فضیلت کا راستہ تو ایک ہوتا ہے اور عیب کے راستے بہت ہوتے ہیں

فضیلت کا راستہ تو ایک ہوتا ہے اور عیب کے راستے بہت ہوتے ہیں
فضیلت کا راستہ تو ایک ہوتا ہے اور عیب کے راستے بہت ہوتے ہیں

  

تحریر: ملک اشفاق

قسط: 36

اخلاقیات (Nichomachean Ethics)

 ارسطو اپنی اخلاقیات میںخیر کی۔ تعریف اس طرح سے کرتا ہے کہ خیر وہ ہے جو تمام چیزوں کا مقصود ہو اور بہترین خیر یا خیر عظمیٰ وہ ہے جس کی محض اس کی خاطر خواہش کی جائے بنی نوعِ انسان کی بہترین خیر بہترین علم کا موضوع ہے اور یہ بہترین علم، علمِ سیاسیات ہے۔ یہ خیرِ مملکت سے بحث کرتا ہے جو کسی فرد واحد کی خیر کے مقابلہ میں زیادہ بڑی مکمل اور زیادہ مقدس ہوتی ہے لیکن چونکہ مملکت افراد پر مشتمل ہوتی ہے اس لیے ”سیاسیات“ کا ایک حصہ انفرادی خیر(جس حد تک کہ یہ عمل سے حاصل ہو سکتی ہے) سے بھی بحث کرتا ہے اور یہی اخلاقیات کا موضوع ہے۔

 اخلاقی فضائل عادات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ یہ اس کے معنی خلقی نہیں ہوتے کہ یہ اوصاف قدرت ہمارے ساتھ پیدا کرتی ہے کیونکہ عادات کسی قدرتی وصف کو بدل نہیں سکتی۔ مثلاً پتھر قدرتاً زمین پر گرتا ہے۔ اب تم اسے بار بار اچھال کر اوپر چڑھنے کی عادت نہیں ڈال سکتے لیکن انسان میں فضائل کے اکتساب کرنے کی قدرتی استعداد بھی ہوتی ہے۔ ان کو عموماً تعلیم سے سکھا سکتے ہیں نیز یہ کہ جن افعال کو اخلاقی نقطہ نظر سے فضیلت کہا جا سکتا ہے وہ عمداً ہوتے ہیں کیونکہ عقل دیدہ و دانستہ ایک سوچے ہوئے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس لیے ظاہر ہے کہ اس قسم کے افعال کسی ایسی شے کے لیے ہونے چاہئیں جو اچھی ہو کیونکہ عقل ہمیشہ عمدہ غایتوں کے حصول کو مقصد بناتی ہے۔ علم اگرچہ ضروری ہے لیکن بجائے خود یہ صحیح کردار کو عمل میں لانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ عقل کو قوتِ عادات سے ضرور کام لینا چاہیے جو عمدہ افعال کے کردار سے پیدا ہو جاتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ارسطو نے یہ فرض کر رکھا ہے کہ اخلاقی فضائل کے اکتساب کرنے کے لیے انسان میں قدرتاً رحجان ہوتا ہے اور یہ رحجان رفتہ رفتہ عمدہ عادات پیدا کرنے کے لیے کافی قوت رکھتے ہیں۔ یا شاید اس کی یہ مراد ہو کہ عقل میں دراصل بہترین رحجانات کے انتخاب کرنے اور ان سے ترقی دینے کے لیے کافی قوت ہوتی ہے۔

