جو رحم نہیں کرتا، اُس پر کیوں رحم کیا جاتا ہے؟

 جو رحم نہیں کرتا، اُس پر کیوں رحم کیا جاتا ہے؟
 جو رحم نہیں کرتا، اُس پر کیوں رحم کیا جاتا ہے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 بھلے وقتوں میں کسی کے خاندان کے رہن سہن اور معیار زندگی کا اندازہ لگانے کے لئے ان کے واش روم اور کچن کا جائزہ لیا جاتا تھا، بالکل اسی طرح اگر آپ نے پاکستانی سماج میں ہونے والے ظلم، بربریت، نا انصافی، لا قانونیت، سنگدلی اور بے حسی کا اندازہ لگانا ہوتو آپ گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس کاجائزہ لیں جس کی تفصیلات جان کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے،اس کیس کو سننے کے بعد تو یہ محارہ بھی جھوٹا پڑ گیا ہے کہ ”ظُلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے“، کیونکہ رضوانہ تشدد کیس والے معاملے میں ظلم حد سے توبڑھ گیا ہے لیکن مٹ اس لئے نہیں رہا کہ مظلوم کو انصاف فراہم کرنے والے منصف ہی اصل میں ظالم ہیں۔دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن فضائیہ کے طیارے مسلسل بمباری کر کے لندن میں تباہی مچا رہے تھے، بہت زیادہ جانی نقصان ہو رہا تھا اور معیشت تباہ ہو رہی تھی۔ ہر شخص یہ سوال کر رہا تھا کہ اس ملک کا کیا ہو گا؟افراتفری اور مایوسی کے ان حالات میں برطانوی وزیراعظم سرونسٹن چرچل نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ ”کیا عدالتیں کام کر رہی ہیں؟“  انہیں بتایا گیا کہ عدالتیں معمول کے مطابق فیصلے کر رہی ہیں اور لوگوں کو انصاف مہیا کر رہی ہیں۔ چرچل نے اس پر خدا کا شکر ادا کیا اور کہا کہ اب کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ہر طرف تباہی کے باوجود برطانوی وزیراعظم سرو ونسٹس چرچل اس وجہ سے مایوس نہیں ہوئے کہ عدالتیں معمول کے مطابق کام کر رہی تھیں اور لوگوں کو انصاف مل رہا تھا، جس نے ریاست پر لوگوں کا اعتماد قائم رکھا تھا۔


تاہم پاکستان میں انصاف کے نظام نے پورے معاشرے کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے اگر آپ نے اس ظالمانہ نظام کی انتہائی بد صورت اور مسخ شدہ لاش دیکھنی ہے تو گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس کا جائزہ لیں، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس وقت یہ معاشرہ ظلم اور نا انصافی کی بد ترین تصویر بنا ہوا ہے۔ رضوانہ تشدد کیس گزشتہ ماہ کی 24 جولائی کو سامنے آیا تھا جب سول جج عاصم سجاد کی اہلیہ نے مبینہ طور پر 12 سالہ گھریلو ملازمہ کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جس کے جسم کی ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں اور سر کے گہرے زخموں میں کیڑے پڑ چکے تھے۔تاہم انصاف کے اس ظالمانہ نظام نے ایک مرتبہ پھررحم نہ کرنے والے پر رحم کیا اور کمسن بچی پر مبینہ تشدد کرنے والی ملزمہ  سات اگست تک ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی، واردات اس دفعہ بھی وہی ہے کہ ملزمہ کا ذہنی توازن درست نہیں۔ ظاہر ہے بچی پر جان لیوا تشدد کرنے والی خاتون کے شوہر اس ظالمانہ عدالتی نظام کے مکمل ”پیتی“ ہیں جنہوں نے ذہنی توازن خراب ہونے کا وہی بہانہ لگایا ہے،جو اس سے پہلے نور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر اور 37 سالہ اہلیہ کو قتل کرنے والے ملزم شاہنواز اور اس جیسے درجنوں، بیسیوں یا سینکڑوں با اثر اور طاقتور ملزمان لگا چکے ہیں۔


14سالہ کمسن رضوانہ اس وقت صوبائی دارالحکومت لاہور کے جنرل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق رضوانہ کے پھیپھڑوں میں بلڈ کلاٹ ہے جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے، ڈاکٹروں کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران کم از کم دو مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ رضوانہ کے جسم میں آکسیجن کی سطح جسے سیچوریشن بھی کہا جاتا ہے وہ اس حد تک گر گئی ہے کہ انہیں آکسیجن یعنی مصنوعی تنفس پر منتقل کرنا پڑا۔ اس کی وجہ اس کے پھیپھڑوں میں ہونے والا انفیکشن ہے، ڈاکٹروں کے مطابق یہ انفیکشن ان زخموں سے آیا ہے جو رضوانہ کے سر، کمر، بازو، چہرے اور جسم کے دوسرے حصوں پر موجود ہیں۔ ان زخموں کی وجہ سے انفیکشن ہوا جو علاج نہ ہونے کی وجہ سے پورے جسم میں پھیل گیا اور وہیں سے ان کے اندرونی اعضاء اور پھیپھڑوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔رواں ہفتے  ان کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر سمجھتے ہیں کہ رضوانہ کی زندگی کے لئے آئندہ 48 گھنٹے بہت اہم ہیں۔تاہم سوال ابھی بھی یہی ہے کہ 14 سال کی یہ کمسن بچی ان حالات تک کیوں پہنچی؟ بچی کی درد ناک کہانی سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔24 جولائی کو اسلام آباد کے بس اڈے پر جج کی اہلیہ نے جب بچی کو اس کی ماں کے حوالے کیا تو اس کے سر میں گڑھے پڑے ہوئے تھے، اس کے زخموں سے بد بو آ رہی تھی اور ان میں کیڑے چل رہے تھے، جبکہ ہاتھوں کی انگلیوں اور جسم کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھی۔ رضوانہ نے اپنی ماں شمیم بی بی کو بتایا کہ جج کی اہلیہ نے مجھے پہلے دن سے ہی ڈنڈوں سے مارنا شروع کر دیا تھا، سر دیوار میں مار جاتا تھا اور ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ کر ہڈیاں توڑی جاتی تھیں۔جج کی بیوی اپنی انگلیوں کے لمبے ناخن آنکھوں میں گھسیڑتی تھی، تازہ زخموں پر ناخن چبھو کر کام کروایا جاتا تھا، گھر کے اندر سونے کی اجازت نہیں تھی اور باہر لان میں سوتے وقت اس کازخموں سے چُور جسم کئی دفعہ بارش میں بھیگ جاتا تھا۔


مسلم لیگ(ن) کی سینئر نائب صدر و چیف آرگنائزر مریم نواز نے بھی جنرل ہسپتال بد ترین تشدد کا نشانہ بننے والی بچی کی عیادت کی ہے۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جس ملک کی عدالتوں میں طاقتور اور کمزور، امیر اور غریب کی تفریق کی جاتی ہے، بڑے اور چھوٹے کے معیار بنائے ہوئے ہیں اس معاشرے کو دس بار سوچنا چاہئے کہ وہ ملک کہاں جائے گا۔ رضوانہ تو ایک کیس ہے جو سامنے آ گیا ہے۔ایسے ہزاروں کیسز ہیں جو خوف، ڈر، طاقت اور دباؤ کے استعمال سے چھپا دیئے جاتے ہیں۔اس کیس میں ایف آئی آر تو درج ہو گئی، لیکن ضمانت بھی مل گئی کیونکہ وہ ایک جج صاحب کی اہلیہ ہیں، جب مجرم خود منصف کی کرسی پر بیٹھا ہوگا، مداخلت کرے گا، اپنی طاقت استعمال کرے گا تو مظلوم کو انصاف کیسے ملے گا۔

مزید :

رائے -کالم -