ہم کب قوم بنیں گے؟

ہم کب قوم بنیں گے؟
 ہم کب قوم بنیں گے؟

  

حکمرانوں کی طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں ،مگر یہ طاقت انہیں تب میسر آتی ہے.... جب عوام کو ان کے فیصلوں میں خلوص اور سوز نظر آتا ہے۔ اسی لئے آمر حکمران با اختیار تو ہوتے ہیں،مگر طاقتور نہیں ہوتے۔ خلوص نیت وہ جوہر ہے جو ایک کمزور اور بے اختیار حکمران کو طاقتور اور بااختیار کر دیتا ہے۔ دنیائے سیاست میں سب سے طویل عرصہ حکمرانی کرنے والی آئرن لیڈی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ قدامت پسند پارٹی کی جانب سے برطانوی وزیر اعظم بننے والی مارگریٹ تھیچر11سال برطانیہ کی وزیراعظم رہیں۔ چرچل کے بعد ان کا دور برطانیہ کا اہم دور سمجھا جاتا ہے۔ اپنے دور اقتدار میں انہوں نے آئرش ری پبلک آرمی کے قاتلانہ حملوں سے لے کر ٹریڈ یونینوں کی ہڑتالوں جیسے بڑے چیلنجوں کا مقابلہ کیا، کیونکہ انہیں عوامی حمایت حاصل تھی اور اس حمایت کی وجہ ان کا بے پناہ خلوص اور دلچسپی تھی، مگر یہی آئرن لیڈی اس وقت عوامی طاقت سے ہاتھ دھو بیٹھیں، جب انہوں نے ٹول ٹیکس بڑھانے کا اقدام کیا،کیونکہ عوامی رائے میں یہ اقدام عوامی نہیں بلکہ شاہانہ تھا۔ وہ اقتدار کھو بیٹھیں ،مگر ان کے دور کا ایک واقعہ ہماری رہنمائی کرنے کے لئے کافی ہے۔

1984ءمیں مارگریٹ تھیچر اس وقت ایک مضبوط لیڈر بن کر ابھریں، جب انہوں نے کوئلے کی کانوں کے مالکان اور ٹریڈ یونینوں کے ہاتھوں بلیک میل ہونے سے انکار کر دیا۔ برطانیہ کے سرد ترین موسم میں کوئلہ حدت کے حصول کا واحد ذریعہ تھا۔ کوئلے کی کانیں ٹریڈ یونینوں کی حرکات کے باعث پیداواری صلاحیت کھو رہی تھیں۔ ان کو چلانے کے لئے یا تو کوئلے کی قیمت بڑھانا پڑتی یا پھر ٹریڈ یونینز کا زور توڑنے کے لئے ان کانوں کو نجی شعبے کی تحویل میں دے دیا جاتا ۔ مارگریٹ تھیچر سے پہلے وزیر اعظم کو بھی یہ ٹریڈ یونینیں لے ڈوبی تھیں، مگر اس کے باوجود مادام تھیچر نے راست اقدام کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کوئلے کے دام بڑھانے کی بجائے خسارے والی کانیں نجی شعبے کو دینے کا اعلان کیا۔ یونین نے اس اقدام کے خلاف ہڑتال کا اعلان کردیا۔ وہ جانتے تھے کہ عوام سردی کی شدت میں کوئلے کی عدم دستیابی کے باعث مادام تھیچر کا تخت الٹ دیں گے، مگر ان کا اندازہ غلط نکلا۔ عوام نے سخت سردی برداشت کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے اپنی وزیراعظم کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف یونین بضد رہی ، نتیجتاً یہ ہڑتال ڈیڑھ سال چلی اور بالآخر یونین نے عوامی طاقت اور خلوص کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔

یہ واقعہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور ہم اس سے اہم سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ سی این جی ہمارے ملک میں گاڑیوں کے ایندھن کا سب سے سستا ذریعہ ہے۔ یہ ہماری اپنی پروڈکٹ ہے۔ ہمارے کوتاہ اندیش حکمرانوں نے اس ایندھن کے استعمال کے بارے میں کوئی پالیسی نہیں بنائی، بلکہ اندھا دھند سی این جی اسٹیشنوں کے لائسنس جاری کئے گئے۔ ہر قسم کی گاڑی میں سی این جی کٹ لگائی جاتی رہی۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ قدرتی گیس کا استعمال بڑھنے لگا۔ انڈسٹری اور گھریلو صارفین کی ضروریات کے لئے گیس کم پڑنے لگی، حتیٰ کہ معاملہ انڈسٹری اور سی این جی کی لوڈشیڈنگ تک آ پہنچا۔ حکومت نے سی این جی کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے نئی گاڑیوں میں سی این جی کٹ لگانے پر پابندی لگا دی اور ساتھ ساتھ اس کے نرخ بڑھانے شروع کر دیئے۔ بالآخر یہ معاملہ عدالت عظمیٰ کے علم میں آ گیا۔

