کالا باغ ڈیم ہماری لائف لائن 

  کالا باغ ڈیم ہماری لائف لائن 
  کالا باغ ڈیم ہماری لائف لائن 

  

 انتہائی افسوس کے ساتھ بتانا پڑ رہا ہے کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں پر ڈیموں، آبی ذخائر اور ملکی بقاء  کے دشمن آزادنہ اور پرآسائش زندگی گزار رہے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ کھاتے بھی پاکستان کا ہیں اور مخالفت بھی اسی کی کرتے ہیں وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے 75سال گزر گئے ہیں اس مٹی پر صدارتی نظام جمہوری نظام، آمریت،سول آمریت بہت سے طرز حکومت کے تجربات کیے گئے لیکن آج تک قوم کو کالا باغ ڈیم نصیب نہ ہو سکا سیاستدانوں اور  مفادپرستوں نے کالا باغ ڈیم کو یوں الجھایا کہ اسے عوام کے سامنے ایک معمہ اور ناقابل حل مسئلہ بنا کر کھڑا کر دیا آج کے کالم میں ہماری کوشش رہے گی کہ آپ کے سامنے کالا باغ ڈیم پروجیکٹ  کو تفصیل کے ساتھ پیش کریں   اگر حکومت پاکستان اپنے باقی ماندہ اربوں روپے کے پروجیکٹس کے ساتھ  کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یقین کر لیں کہ یہ ا پنے فنگشنل ہونے کے ٹھیک دو سال بعد اپنی لاگت واپس کر چکا ہوگا یہ ڈیم بجلی کی سستی  پیداوار کے ساتھ ساتھ تقریبا پاکستان کی دس سے پندرہ لاکھ ایکڑ بنجر زمین کو آباد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے مختلف ذرائع سے اکٹھے کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق یہ ڈیم تقریبا ایک لاکھ میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی اہلیت رکھتا ہو گا یاد رہے کہ سخت گرمی کے موسم میں بھی پاکستان کی ضرورت تیس ہزار میگاواٹ ہے باقی ماندہ بجلی سے ملک کی بند انڈسٹری چلائی جا سکتی ہے روس اور چین کو نئی انڈسٹری لگانے کی دعوت دی جا سکتی ہے تحریر کو آگے لے جاتے ہوئے کالا باغ ڈیم کی لوکیشن کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کالا باغ ڈیم ضلع میانوالی کے ساتھ ایک پسماندہ علاقہ ہے خوش قسمتی سے کالاباغ کو اس لیے اتنی اہمیت حاصل ہے کیونکہ افغانستان سے دریائے کابل، سوات سے دریائے سوات اور دریائے سواں اسی جگہ سے ہو کر دریائے انڈس میں گرتے ہیں  جیسے ہی بارشوں کا موسم شروع ہوتا ہے بڑے بڑے سیلابی ریلے انہیں دریاؤں کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں سارے پاکستان میں اپنی تباہ کاریاں پھیلاتے ہو ے بغیر کسی رکاوٹ کے دریائے سندھ سے ہوتے ہوئے سمندر  برد  ہو جاتے ہیں

