مشرقی پنجاب بالخصوص جالندھر ڈویژن کے تمام زراعت پیشہ جاٹ ہندو” سلطانی “ہیں

مشرقی پنجاب بالخصوص جالندھر ڈویژن کے تمام زراعت پیشہ جاٹ ہندو” سلطانی “ہیں
 مشرقی پنجاب بالخصوص جالندھر ڈویژن کے تمام زراعت پیشہ جاٹ ہندو” سلطانی “ہیں

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط (4)  

پنجاب میں آباد صوفیوں میں سخی سرورؒ کا نام ایسے ہی لوگوں میں شامل ہے جن کے معقتدین میں کثرت سے ہندو شامل رہے ہیں اور تقسیم ملک سے پہلے لاکھوں کی تعداد میں وہ ہندو جو سلطان سخی سرورؒ کی مناسبت سے سلطانی کہلاتے تھے آپؒ کے عرس میں شرکت کرنے مشرقی پنجاب سے آتے تھے۔ اور جب ملتان کے ہندو عامل دیوان ساون مل نے انہیں جرمانہ کرنا شروع کیا تو بھی وہ باز نہ آئے۔ شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں:

”پنجاب میں آج بھی ان کا اثر دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ وہ بڑے صاحب سطوت بزرگ تھے۔ بالخصوص پنجاب میں شاید ہی کوئی مسلمان اہل اللہ ہو گا جس کے اس کثرت سے ہندو معتقد ہوں۔ آپ کے ہندو معتقدوں کو سلطانی کہتے ہیں۔ اور مشرقی پنجاب بالخصوص جالندھر ڈویژن کے تمام زراعت پیشہ جاٹ ہندو جو سکھ نہیں ہو گئے سلطانی ہیں۔ ضلع جالندھر کے سرکاری گزیٹیئر میں لکھا ہے کہ اجمالی طور پر ہندو آبادی 2 حصوں میں تقسیم ہو سکتی ہے۔ گرو کے سکھ یعنی سکھ اور سلطانی جو ایک مسلمان پیر کے جسے سلطان سخی سرور ؒیا لکھ داتا بھی کہتے ہیں پیرو ہیں، (ص 121) آگے چل کر لکھا ہے زراعت پیشہ ہندوﺅں میں سلطانیوں کی اکثریت ہے اور ان میں چمار بھی ہیں۔ ان کا بیان ہو چکا ہے اگر وہ گوشت کھائیں تو صرف حلال کیا ہوا گوشت کھاتے ہیں۔ وہ سکھوں کے برعکس حقہ کثرت سے پیتے ہیں اور سر کے بال جس طر ح چاہیں رکھتے ہیں۔ ان کے دیہات میں گاﺅں سے باہر سخی سلطان کی زیارتیں ہوتی ہیں۔8 یا 10 فٹ کے قریب اونچی، چوڑی اور لمبی، جن کے اوپر ایک گنبد ہوتا ہے اور 4 کونوں پر چھوٹے چھوٹے مینار ہوتے ہیں۔ ہر جمعرات کو یہ زیارت صاف کی جاتی ہے اور رات کو چراغ جلائے جاتے ہیں۔ جمعرات کو اس زیارت کا نگہبان جو مسلمان اور بھرائی قوم کا فرد ہوتا ہے گاﺅں میں ڈھول لے کر جاتا ہے اور نیاز اکٹھی کرتا ہے۔سلطانیوں کی سب سے بڑی رسم سلطان سخی سرور ؒکے مزار کی زیارت ہے جو وسط فروری کے قریب سے شروع ہوتی ہے اور بھرائی اپنے اپنے دیہات سے قافلے لے کر ڈیرہ غازیخان کا رخ کرتے ہیں۔ سکھوں کے عہد حکومت میں دیوان ساون مل نے جو ملتان کا گورنر تھا یہ یاترا بند کرنے کی کوشش کی اور تمام ہندوﺅں کو جو سلطان سخی سرور کی زیارت کو جاتے تھے فی کس 100 روپیہ جرمانہ کیا لیکن اس سے بھی معتقد نہ رکے اور انیسویں صدی کے آخر تک جب لدھیانہ اور جالندھر کے گزیٹیئر مرتب ہوئے سلطانی ہندو اپنے عقائد میں مستحکم تھے۔“

بابا فرید شکر گنجؒ پاک پتن میں آباد ہوئے جس کا قدیمی نام اجودھن ہے۔ یہاں مغربی پنجاب کے بڑے بڑے قبیلے سیال، راجپوت اور وٹو وغیرہ آپ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ سید جلال الدین سرخ بخاریؒ نے جن کا مزار اوچ شریف میں ہے راجپوتوں کے کئی قبیلوں میں اسلام پھیلایا۔ کھرل اور نون قبائل مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ کی تبلیغ اور ذاتی زندگی سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے۔ جوئیہ قبیلے کو شیخ رکن عالم نے مسلمان کیا۔ کشمیر کا سارا علاقہ جہاں آج مسلمان اکثریت میں ہیں حضرت بلال شاہ ؒالمعروف بلبل شاہ اور بعد میں امیر کبیر سید ہمدانیؒ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ صرف امیر کبیر سید ہمدانی ؒنے 37 ہزار کشمیریوں کو حلقہ اسلام میں داخل کیا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -