ایک راستہ یہ بھی ہے۔۔۔ 

ایک راستہ یہ بھی ہے۔۔۔ 
ایک راستہ یہ بھی ہے۔۔۔ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


یہ چائلڈ لیبر ”جبری لیبر“ رضا مندی کی لیبر یا ضرورت کی لیبر یہ سب مجبوری کی بیٹیاں اور آپس میں بہنیں ہیں۔ معاشرہ میں بھوک اور افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، لوگ غربت میں خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ماں باپ خود مرتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی مار رہے ہیں، ایسے میں کسی مجبور و بے کس کو گھر میں ملازمت دے دینا کوئی عیب نہیں، چائلڈ لیبر کے خلاف آواز اٹھانے والے آگے بڑھ کر ان مجبور و بے کس لوگوں کا سہارا کیوں نہیں بنتے۔ اصل لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ملازمت دینے والے ان بچے بچیوں کے ساتھ سلوک کیسا کرتے ہیں اگر تو ان بچوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو ہم اپنے بچوں سے کرتے ہیں تو ذرا بھی مشکل پیش نہیں آئے گی، مگر صورت حال اس طرح نہیں ہے۔ مرد بے چارے تو باہر اپنی ملازمت میں وقت گزارتے ہیں،خاتون خانہ کو کون سمجھائے کہ گھر میں کام کرنے والی بھی اپنی  بیٹی کی طرح ہی ہے،اس کے خون کا رنگ بھی ویسا ہی ہے۔ یہی وہ فرق ہے کہ جب سمجھ آ گیا مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ ہم تو ان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اُمت سے ہیں کہ جنہوں نے کسی یتیم کے سامنے اپنے بیٹے کو پیار کرنے،بلکہ بیٹا کہہ کر پکارنے سے بھی منع فرمایا پھر یہ افراط و تفریط کہاں پیدا ہو گئی۔ہمارے لئے گھریلو ملازم رکھتے ہوئے ان کی عمر، صحت و تندرستی،آرام کا خیال رکھنا  بہت ضروری ہے۔ ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  ظاہری دنیا سے رخصت ہوتے وقت جو آخری دو الفاظ اپنی زبان مبارک سے فرمائے تھے، ان میں ایک نماز اور دوسرے اپنے ملازموں اور نچلے طبقے کے لوگوں کا خیال رکھنا تھا۔


ہم یہ کب سکھاتے ہیں کہ انسانوں سے محبت کرو گے تو جنت میں جاؤ  گے۔ ہم تو صرف عبادات کے سہارے جنت کا ٹکٹ پکا کر کے بیٹھے ہیں۔ یقینا عبادات بھی جنت میں داخلہ کی ایک وجہ ہو سکتی ہیں،مگر شاید واحد وجہ نہیں۔ہم نے تو جنت دوزخ کو بھی فرقوں اور مسلکوں میں تقسیم کر دیا ہے۔آج ہم ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ہر کوئی اپنے آپ کو ٹھیک اور دوسرے کو غلط سمجھتا ہے۔ہماری عبادات کا اثر ہماری روز مرہ زندگیوں سے ظاہر نہیں ہو رہا،اب تو اسے منافقت، یا ریا کاری کہتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔انسانوں سے نفرت کر کے، حسد، بغض اور کینہ پال کر، تذلیل انسانی کر کے، جنت کا راستہ کچھ کٹھن اور دشوار ہو گا۔ ہمارے محراب و منبر سے بھی عموماً اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈرایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو بڑا رحیم اور کریم ہے، وہ تو ودود اور شکور بھی ہے۔ وہ تو قرآن کریم میں بار بار اعلان فرما رہے ہیں کہ میری رحمت میرے غضب پر حاوی ہے، کہ وہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے، مگر یہ مہربانی وہ کن لوگوں پر فرماتا ہے جو اس کے بندوں سے پیار کرتے ہیں، جو مصیبت میں دوسروں کے کام آتے ہیں، جو بھوک میں غریب اور مفلس کو کھانا کھلاتے ہیں، جو یتیم کے سر پر دست شفقت رکھتے ہیں۔
ہم اگر اللہ تعالیٰ کی قربت چاہتے ہیں تو پھر اس کی مخلوق سے پیار کرنا پڑے گا۔ اللہ کی محبت اور قربت کے سارے راستے مخلوق خدا کی خدمت، داد رسی،خیر خواہی سے ہو کر گزرتے ہیں۔آپ معصوموں پر ظلم کر کے،بے قصوں اور بے نواؤں کے خواب چھین کر،مظلوموں سے  ناانصافی کر کے اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ کو انسان کی خدا ترسی پسند ہے اور اس خدا ترسی پر بڑے انعامات کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ سورہ الانفال کی آیت نمبر 29 میں فرمان الٰہی ہے کہ ”اے ایمان والو، اگر تم خدا ترسی اختیار کروگے تو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کسوٹی بہم پہنچائے گا،اور تمہاری برائیوں کو تم سے دور کر دے گا،اور تمہارے قصور معاف کر دے گا،اور اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے“۔ آج ہم اپنے گردوپیش جب انسانی بے حسی اور زیادتی کے بہت سے مظاہر دیکھتے ہیں تو دل دکھتا ہے۔ ہمارے فائیو سٹار ہوٹلوں  اور میرج ہالوں میں کھانے کی  بے توقیری اور ساتھ ہی غربت و افلاس کی وجہ سے معصوم بچوں سمیت لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں، روٹی کے دو لقمے کھانے کے لئے عزتیں نیلام ہو رہی ہیں۔ ہم نے بھی عزت اور بے عزتی کا کیا استدلال گھڑ رکھا ہے۔ بھوک اور افلاس کے ہاتھوں عزت بیچنے پر مجبور عورت تو ملزمہ اور فاحشہ ہے،مگر اس عزت کے خریدار مرد پارسا اور پوتر ہیں۔ہمارے گناہ اور نیکی کے معیار بھی اپنے ہیں اور یہاں ہر خود ساختہ پارسا جنت کا ٹکٹ جیب میں لئے پھر رہا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ کو ہماری آکڑ اور نخوت پسند نہ ہے، خواہ وہ دینداری کے زعم میں ہو یا دولت و اقتدار و اختیار کے گھمنڈ میں ہو۔وہ تو عاجزی اور انکساری کو نوازتا ہے۔ بس دنیا میں اس طرح رہیں کہ اپنے سے کمزوروں اور بے نواؤں کی دستگیری کریں اور یہ خیال ہمہ وقت دامن گیر رہے کہ روزِ محشر اللہ تعالیٰ کے سامنے ہماری کوئی شکایت نہ کرے۔

مزید :

رائے -کالم -