پنجاب میں اسلام حملہ آوروں نے نہیں صوفیاءنے پھیلایا ،صوفیاء دربار اور بادشاہ سے تعلق کو اپنے لیے حرام قرار دیتے تھے

 پنجاب میں اسلام حملہ آوروں نے نہیں صوفیاءنے پھیلایا ،صوفیاء دربار اور ...
 پنجاب میں اسلام حملہ آوروں نے نہیں صوفیاءنے پھیلایا ،صوفیاء دربار اور بادشاہ سے تعلق کو اپنے لیے حرام قرار دیتے تھے

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط (3)  

اسلام کے اصل مبلغ۔ صوفیاء:

کیا پنجاب میں اسلام حملہ آوروں کے ذریعے سے پھیلا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے نہیں ہوا۔ پنجاب ہو یا برصغیر کا باقی حصہ یہاں اسلام کا پھیلاﺅ بنیادی طور پر ان صوفیا ءکا مرہون منت ہے جو مذہب، ذات پات اور نسلی تعصب کے مخالف تھے اور انسان دوستی کا پرچار کرتے تھے۔ ان صوفیاء کا اٹھنا، بیٹھنا، جینا، مرنا یہاں کے عوام کے ساتھ تھا اور وہ دربار اور بادشاہ سے تعلق کو اپنے لیے حرام قرار دیتے تھے۔ ان میں سے وہ جو باہر سے آئے تھے مقامی آبادی میں اتنا رچ بس گئے تھے کہ یہیں کے ہو کر رہ گئے تھے۔ ان کا لباس، خوراک، زبان ہرچیز مقامی تھی۔ پنجابی زبان ہو یا سندھی اس کے سب سے بڑے ادیب، ان زبانوں کو ترقی دینے والے اور ان میں لکھنے کو وجہ افتخار سمجھنے والے یہی صوفی تھے۔ انہوں نے ہر اس شے کو ترک کیا جس کا تعلق دربار سے ہو۔ زبان بھی انہی میں شامل تھی۔ انہوں نے یہاں کے عوام سے ہی نہیں یہاں کی دھرتی سے بھی سچی اور گہری محبت کی۔ ان کا قبلہ، کعبہ سبھی کچھ یہی خطہ ارض بنا۔ 

ان صوفیاءنے نہ صرف تبلیغ اسلام کی بلکہ اس ظلم اور بربریت پر مبنی وسطی ایشیائی ثقافت کی نفی بھی کی جسے حملہ آور ساتھ لائے تھے۔ وہ ظلم کو برا سمجھتے تھے اور قتل و غارت اور لوٹ مار کے خلاف تھے۔ شیخ محمد اکرام کے بقول ”پاکستان و ہند میں اسلام زیادہ تر صوفیائے کرام نے پھیلایا لیکن ان کا مطمع نظر اور طریق کار دور حاضر کے مشنریوں اور مبلغوں سے بالکل مختلف تھا۔ انہوں نے اپنے آپ کو فقط غیر مسلموں میں اشاعت اسلام کے لیے وقف نہ کر رکھا تھا بلکہ ان کے دروازے ہر ایک کے لیے خواہ وہ ہندو ہو یا مسلمان، امیر ہو یا غریب کھلے تھے۔ اور ان کا کام ہر ایک میں بلا کسی تفریق کے ارشاد و ہدایت تھا۔ ایک ہندو کے قبول اسلام سے انہیں جتنی خوشی تھی شاید اس سے زیادہ ایک مسلمان کے ترک گناہ سے ہوتی۔“

اسلام نہ تو محمد بن قاسم کی تلوار سے پھیلا اور نہ محمود غزنوی کی یلغار سے۔ اس بات کا ثبوت شیخ محمد اکرام کے اس خیال سے ملتا ہے جس کا اظہار اسی کتاب میں وہ اس طرح کرتے ہیں ”بحیثیت مجموعی یہ کہنا صحیح ہے کہ فتح سندھ سے حضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ کی آمد تک اشاعت اسلام کی رفتار اس سرزمین میں بڑی سست رہی۔ مگر اس کے بعد یکایک اس مستعدی اور جوش و خروش کا اظہار ہوا کہ پچھلی ست رفتاری کی بہت جلد تلافی ہو گئی۔“

وہ مشہور صوفی جو برصغیر میں تبلیغ اسلام میں پیش پیش ہوئے خواجہ معین الدین اجمیریؒ کے علاوہ بہاﺅالدین زکریا ملتانیؒ، شیخ رکن عالمؒ، سید جلال الدین سرخ بخاریؒ، سید احمد سلطان سخی سرورؒ، بابا فریدؒ، امیر کبیر سید ہمدانیؒ اور نور قطب العالمؒ ہیں۔ ان کے علاوہ اور ہزاروں صوفیاءنے یہ کام سرانجام دیا۔ 

 صوفیاءرواداری اور صلح پسندی کا درس دیتے تھے۔ کسی بھی مذہب کے برگزیدہ افراد کی برائی نہیں کرتے تھے۔ نیکی کی تلقین کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ ان کے ہاتھ پر اسلام لائے اور کروڑوں غیر مسلموں نے انہیں نگاہ احترام سے دیکھا۔ مرنے کے بعد بھی وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی مشترکہ میراث بنے اور آج تک صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی انہیں خراج عقیدت پیش کرنے آتے ہیں۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -