کانگریس بڑے زمینداروں اور اونچے تعلیم یافتہ لوگوں کے مفاد کےلئے تھی نہ تو وہ نچلی ذات کے ہندوﺅں کےلئے تھی اور نہ ہی مسلمانوں کے مفاد کا فکر رکھتی تھی

 کانگریس بڑے زمینداروں اور اونچے تعلیم یافتہ لوگوں کے مفاد کےلئے تھی نہ تو ...
 کانگریس بڑے زمینداروں اور اونچے تعلیم یافتہ لوگوں کے مفاد کےلئے تھی نہ تو وہ نچلی ذات کے ہندوﺅں کےلئے تھی اور نہ ہی مسلمانوں کے مفاد کا فکر رکھتی تھی

  

 تحریر : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

قسط (6) 

آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کے وقت برطانوی راج کے حالات

آل انڈیا کانگریس پارٹی کا مشن تھا کہ یہ انڈیا ایک رہے اور سیاسی اعتبار سے کانگریس تمام ہندوستانی قوموں، ریاستوں کی نمائندگی کرتی رہے۔ کانگریس نے تعلیمی میدان میں اپنی طرز کی تبدیلیاں کیں، ذات پات اور کمیونٹی معاملات ،اقلیت کےلئے کچھ کانگریس کے زعماءمیں تبدیلی تھی۔ مگر نکھر کر ذات پات، اونچی نچلی ذات کو ترک نہیں کرسکی۔ اونچے درجے کے کانگریس کے سیاستدان کا آشرم، دھیان،تجارت بڑے شہروں تک محدود تھی۔ عام لوگوں کے جگہ کے مسائل ضلعی،تحصیل سطح کے لیول کے ہوتے تھے۔غریب کسان زمیندار قرضہ دار تھے۔ مسلمانوں کے ساتھ غیر برابری کا سلوک ہر سطح پر کیا جاتا تھا۔

 برطانوی حکومت کا تعلق بھی بڑے بڑے ہندو زعماءکے ساتھ مثلاً بینرجیا (Banerjea)بنگال سے ، مہتہ(Metha)بمبئی سے اور اُن کے مدِ مقابل مہاراشٹیا سے مسٹر بال گنگادھڑ،تلک اور گوکھلے تھے۔ان لوگوں کا رابطہ اپنے اپنے علاقے کے لوگوں سے تھا۔ ان دونوں دھڑوں کی چپقلش سے آل انڈیا کانگریس پارٹی کے ڈسپلن پر اثر ہوتا رہا۔ مقامی سطح پر لوگ کانگریس کی پالیسیوں سے زیادہ مطابقت نہیں رکھتے تھے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ1907ءمیں کانگریس میں پھوٹ پڑ گئی اور اس طرح 2 گروپ میدان میں آمنے سامنے آگئے اور زبان کی ترشی کے علاوہ سخت حربے استعمال ہوئے۔ یہ اختلاف 2گروپوں میں اس لیے ہوا کہ گوکھلے اور بی جی تلکExtremistغیر مارڈریٹ ذہن کے مالک تھے اور تلخ گروپ کے ساتھ تھے۔ دوسرے ماڈریٹ تھے۔ اس چپقلش سے کانگریس کے برطانیہ کے ساتھ تعلقات میں فرق آنے لگا۔مسٹر تلک کی سوچ جُدا تھی اور انگریز سرکار کے ساتھ تلخی اور اختلاف معمول کا حساب تھا۔ انہوں نے اپنا گروپ قائم کررکھا تھا۔ تاہم 1907ءتک کانگریس میں کھچاﺅبڑھتا گیا۔ 2 گروپوں کی تشکیل نے کانگریس کو مزید پختہ کردیا۔

 ایک اہم پہلو یہ ہوا کہ کانگریس 1892ءسے لے کر 1900ءتک مسلمانوں کو متاثر نہ کرسکی اور1909ءکے اجلاس میں صرف1000مسلمان ڈیلیگیٹ میٹنگ میں شامل ہوئے جبکہ اُن کی تعداد 14000پر مشتمل تھی۔ کانگریس کے رُجحان میں مسلمانوں کی عافیت کا خیال نہ تھا۔ مسلمان وقت کےساتھ ساتھ محسوس کرنے لگے کہ ہمیں ویسے ہی ساتھ چپکا رکھا ہے۔ آگے آزادی کی پکار، تحریک آزادی، تحریک خلافت،1937ءکے انتخابات کے بعد کانگریس وزارت اور تقسیم ہند کے وقت کانگریس کی مسلمانوں کےخلاف سازش اور تقسیم ہند کے بعد کے مظالم ثابت کرتے ہیں کہ علامہ اقبال اورسرسید احمد خان سچے تھے کہ کانگریس میں مسلمان شامل نہ ہوں۔ احساس محرومی اورکانگریس کی امتیازی سرگرمیوں نے مسلمانوں کو سوچنے پر مجبور کردیااور یورپین تربیت یافتہ،اعلیٰ قانون دانوں نے مسلمانوں کے معاملات پر گہری نظر ڈالی۔ ناردرن انڈیا کے مسلمانوں کا کلچرجُدا تھا۔ مغل بادشاہوں نے اپنی وراثت میں کافی تعمیراتی کام چھوڑ رکھا تھا۔ جو ہندو کلچر سے جُدا تھا۔اس وقت کے پڑھے لکھے قانون دانوں،دانشوروں نے مسلمانوں کی کھوئی ہوئی ساکھ کا جائزہ لیا اور یونائیٹڈ پراونس U.Pمیں مسلمان ہندﺅوںکی چالوں سے متنفر ہوئے ۔ کیونکہ تعلیم، سماج وبہبود میں تمام ریفارم صرف ہندوﺅں کےلئے مختص تھیں۔لہٰذا سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ برطانوی راج سے تو تعاون کریں مگر ہندو کانگریس سے دور رہیں۔ کیونکہ انہوں نے بھانپ لیا تھا کہ سیاسی سیٹ اپ میں کانگریس مسلمانوں کو اقلیت میں رکھے گی۔

 پنجاب میں کانگریس نے اپنی مرضی سے زمینداروں میں گروپ بنا رکھے تھے۔ کیونکہ ہندوﺅں نے زمینداروں ، کسانوں کو قرضے دے رکھے تھے۔ بنگال کی تقسیم کی تنسیخ نے ثابت کردیا تھا کہ ہندو کسی طرح مسلمانوں کے مفاد کا سوچ نہیں سکتے۔لہٰذا کانگریس بڑے زمینداروں ، جاگیرداروں اور اونچے تعلیم یافتہ لوگوں کے مفاد کےلئے تھی نہ تو وہ نچلی ذات کے ہندوﺅں کےلئے تھی اور نہ ہی مسلمانوں کے مفاد کا فکر رکھتی تھی۔

 مسلمانوں کو سمجھ آگئی اور کانگریس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی سوچ پیدا ہونے لگی۔ لہٰذا مسلمانوں نے ایک سیاسی تنظیم کی تشکیل کے لیے جدوجہد کی تاکہ مسلمانوں کو کانگریس کی غلط، ناہموار پوزیشن سے بچایا جائے۔ لہٰذا شملہ وفد یکم اکتوبر1906ءکو لارڈ منٹو کے بعد اور مسلمانوں کو جُدا نمائندگی کا صدر 13اکتوبر1908ءتک رہے۔ پھر 1914-16ءتک راجہ صاحب آف محمود آباد صدر رہے۔1919 میں مولوی اے کے فضل حق صدر رہے۔1920-30ءتک ایم اے جناح صدر رہے۔ پھر قائداعظم محمد علی جناحؒ1937-47ءتک صدر رہے۔ درمیان میں مختلف لوگ صدارت کرتے رہے۔اس کے علاوہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے1916ءکے آل انڈیا مسلم لیگ سیشن کی صدارت کی۔1924ءکولاہورسیشن کی صدارت کی۔1940ءکے 27 ویں اجلاس کی قرار داد لاہور کے وقت صدارت کی۔ ابتدائی اجلاس کی صدارت نواب وقار الملک نے کی ۔ بعد میں نواب سرسلیم اللہ خان 1907 ءتک کرتے رہے اور1907 ءکے دوسرے اجلاس کی صدارت سرآدم جی پیر بائی نے کی۔ مسلمانوں کی جُدا سوچ اور شملہ وفد کی وجہ سے 1909 ءمیں جو ریفارم آئیںان میں مسلمانوں کےلئے تعلیمی سرگرمیاں رکھی گئیں۔ ملازمت کا حصہ رکھا گیا اور مقامی نمائندگی میں جُداگانہ حق رائے دہی ہوگیا۔ اِس کا فائدہ یہ ہوا کہ انڈین مسلمانوں میں اپنی ذات کا خیال پیدا ہوا۔ انگریزاب کچھ محتاط ہونا شروع ہو گئے۔ 

 پرنس آف ویلزنے انڈیا کی یاترا1921ءمیں رکھی۔بمبئی میں اس وقت مسلمانوں کےخلاف قتل و غارت اور لوٹ مار جاری تھی۔اس سے قبل دہلی دربار میں شان و شوکت تھی۔یہ وہ زمانہ تھاکہ جب جنگ عظیم اوّل ختم ہوئی تھی اور اب انگریز کو مزید امتحانات سے گزرنا پڑا۔ برطانیہ کی حکومت پر سوال جواب ہونے لگے۔ سرآغاخان نے ترکی کے دوشہر جو یونان کے قبضے میں آگئے تھے واگزار کرنے کےلئے لندن میں وزیراعظم برطانیہ لارڈ جارج سے ملاقات کر کے معاملہ اُٹھایا۔ گاندھی جی جنوبی افریقہ سے وکالت میں فیل ہونے کے بعد واپس انڈیا آگئے۔ محمد علی جناح جو اُن کے کاٹھیاوار علاقے سے تھے نے اُن کےلئے استقبالیہ رکھا۔اِس دوران گاندھی جی تحریک خلافت میں شامل ہو گئے۔

 جنگ عظیم اوّل کی بدولت ہندوستان کی اقتصادی ،سماجی حیثیت بڑی متاثر ہوئی کہ ہندوستان کا سارا روپیہ ،آمدن جنگ پر خرچ ہو رہا تھا۔ ہندوستان میں یورپین فوجی موجود تھے۔ اُن کے اخراجات زیادہ تھے۔1916-17 ءتک لوگوں کی مجبوری ہو گئی کہ وہ لوٹ مار کریں تاکہ زندگی گزاری جا سکے۔ سلطنت عثمانیہ کے ساتھ مسلمانوں کی دِلی ہمدردی تھی اور ترکی کی ہمدردریاں جنگ کے دوران جرمنی کے ساتھ تھیں۔ اِن تعلقات پر انگریز بڑے نالاں تھے۔ ترکی کے سلطان خلیفہ کا درجہ رکھتے تھے اور مسلمانوں میں اُن کی بڑی عزت تھی۔ ہندوستان کے مسلمان بڑے فکر مند تھے کہ ترکی کی سلطنت کی خلافت قائم رہے اور ہند کے بہت سارے مسلمان جن میں مولانا محمد علی جوہر ، شوکت علی اور بڑے علماءتحریک خلافت میںشامل ہو گئے۔ بہت سارے ہجرت کر کے کابل چلے گئے۔ گاندھی جی بھی تحریک خلافت میں عبدالغفارخان کے ساتھ مل گئے۔ 

 اِدھر شمالی ہندوستان کے نوجوان سیاستدانوں نے کانگریس کے ساتھ مسلم لیگ کا فائدہ طے کیا ۔ جسے لکھنو¿ پیکٹ آف 1916 ءکہتے ہیں۔ کانگریس کو آئینی تحفّظات اِس پیکٹ کے ذریعے میسّر آئے تاکہ وہ انڈین نیشنلزم کو آرگنائز کرے اور جُدا سیاسی درجہ حاصل ہو گیا تاکہ آئندہ جُداگانہ انتخاب میں برتری حاصل کر سکے اوراس طرح مقامی اقلیت کو چند نشستیں میسّرآئیں۔کانگریس کے چوٹی کے بااثر لیڈر مولانامحمد علی جوہراور مولانا شوکت علی جوہر تھے۔جو کانگریس اور لیگ کے اتحاد کے بڑے حامی تھے۔ ان حضرات نے علی گڑھ کی قدیم سیاست سے ہٹ کر اِس طرح قدم بڑھائے۔اب اِس اتحاد سے حالات میں تبدیلی آئی اور یہ تبدیلی انگریز سرکار کے حلقوں میں شروع ہونے لگی اور کچھ دیر کے لیے سوچ میں تبدیلی آئی تاہم اُن میں آئینی تبدیلی کے آثار نہ تھے۔ انڈین آف ڈیفنس آئین 1915 ءکا تھا۔ اُسی طرح اُس پر عمل تھا۔ 

 تاہم سیاسی دوستی کا اثر کچھ دیر کےلئے اچھا رہااور کچھ ماڈریت کانگریس کے لیڈر کو اُمید نظر آئی اور وہ آگے بڑھنے لگے۔20 اگست1917ءکو مانٹیگواعلان یااصلاحات آگئیں۔اس کا مُدعا یہ تھا کہ انتظامیہ میں انڈین کی شمولیت کو زیادہ جگہ دی جائے۔ سیلف حکومت کی ترقی میں حصے دار انڈین کو بنایا جائے۔ تاکہ ترقی کی رفتار میںکمی نہ ہونے پائے اور ہند کے لوگ حکومت برطانیہ کے ساتھ ہندوستان کے معاملات میں حصے دار ہو جائیں۔یہ سیلف گورنمنٹ رائج کرنے کےلئے آئین میں ڈھیل کی ضرورت تھی۔ 

 ان تمام چھوٹی بڑی اصلاحات کوشکل دینے کےلئے مونٹیگو اور وائسرائے ہند چمیسفورڈ کو 1917-18 ءمیں انڈیا کا طویل سفر طے کرنا پڑا ۔تاکہ مختلف طبقات،قبیلوں اور سیاسی شعور رکھنے والوں سے ملکر خیالات حاصل کیے جائیں تاکہ آئین کو شکل دینے کےلئے صحیح پلان تیار کیاجائے۔ اتنی طویل سوچ و بچار،تبادلہ خیالات کے نتیجے میں 1919 ءکی ریفارم حکومت انڈیا ایکٹ کے نام سے شائع ہوئیں۔اِن ریفارم نے آئین میں کافی تبدیلیاں کیں۔ جس سے گذشتہ تمام فریم ورک تبدیل ہوگیا اور انڈین کی شمولیت کو سیلف گورنمنٹ میں وسیع کیا گیا۔ صوبائی اور مرکزی لیجسلیٹوزمیں توسیع کی گئی اور سرکاری اثرو رسوخ اُن پر ڈھیلا کردیاگیااور بذریعہ ووٹ ان اداروں کی ذمہ داری لکھی گئی اور مختلف قوموں فرقوں ہندو اور مسلم کےلئے جُدا گانہ ووٹ کا سلسلہ 1909 ءمیں طے کر دیا گیاتھا۔ اِس تبدیلی کے ذریعے صوبوں میں فوراً تبدیلی آگئی۔ مرکز میں سرگرمی شروع نہ ہوئی چنانچہ صوبوں کو کچھ رقم ریونیو سے میسّر آگئی اور ترقیاتی کام چلنے لگے۔ 

 برطانوی حکومت کو خاص محکمہ جات چلانے کی فکر لاحق رہی۔ تاہم کافی حد تک انڈین حکومت کے حصے دار ہونے لگے۔ ظاہری بات ہے کہ ہندوﺅں کا حصہ زیادہ تھا اور مسلمانوں کی تعداد بھی بہت کم تھی۔ مسلمانوں میں تعلیم یافتہ لوگ نہ تھے اور نہ ہنر مندی تھی۔ 1918 ءکے رولٹ ایکٹ نے سیاسی صورتحال میں گرمی پیدا کر دی۔ راولا ایکٹ کمیشن نے اس لیے نافذ کیاتھا کہ ملک میں Terrorisim (دہشت گردی) کو روکا جائے۔ مگر انڈین نے اِس ایکٹ کو کالا قانون قرار دیا خاص کر بیرسٹر محمد علی جناح نے اس کےخلاف سخت قسم کااحتجاج کیا۔ اِس ایکٹ کی انڈین نے مخالفت قانون سازاسمبلی میں کی تھی۔ اِسی ایکٹ نے گاندھی جی کو سیاست میں دھکیلا۔ اس سے قبل گاندھی جی ایک ناکام وکیل کی حیثیت رکھتے تھے۔ جو 1893ءمیں ساﺅتھ افریقہ چلے گئے تھے۔ وہاں 20 سال رہے۔ وکالت کے ساتھ سیاست سیکھی اور واپسی پر چھوٹی ذات کے ہندﺅوں اور باہر سے آنے والےImmigrants کی وکالت کرنے لگے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ جب برطانوی حکومت جنگ عظیم میں مصروف تھی۔ گاندھی جی مہاتما کے رُوپ میں ساواراجSwarajکا پرچار کرنے لگے۔ ہیوم لیگ سے اُن کی مطابقت نہ ہو سکی۔ ساتھ گاندھی جی نے ” سیتاگرہ“ یعنی سچی طاقت اور عدم تشددNon-Violent تحریک خلافت کے خلاف چلادی۔ تحریک خلافت مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی نے علی برادرز کے نام سے چلا رکھی تھی۔ آپ اس میں شامل ہوگئے۔ اور ساتھ عبدالغفار خان بھی تحریک خلافت میں آگے آگے ہو گئے۔ تھوڑے عرصہ کے بعد گاندھی جی خلافت سے الگ ہوگئے اور بے شمار مسلمان اِس تحریک میں کا م آئے۔ 

 گاندھی جی نے عدم تعاون کی تحریک اگست1920 ءسے فروری 1922ءتک جاری رکھی اور اِس تحریک کو ختم کیا۔ کیونکہ عدم تعاون تحریک کے دوران ورکروں نے بدلہ لینے کی خاطر کسی تھانے پر ہلہ بول دیاتھا۔ حالات سیاسی طور پر بدلنے لگے۔ تاہم 1920 ءکے اندر نیا آئین رائج ہوا۔ مقامی الیکشن ہوئے کچھ لوگوں نے حصہ لیا۔ تاہم ان تحریکوں کا اثر یہ ہوا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو انتخاب میں حصہ لینے کی صورت پیدا ہوئی اور یہاں سے تحریکیں اُبھرکر سامنے آئیں۔ 1935 ءکے ایکٹ کے مطابق 1937 ءمیں الیکشن ہوئے۔ کانگریس کی اکثریت ہوئی اور 11میں سے 9 صوبوں میں وزارتیں بنیں۔ جس کے بعد مسلمانوں کو شعور میسّر آیا اور علیٰحدہ وطن کی تحریکیں چل نکلیں۔ ( جاری ہے ) 

کتاب ”مسلم لیگ اورتحریکِ پاکستان“ سے اقتباس (نوٹ : یہ کتاب بک ہوم نے شائع کی ہے، ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ )

مزید :

ادب وثقافت -