اگر ا سی جگہ پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر ہوجاتی ہے تو ہم ان دریاؤں اور برساتی ندی نالوں سے آنے والے پانی کو سٹور کر سکیں گے کالاباغ ڈیم میں پانی کی گنجائش نوے ملین ایکڑ فٹ سے بھی زیادہ ہے اگر یہ ڈیم تعمیر ہو جاتا ہے تو ہم اسی کے پانی کو رابطہ نہروں کی مدد سے دریائے جہلم میں چھوڑ سکتے ہیں جس سے تربیلا ڈیم کا پانی واٹر ریزرو میں چلا جائے گا اور اگر نہروں کو پانی کی سپلائی کالاباغ سے دے دی جائے تو تربیلا  ڈیم کو بھرنا آسان ہو جائے گا ابھی چونکہ ہم اپنی ذراعت کے لئے تربیلہ ڈیم سے ہی پانی لے رہے ہیں اسی وجہ سے تربیلہ بھرنے سے  پہلے ہی خالی کردیا جاتا ہے آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ دریائے سوات،سواں،کابل سے کالا باغ اور دریائے انڈس سے تربیلہ بھرا جا سکتا ہے کالا باغ ڈیم کو جب ڈیزائن کیا گیا تھا تو اس کے ساتھ کالا باغ رسول لنک بھی شامل تھی کالاباغ رسول لنک کے ذریعے کالاباغ ڈیم  سے پانی کی سپلائی دریائے جہلم کو دی جانی تھی  لیکن بدقسمتی اور غیر ملکی  فنڈنگ سے کچھ مردہ ضمیروں  نے اس پروجیکٹ کو اتنا متنازعہ بنا دیا کہ اس پر کام کو روکنا پڑا پروگرام کے مطابق دریائے کابل،سوات اور سواں سے آنے والے سیلابی ریلوں کو کالا باغ ڈیم اور  رسول لنک  کے ذریعے تین مشرقی دریاؤں چناب، ستلج اور راوی میں پہنچانا تھا یعنی یوں کہہ لیں کے کالا باغ ڈیم کا پانی کالا باغ رسول لنک اور دوسری رابطہ نہروں کے ذریعے چناب راوی اور ستلج کے ملحقہ علاقوں کو سیراب کرنے کے لیے پہنچایا جانا تھا اس وقت ان تین دریاؤں کا انحصار منگلا ڈیم پر ہے اگر ہم منگلا سے پانی نہیں چھوڑتے تو ذراعت ختم ہوتی ہے اور اگر سپلائی جاری رہتی ہے تو ڈیم خشک ہوتا ہے یقیننا آپ کافی حد تک پاکستان کے حالات اور واٹر سٹوریج سے واقف ہو چکے ہوں گے اب آپ ہی بتائیں کہ کالا باغ ڈیم کا وجود ہماری زراعت اور ملک کی لائف لائن ہے کہ نہیں؟کیا  اس کو متنازعہ بنانا پاکستان سے کھلی دشمنی کے مترادف نہیں ہے؟ میرے خیال میں یہ تعمیر کسی سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں کیونکہ یہاں تو صرف مفادات پالے جاتے ہیں ریاست کی فکر کس کو ہے۔

ہمارے پاس بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ جلد از جلد کالاباغ ڈیم تعمیر کیا جائے وزیر اعظم صاحب برائے کرم کالا باغ ڈیم پروجیکٹ کی حفاظت اور تعمیر میں مدد کی گارنٹی بھی لیں اگر حکومت اس پروجیکٹ میں کامیاب ہوگئی تو یقین کر لیں کے پہلے ہی دن سے ملکی زرمبادلہ میں اربوں ڈالر سالانہ کا اضافہ ہونا شروع جائے گا جو بجلی کے کارخانوں کو چلانے کے لیے تیل کی امپورٹ میں خرچ ہوجاتا ہے اس ڈیم سے قوم کو سستی بجلی میسر آئیگی اور اس میں جمع شدہ پانی کو نئی نہروں کے ذریعے ملک کے بنجر علاقوں تک پہنچا کر انہیں قابل کاشت بنایا جا سکے گا جس سے ملکی غذائی ضروریات کا زیادہ تر حصہ اپنی زمین سے ہی پورا کیا جائے سکے گا اور اس کے ساتھ  ہر سال آنے والے سیلابوں سے ملکی معیشت کو اربوں روپے  نقصان ہو جاتا ہے اس ڈیم کے بن جانے سے ملک سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہوجائے گا رابطہ  نہروں کے ذریعے اضافی پانی کو راوی، چناب،ستلج تک پہنچایا جائے اور ان  دریاؤں میں نئی جھیلیں  بناکر زمینی پانی کے لیول کو بلند کیا جائے اور آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ،مستحکم اور سر سبز  پاکستان دیا جائے اگر آپ یہ کر گئے تو یقین کر لیں کہ آپ صدیوں تک زندہ رہیں گے آنے والی نسلیں آپ کو قومی ہیرو اور نجات دہندہ کے روپ میں جانے لگیں۔

مزید :

رائے -کالم -