آپ ظلم کی انتہا دیکھئے کہ جب عدالت عظمیٰ نے سی این جی ریٹ طے کرنے کا فارمولا پوچھا تو اوگرا اور سی این جی مالکان بغلیں جھانکنے لگے۔ معلوم ہوا کہ کوئی فارمولا ہے ہی نہیں۔ لوٹ مار کی انتہا یہ ہے کہ سی این جی مالکان طے شدہ مارجن کے علاوہ بھی فی کلو تیس روپے لے رہے ہیں۔ جب وجہ پوچھی گئی تو عذر لنگ پیش کیا گیا کہ یہ گاڑیوں پر وائپر اور صفا ئی وغیرہ کی مد میں ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے ساتھ ساتھ عوام الناس بھی اس نادر شاہی لوٹ مار پر ہکا بکارہ گئے،یعنی اگر ایک اسٹیشن ماہانہ دس ہزار کلو گیس بیچتا ہے تو منافع کے علاوہ تین لاکھ روپے بے مقصد وصول کرتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ان بے مقصد تیس روپے فی کلو کو خارج کرتے ہوئے گیس کی قیمت مقرر کی اور سی این جی مالکان اور اوگرا کے اس اتحاد کو پرائس فارمولا بنا کر لانے کا حکم دیا۔

 عدلیہ نے وہ کام کیا جو حکومت کو کرنا چاہئے تھا۔ حکومت کی منشا کے بغیر سی این جی مالکان اور اوگرا حکام کی ملی بھگت سے یہ لوٹ مار ممکن نہیں تھی۔ عدلیہ نے مارگریٹ تھیچر کی طرح اپنا کام دکھایا اور کان کن یونین کی طرح سی این جی یونین بھی ضد پر اتر آئی ہے۔ سی این جی مالکان نے کھلم کھلا عدالتی حکم کی تضحیک کرتے ہوئے اس قیمت پر گیس بیچنے سے انکار کر دیا ہے۔ نتیجتاً گیس کی تعطیل کے علاوہ ایام میں بھی ملک بھر کے سی این جی اسٹیشن بند رہیں۔ چند سی این جی اسٹیشن کھلے ہیں، جن پر سینکڑوں گاڑیوں کی قطاریں لگی ہیں۔ لوگ اپنی نیند چھوڑ کر نصف رات کوہی این جی ڈلوانے پہنچے ہوتے ہیں۔ عوام کے مسائل دیکھنے کے باوجود سی این جی مالکان کی ہٹ دھرمی قابل دید ہے۔ وہ اس امید پر ہڑتال کئے بیٹھے ہیں کہ چند روز میں عوام کا حوصلہ جواب دے جائے گا اور وہ سپریم کورٹ کوسنے لگیں گے۔ عوام سوچیں گے کہ اس سستی نہ ملنے والی گیس سے مہنگی ،مگر میسر گیس بہتر تھی، مگر سی این جی مالکان یہ نہیں جانتے کہ اداروں کو قوت ان کے اختیار سے نہیں، بلکہ عوام کی حمایت سے حاصل ہوتی ہے۔

یہ وہ موقع ہے کہ عوام کو عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی پشت پر کھڑا ہونا چاہئے، مگر ہمارے معاشرے کا ایک طبقہ ایسا کرنے کو شاید تیار نہ ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آج تک اپنی ترجیحات کا اندازہ نہیں کر پائے۔ ان کے پاس اٹھارہ لاکھ کی گاڑی ہو گی، مگر یہ اس میں سی این جی ڈلوانے کے لئے دو گھنٹے قطار میں کھڑے ہوکر ضائع کر دیں گے۔ اگر آج تک حکومت یہ فیصلہ نہیں کر سکی تو ہم بحیثیت قوم یہ فیصلہ کیوں نہیں کر سکتے کہ 1000 سی سی سے بڑی گاڑی میں سی این جی نہیں ڈالی جائے گی، جو اٹھارہ بیس لاکھ کی گاڑی افورڈ کرسکتا ہے، اسے غریب کا ایندھن جلانے کا کوئی حق نہیں۔ رکشہ اور ٹیکسی کی حد تک سی این جی کا استعمال درست، مگر بڑی بسوں اور ویگنوں کا سی این جی پر چلنا قطعی مناسب نہیں ۔ اگر ہم بحیثیت معاشرہ چند ہفتوں کے لئے مشکل برداشت کر کے ایک معزز ادارے کے فیصلوں کی توقیر نہیں کروا سکتے تو ہمیں عظیم قوم بننے کے خواب دیکھنے کا بھی کوئی حق نہیں۔     ٭

مزید :

کالم -