پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ آئین اورقانون کے نظر میں 

پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ آئین اورقانون کے نظر میں 

  

ملتان(سپیشل رپورٹر)معروف قانون دان وسابق گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ نے  الیکشن کمیشن کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے پر فیصلہ بارے قانونی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ایکٹ 2017کی دفعہ10کے تحت توہین عدالت کی کارروائی کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔آئین کے آرٹیکل 17کے تحت سیاسی جماعت\ایسوسی ایشن بنائی جاسکتی ہے لیکن قانونی پابندیوں کے اندر رہ کر  انہوں نے واضح کیا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002کے آرٹیکل 2کے ذیلی شق(C)کے تحت غیر ملکی فنڈنگ لینے والی جماعت کی وضاحت ہے اسی قانون کے آرٹیکل 6(3)کے تحت غیر ملکی حکومت،ملٹی نیشنل کمپنی،مقامی پبلک یا پرائیویٹ کمپنی،تجارتی،پروفیشنل ایسوسی ایشن سے فنڈنگ ممنوع تھی مگر انفرادی طور پر فنڈنگ کی اجازت تھی۔پولیٹیکل پارٹیز رولز 2002کے رول 4کے تحت پارٹی اکاؤنٹس کی تفصیل بمعہ اس کی صحیح اوردرست ہونے کی تصدیق بیان حلفی کی طرح فارم (1)رول(4)کے تحت پارٹی لیڈراپنے دستخطوں سے جمع کراتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ سالوں کی تفصیلات عمران خان کے تصدیق شدہ دستخطوں کے ساتھ جمع کرائی گئیں۔ بعدازاں الیکشن ایکٹ 2017آگیا جس کی دفعہ 200کے تحت سیاسی جماعت بنائی جاسکتی ہے جس کی دفعہ 210کے تحت سیاسی جماعت کواپنے حسابات کی تفصیل کمیشن کو جمع کرانی ہوتی ہے اور اسی طرح تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ جمع کرایا جاتا ہے کہ تمام مندرجات صحیح اوردرست ہیں۔ملک رفیق رجوانہ نے کہا کہ اسی ایکٹ 2017کی دفعہ 212کے تحت اگر الیکشن کمیشن کے ارسال کردی ریفرنس سے(جوکہ اب موجودہ صورتحال ہے) مرکزی حکومت مطمئن ہوجاتی کہ سیاسی پارٹی نے ممنوعہ فنڈنگ وصول کی ہے یا ملکی سالمیت کیخلاف یا دہشت گردی میں ملوث ہے تو سب آرٹیکل (2)اور(3)کے تحت پندرہ دن کے اندر سپریم کورٹ کو نوٹیفکیشن کرنے اورپارٹی کی تحلیل کیلئے معاملہ ارسال کرے گی اورپارٹی کی تحلیل کی صورت میں دفعہ 213کے تحت اس جماعت کے تمام اراکین اسمبلی اوربلدیاتی نااہل ہوں گے

مزید :

صفحہ اول -