیںآپ کو قائداعظمؒ کا خطاب دیا ۔ آپ نے 14 اگست 1947ءکو پاکستا ن کے پہلے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا۔ ( جاری ہے ) 

کتاب ”مسلم لیگ اورتحریکِ پاکستان“ سے اقتباس (نوٹ : یہ کتاب بک ہوم نے شائع کی ہے، ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ )

مزید :

بلاگ -