انتخابات کی تاریخ

انتخابات کی تاریخ
انتخابات کی تاریخ

  

علم نجوم سے لے کر علم الااعداد کے ماہرین تک ، سیاسی پنڈتوں سے لے کر راوی کنارے چلہ کاٹتے ملنگوںتک کوئی بھی الیکشن کی حتمی تاریخ بتانے کو تیار نہیں ہے۔کسی ملنگ سے پوچھو تو وہ ”مراقبے“ میں چلا جاتا ہے۔کسی علم نجوم کے ماہر سے پوچھا جائے تو جواب آتا ہے کہ بھئی آج کل موسم کی خرابی کی وجہ سے دھند چل رہی ہے۔مطلع صاف ہوگا تو کچھ دکھائی دے گا۔رہا علم الااعدادکے ماہرین کا معاملہ تو وہ فرماتے ہیں کہ علم الااعداد کا فن ان فضول قسم کے کاموں کے لئے نہیں ہے۔ ہم سے تو صرف صدر،وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور گورنر بننے کے بارے میں اعداد کے حساب سے کوئی پوچھے تو بتا سکتے ہیں۔ ان حالات میں صرف وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ ہی روشنی کی امید نظر آتے ہیں،جو اپنے ہر بیان میں فرماتے ہیں،جمہوری حکومت اپنے پانچ سال پورے کرنے کے بعد الیکشن کا اعلان کردے گی۔قمر زمان کائرہ کا یہ بیان یا اعلان سر آنکھوں پر،مگر کسی دن اچانک صدر پاکستان ٹی وی پر نمودار ہوکریہ فرماتے نظر آئے کہ میرے عزیز ہم وطنو! آئین و قانون کے مطابق ہم پانچ سال پورے کر چکے ہیں، مگر میرے ذاتی حساب کے مطابق ابھی ایک سال رہتا ہے۔

تو ان کے اس طرح کے فرمان کے بعد کسی کونے میں بیٹھا کوئی اینکر اگر یہ سوال کر بیٹھا کہ جناب پوری قوم جانتی ہے کہ آپ نے پانچ سال پورے کرلئے ہیں اور آئین و قانون اب اجازت نہیں دیتاکہ آپ کی جمہوری حکومت مزید ایک منٹ بھی رہے تو صدر پاکستان آصف علی زرداری نے آگے سے مسکراتے ہوئے یہ فرما دیا کہ میرے بھائی آئین و قانون اپنی جگہ، مگر آئین و قانون کوئی قرآن و حدیث تو نہیں ہے ، جس پر عمل بھی کیا جائے۔تو صاحبو! میاں نوازشریف نے ”چارٹر آف ڈیموکریسی “کے حوالے سے صدر کے اس طرح کے جملے پر ان کا کیا کرلیا تھا کہ اب کوئی اینکر یا قوم ان کا کچھ کرلے گی؟ مگر ان تمام باتوں کے باوجود ملک میں سیاسی و انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے ۔چوراہوں، بلڈنگوں، رکشوں اور ویگنوں پر مختلف امیدواروں کے پوسٹر لگنا شروع ہوچکے ہیں، بلکہ دیہات میں تو خاصی رونق لگ چکی ہے۔مختلف امیدواروں کے ڈیروں پر سیاسی محفلیں لگنا شروع ہوچکی ہیں، علاقائی سطح پر جوڑ توڑ کا آغاز ہوچکا ہے،بلکہ جب سے میاں منظور وٹو پی پی پی پنجاب کے صدر بنے ہیں، پنجاب میں جوڑ پڑے یا نہ پڑے ،”توڑ“ کا کام شروع ہوچکا ہے ۔

ایک مسلم لیگ کا تو یہ حال ہے کہ اگر علاقے کا کوئی سابق ایم پی اے یا ایم این اے ”ترلوں“ کے باوجود ان کی جماعت میں شامل نہ ہو تو پھر جماعت کے قائدین ان کے کسی بھتیجے، بھانجے یا کزن کو اپنی جماعت میں شامل ہونے کا اعلان بذریعہ اخبارات شائع کرا دیتے ہیں۔یہ دوسری بات ہے کہ دوسرے ہی روز تردیدی خبر بھی آ جاتی ہے جو صاحب ہمارے خاندان سے بغاوت کرکے فلاں جماعت شامل ہوئے ہیں،ہمارے ووٹرحضرات جانتے ہیں کہ ہم نے گزشتہ پندرہ سال سے اسے اپنے سیاسی اور خاندانی معاملات سے ”بے دخل“ کیا ہوا ہے۔خیر سیاست میں اس طرح کی ہیراپھیری چلتی رہتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امیدوار بننا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ان امیدواروں کو بڑی محنت کرنا پڑتی ہے۔بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں،پھر کہیں جا کر سیاست چمکتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی شادی میں شرکت کے لئے کسی بھی امیدوار کو خاصی تیاری کرنا پڑتی ہے۔ایک خوبصورت بوسکی کا سوٹ سلانا پڑتا ہے ۔دولہا کے لئے ایک عدد پھولوں کا گلدستہ اور ایک سفید لفافے میں کچھ کاغذ اور کچھ روپے ،تاکہ موٹا نظر آئے،پاس رکھنا بھی امیدوار کے لئے ضروری ہوتا ہے ۔پھولوں کا گلدستہ اور لفافہ نمایاں طورپر نظر آئے ، پھر اس بات کا بھی اہتمام کرنا پڑتا ہے کہ امیدوار صاحب شادی کی تقریب میں اس وقت پہنچیں،جب بارات عروج پر ہو اور لوگ امیدوار کے ہاتھ میں پھولوںکا گلدستہ اورلفافہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، کیونکہ یہی لفافہ امیدوار کے جانے کے بعد اس کا تعارف بنتا ہے۔

شادی والے تو پھولوں کا گلدستہ اِدھر اُدھر پھینکنے کے بعد سب سے پہلے لفافہ کھول کے تسلی کرلیتے ہیں کہ اس میں کچھ ہے بھی یا نہیں، مگر دیگر باراتی اپنا اپنا اندازہ لگانا شروع کردیتے ہیں۔امیدوار کے مخالف حضرات کا فرمانا ہوتا ہے کہ بھئی کیا ہوگا، زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار روپے ہوں گے۔بھئی ان جیسے بندے کے لئے کسی کو پانچ ہزار دینا کون سی بات ہے۔ارے بھائی اپنے پچھلے دور میں انہوں نے تھوڑی لوٹ مار کی ہے۔اللہ بخشے ان کے والد مرحوم نے جو ساری زندگی میں کمایا ہے، وہ انہوں نے صرف دوسال میں کما لیا ہے۔یہ توبھلا ہو،چیف جسٹس کا ،جنہوں نے جعلی ڈگری کی وجہ سے انہیں نااہل کردیا ہے۔یہ اگر دو سال اور گزارتے تو اپنے آصف علی زرداری سے نہیں تو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے کم نہ کماتے، مگر یہاں موجود امیدوار کے حواری بھی کسی سے کم نہیں ہوتے، ان کا فرمانا ہوتا ہے کہ بھئی بہت اچھے آدمی ہیں، ساری بارات کا خرچہ اٹھایا ہے۔کون کرتا ہے جی، سگا بھائی نہیں کرتا۔ یہ تو امیدوارصاحب کی خدا ترسی ہے، ورنہ ”چاچے خیرو“ کا بیٹا اپنی دہلیز پر بیٹھا بیٹھا بوڑھا ہوجاتا ہے۔

الغرض یہ امیدوار صاحب یہاں اپنی ”دھاک“ بٹھانے اور مخالف امیدوار کی خاک اڑانے کے بعد کسی جنازے میں شرکت کی تیاری کررہا ہوتا ہے۔جنازے میں شرکت کے لئے اسے پھر سے خاص تیاری کرنا ہوتی ہے۔مثال کے طور پر سفید لٹھے کا سوٹ، ایک عدد تسبیح اور ایک عدد ٹوپی ، مگر ٹوپی کے لئے احتیاط یہ کرنا پڑتی ہے کہ وہ کسی خاص مسلک کی نمائندگی نہ کرتی ہو، کیونکہ دوسرے مسلک کے لوگ ”کافرانہ فتوے“ بھی لگا دیتے ہیں،جن سے جان چھڑانا مشکل ہوتا ہے، لہٰذا امیدوار صاحب ایسے موقع پر عام سی سفیدٹوپی استعمال کرتے ہیں، تاکہ وہ صرف امیدوار نظر آئیں۔ اب جنازے میں شرکت کے لئے بھی خصوص اہتمام کرنا پڑتا ہے،یعنی تھوڑی سی دیر سے جانا پڑتا ہے، تاکہ جنازے کی صفیں بندھ چکی ہوں اور ان کی آمد پر انہیں سب سے نمایاں جگہ مل سکے اور خوش قسمتی سے کسی بھی ”مولوی صاحب“ کے تعاون سے امیدوار حضرات پہلی صف میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اس کے علاوہ ان امیدواروں کو گھر گھر جا کر لوگوں کو بتانا بھی پڑتا ہے کہ آپ کا بھائی امیدوار ہے۔

ہمارے علاقے کے ایک امیدوار نے ایک ناراض خاندان کو منانے کے لئے ایک مسجد میں اعلان کردیا کہ اے اہل محلہ، گواہ رہتا، مَیں نے فلاں صاحب کے ساتھ اپنا ہر طرح کا جھگڑا ختم کردیا ہے۔میری آج کے بعد ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی کوئی رنجش نہیں ہے اور اگر وہ اب بھی میرے ساتھ رنجش نہیں چھوڑتا تو اسے اللہ پُچھے“....ان امیدوار کے اعلان کے بعد پورے گاﺅں نے ان کے ناراض ووٹر کا ناک میں دم کردیا کہ بھائی تم اس کی مخالفت کرتے ہوئے ،حالانکہ اس نمانے نے تو باقاعدہ اعلان کرکے تم سے معافی مانگ لی ہے۔خدا کے بندے، خدا سے ڈرو، اور پھر شام تک گاﺅں والوں نے اس ناراض شخص کو خدا سے اتنا ڈرایا کہ وہ شام کو ڈیرے پر جا کے صلح کرآیا تو اس وقت چھوٹے بڑے شہروں میں اس طرح کی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ الیکشن آئے کہ آئے، مگر ڈریہ بھی ہے کہ اگر صدر پاکستان نے ٹی وی پر آکر فرما دیا،آئین اور قانون کے مطابق ہم پانچ سال پورے کر چکے ہیں، مگرمیرے ذاتی حساب کے مطابق ابھی ایک سال باقی ہے تو پھر ان امیدواروں کا کیابنے گا؟    ٭

مزید :

کالم -