 افلاطون کے نزدیک عمدہ آدمی وہ ہے جس میں علم، جذبہ اور خواہش پوری ہمنوائی سے عمل کرتے ہیں اور ذہن کا کوئی حصہ دوسرے حصوں پر غالب نہیں آ جاتا اور ہر فرد اپنا صحیح فعل انجام دیتا ہے۔ یہ افلاطون و ارسطو کے مابین بہت سی کڑیوں میں سے ایک کڑی ہے جس کا مسئلہ اوسط اس حقیقت کے اظہار کا ایک خاص طریقہ ہے۔ہم دیکھ چکے ہیں کہ ارسطو نے یہ فرض کر رکھا ہے کہ انسان کا بحیثیت انسان ایک فریضہ ہے جس کی انجام دہی میں اس کا اصلی جو ہر ظاہر ہوتا ہے اور اس کو مسرت نصیب ہوتی ہے لیکن جو بات بنی نوع انسان پر اجتماعی حیثیت سے صادق آتی ہے انفرادی روح اور اس کے مختلف حصوں پر بھی صادق آتی ہے۔ جس طرح ہر شخص کا ایک فریضہ ہوتا ہے اس طرح اس کی روح کے تمام اجزاءکا بھی فریضہ ہوتا ہے جب فرائض پوری طرح سے انجام پاتے ہیں تو ان کا نتیجہ ایک مرتب کام یا فعلیت ہوتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر عمدہ صنعت خواہ وہ علم و ہنر کی ہو یا فطرت کی اس میں یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ یہ حدوں کے مابین ایک معتدل و متوسط حالت ہوتی ہے جن میں ایک حد تو زیادتی اور دوسری حد کمی کی ہوتی ہے۔ ہر قسم کا کمال اس قسم کا اوسط ہوتا ہے یہی حقیقی معنی میں اخلاقی فضیلت ہے جو جذبہ و عمل کے میدان میں انسان کا کمال ہے۔ مثلاًعفت درمیانی درجہ ہے عیاشی اور مرتاضی کے مابین، شجاعت معتدل صورت ہے بزدلی اور تہور کے مابین ۔چنانچہ ارسطوفضیلت کی تعریف اس طرح سے کرتا ہے ” یہ ذہن کی ایک مستقل و پائیدار حالت ہے جس کا اظہار ایسے عمدی افعال سے ہوتا ہے جو اوسط اضافی میں واقع ہوتے ہیں اور اوسط کا تعین عقل کرتی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اوسط وہ ہوتا ہے جو ایک صاحبِ حکمت کی نظر میں اوسط ہوتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مستقل ذہنی حالت ایک ہی قسم کے عادی افعال سے پیدا ہوتی ہے اور یہ افعال وہی ہوتے ہیں جن کا یہ باعث ہوتی ہے۔ مثلاً انسان متواتر عفیفانہ افعال کرنے سے عفیف انسان ہو جاتا ہے۔ پس فضیلت ایک طرح کی عادت ہے۔

 اس تعریف کے بعض اجزاءکو ارسطو پھر واضح کرتا ہے۔ اول یہ کہ جو افعال اخلاقی نقطہ نظر سے معمولاً اچھے ہوتے ہیں وہ سوقیانہ نہیں بلکہ عمداً ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحب فضیلت ذی عقل ہونے کی حیثیت سے ایسی غایت کو اپنا مقصد بناتا ہے جس کا اس کو عقل کے ذریعہ یہ تعقل ہوتا ہے اور وہ غیر عقلی تسویقات پر ان کی جانچ پڑتال کئے بغیر اندھا دھند عمل کرکے مطمئن نہیں ہوتا۔ لہٰذا مقصد پر خیر کا حکم لگنا چاہیے۔ جس کا اظہار اس طرح بھی ہو سکتا ہے کہ فعل کسی ایسی غائت کے لیے کیا جائے جو شریفانہ ہو۔ دوسرے یہ کہ فضیلت کا راستہ تو ایک ہوتا ہے اور عیب کے راستے بہت ہوتے ہیں کیونکہ اوسط سے زیادتی و کمی کا ہر درجہ عیب ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ راہِ اوسط کسی میکانکی و بد یہی اصول سے معلوم نہیں ہوتی جس طرح سے کہ حساب میں معلوم ہو جاتا ہے۔ یہ صرف اس شخص کو معلوم ہوتا ہے جو کردار صائب میں عملی طور پر ماہر ہوتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اوسط معلوم کرنے کے لیے چند عملی قواعد بیان کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن آخر کار فیصلہ جبلی اخلاقی و جدان ہی کی عدالت سے ہوتا ہے۔ اس قسم کا وجدان کچھ تو خلقی ہوتا ہے اور کچھ ان لوگوں کے تجربہ کا نتیجہ ہوتا ہے جو ہمیشہ راہ صواب کی تلاش میں رہتے ہیں۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -