ہولوکاسٹ کی کہانی (3)

ہولوکاسٹ کی کہانی (3)

  

ہارون یحییٰ نے بہت تفصیل سے صہیونی یہودیوں نوہم گولڈ مین، ڈیوڈبن گوریان، اسرائیل گولڈ سٹائین، جوزف کلوسز اور دیگر انتہا پسند انقلابی صہیونی رہنماو¿ں کا تذکرہ کیا ہے جو کسی قیمت پر ہولوکاسٹ کے سانحے کو فراموش نہیں ہونے دینا چاہتے تھے اور ہر قیمت پر دنیا بھر کے یہودیوں کا انخلاءفلسطین کی سمت چاہتے تھے۔ تمام یہود کی ارض مقدس کی طرف مہاجرت صہیونی رہنماو¿ں کا دیرینہ خواب تھا۔ کتاب کے صفحہ 156 پر مصنف ایک اہم دستاویز کا عکس پیش کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ 3 جولائی 1948ءکو تحریر کی گئی۔ اس کا عنوان ہے ”دہشت گردی کے حربے“۔ یہ رپورٹ دہشت گرد صہیونی تنظیم Irgun کے ان حربوں کا ذکر کرتی ہے جو انہوں نے یہود کے جبری انخلاءکے ضمن میں استعمال کئے۔ ان جبری حربوں میں وہ آپریشن بھی شامل ہیں جو ان صہیونی طاقتوں نے مختلف خطوں سے یہودیوں کے انخلاءکے لئے کئے مثلاً:

-1 آپریشن میجک کارپٹ (1949ء۔1950ئ): اس آپریشن کے نتیجے میں پچاس ہزار یمنی یہودیوں کو اسرائیل جانے پر مجبور کیا۔

-2 آپریشن علی بابا (1950ئ۔1959ئ): اس آپریشن میں ایک لاکھ بیس ہزار عراقی یہودیوں کا جبراً انخلاءہوا۔

-3 آپریشن موسیٰ (1984ئ): اس آپریشن کے نتیجے میں سات ہزار حبشی یہودیوں کو مشرقی سوڈان سے اسرائیل بھیجا گیا۔

-4 آپریشن سلمان (1991): اس آپریشن میں مزید پندرہ ہزار حبشی یہودیوں کو ایتھوپیا کی حکومت سے غلاموں کی حیثیت میں خریدا گیا اور اسرائیل منتقل کیا گیا“۔

ان آپریشنوں کے دوران دہشت گردی کا ہر ممکن اور مو¿ثر حربہ استعمال کیا گیا کہ حتیٰ کہ عراق میں یہودیوں کے مقدس مقامات (Synagogues) پر بموں سے بھی حملے کئے گئے تاکہ یہودیوں کو ہراساں کر کے ان میں ارضِ وطن کی طرف مراجعت کی خواہش پیدا کی جاسکے۔ یہ واقعہ یہودی دہشت گرد خفیہ تنظیم موساد کی تاریخ پر مبنی کتاب "Every Spy a Prince" میں بھی بیان کیا گیا ہے“۔

یہ الگ بات ہے کہ ارضِ موعود کے نام پر ان کو جو سبز باغ دکھائے گئے، انہوں نے بدترین حقیقت کا روپ دھارا۔ اس مہاجرت کے دوران ان یہودیوں کواپنے ہی ہم مذہبوں کے ہاتھوں بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں تنگ اور بدبودار کیمپوں میں رکھا گیا، ناقص خوراک اور ماحول مہیا کیا گیا اور کئی یہودی اس سفر کے دوران ہی وفات پا گئے۔ یہ ٹریلر کیمپ بدبودار حبس آلود، موسم گرما میں شدید گرم اور موسم سرما میں شدید سرد ہوتے تھے۔ ایک ترک جریدے نے اس صورت حال کا پول کھولا اور 21 ستمبر 1984ءکی اشاعت میں مع تصاویر کے یہ تمام رپورٹ شائع کر دی۔ یوں اقوام عالم تک اس بدترین سازش کا احوال پہنچا۔ہارون یحییٰ اس امر کا بھی جابجا تذکرہ کرتے ہیں کہ موجودہ امریکی حکومت اسرائیلی امداد کی مرہون منت ہے اور امریکہ میں اسرائیل کا اثر و رسوخ روز بروز جڑپکڑ رہا ہے۔ اس حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران کی کتاب "The Grand Deception: Corporate America and Perpetual War" کا اقتباس بہت برمحل دکھائی دیتا ہے:

There is a deep alliance between a particular Jewish Lobby and the Evangelical Christian sect. This sect believes that until and unless the Temple of solomon is erected in place of the Al- Aqsa Mosque the Promised messiah will not descend on earth. This sect is an extreme right wing sect and its members are involved in planning warfare and bloodshed against Muslims worldwide....The infamous black water .a firm of mercenaries has gained global notoriety for engaging in a killing rampage in Iraq. It is owned by an Evangelical Christian Erik prince who also heads it.۱۲''

 شاعر مشرق نے بجا فرمایاتھا ....”فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے“.... ہولو کاسٹ کے تا ریخی سانحے کے استحصال کے ضمن میں ایک اہم حوالہ امریکی کانگریس ممبر پال فنڈ لے کی کتاب ....They dare to speak Out:People and Institutions Confront Isreal's Lobby''کا ہے ۔یہ کتاب اس اثر و رسوخ کا تفصیلی بیان ہے جو یہودی لابی امریکہ پر حاوی ہونے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ یہ لابی ہو لوکاسٹ کے واقعے کو اپنی حمایت کے لئے بہت تو اتر سے استعمال کرتی ہے اور جو کوئی اس سے اختلاف کرے اسے anti-semiteیا NeoNazi''کے لقب سے نوازا جاتا ہے۔ یو ں بہت سے اہل علم مدرسین، پادریوں اور صحافیوں کو خاموش کرایا جاچکاہے ایک تلخ سچائی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید پختہ ہورہی ہے، یہ ہے کہ یہودی اپنے ہی ہم مذہبوں کے خلاف دہشت گردی کے مرتکب ہورہے ہیں اور خود یہودیوں کی ایک غالب اکثریت اسرائبل کی وسعت پسندی کی پالیسی کی مخالفت کرتی دکھائی دیتی ہے ۔اس حوالے سے پروفیسر نوم چومسکی اور روتھ موشے دایان کے نام قابل توجہ ہےں۔

اول الذ کرتو امریکی پروفیسر ہیں اور Rogue Statesجیسی کتاب کے مصنف ہیں اور ثانی الذکر اسرائیل کے بانیوں میں سے ایک اور اس ملک کے وزیر دفاع موشے دایان کی بیوہ ہے۔ موشے دایان ہی کی زیر قیادت اسرائیلی افواج نے 1967 ءکی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ سے مشرقی یروشلم، مغربی کنارے غزہ اور جولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا تھا اوراس کی چالوں کے باعث اسرائیلی خود کو ناقابل تسخیر تصور کرنے لگے تھے۔ 95سالہ روتھ دایان نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے... موجودحکومت کو جنگ کرنے کے سوا کوئی کام نہیں آتا اسے یہی نہیں معلوم کہ امن کی خاطر گفت وشنید کیونکر کی جاتی ہے؟ یہ حکومت ملک کو تباہ کرکے چھوڑے گی۔ وہ ابھی تک صہیونی نظر یے اپنائے ہوئے ہے، جبکہ میرے خیال میں صہیونیت کا سب جنازہ اٹھنے والا ہے وہ مزید کہتی ہے : ”آج یہ ضر وری ہوگیاہے کہ امن پانے کی خاطرآزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آجائے، اگرایسا نہ ہوا تو خدشہ ہے کہ مستقبل میں اسرائیل کا بھی نام ونشان مت جائے “۔)جاری ہے)  ٭

پر وفیسر نارمن فرینکل اشٹائین نے بھی اپنی کتاب میں انھی اور ان سے ملتے جلتے حقائق پر بات کی ہے ان کی “کتاب کا عنوان ہے The Holocaust industry: Reflections on the Exploitation of Jewise Suffering”.... پر وفیسر موصوف نے اس کتاب میں مستند حوالوں سے ثابت کیاہے کہ مغرب میں یہودی تنظیموں اوراسرائیل دونوں نے مل کر ہو لو کاسٹ کے تاثر کو دھندلادیا ہے۔ بین الاقوامی ٹریبونل، جو دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد تشکیل دیئے گئے، کے فیصلوں کے مطابق جرمنی نے متاثرہ یہودی خاندانوں کوتلافی کی غرض سے رقم کی ادائیگی کی ہے ۔سوئٹزرلینڈ اور مشرقی یورپ کے ممالک بھی رقم کی ادائیگی اب تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ متذکرہ کتاب کے مصنف نے شواہد سے یہ ثابت کیاہے کہ یہ رقم متاثرہ خاندانوں تک پہنچنے کے بجائے صہیونی اداروں کی تشہیر پر خرچ کی جارہی ہے اور اس کے اعدادہ شمار بتانے میں فریب دہی سے کام لیا گیا ہے ۔جرمنی اب بھی نقصانات کی تلافی کے لئے ادائیگی کررہاہے اور اب تک ایک سوارب مارک سے زائد رقم ادا کر چکا ہے ، جبکہ ادائیگی کا یہ سلسلہ معاہدے کے مطابق 2030ءتک جاری رہے گا ۔

 بہت کم لوگ اس امر سے واقف ہیں کہ ہولوکاسٹ کے بارے میں تحقیق پر پابندی کا قانون وجود میں آچکاہے.... یہ قانون جس کا مسودہ 1981-89ءمیں فرانس کے معروف خاخام( یہودی مذہبی رہنما )کے زیر صدارت تیار کیا گیا اور جسے جولائی 1990ئمیں فرانس میں منظور کیا گیا ہے۔ ہولوکاسٹ کے بارے میں کسی بھی قسم کی تردید، چاہے وہ دوسری عالمی جنگ کے یہودیوں کے دعوے کے متعلق قتل عام سے متعلق ہو یا گیس بھرے کمروں کی موجودگی کے بارے میں ہو، یہاں تک کہ6 ملین یہودیوں کے قتل کی کم ترین تردیدسے عبارت ہو جرم تصور کی جائے گی۔

فرانس میں جوکوئی بھی اس قانون کی خلاف ورزی اورتینوں کی تردید کرے گا، اسے ایک ماہ سے ایک سال تک قید اور 4ہزار سے3 لاکھ فرانک تک جرمانے کی سزادی جائے گی۔ یہ حال ہے یورپ کے اس ملک کا جہاں اظہار کی آزادی باقی تمام مغربی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہولو کاسٹ کی ترکیب ہے کیا ؟اصطلاحی اعتبار سے ہولوکاسٹ سے مرادچھ ملین یہودیوں کا پر تشدد طریقوں سے قتل ہے اور کہا جاتاہے یہ تین طریقوں سے بروئے کارلائی گئی ،

1)Concentration

Ghettoes(2

Gas Chambers(3

 اس سانحہ کو تاریخ میں ہمیشہ زندہ جاوید رکھنے کے لئے صہیونی حکمرانوں اور ان کے آلہ کاروں نے بہت سے ذرائع اپنائے، جن میں اخبارات ورسائل،ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ اور فلم سینما شامل ہے.... (اس امر سے تمام لوگ بخوبی واقف ہوں گے کہ دنیا بھر کے میڈیا میں سب سے زیادہ مقبولیت یہودی میڈیا کے تحت جاری ہونے والے رسائل وجرائد یا فلموں کو حاصل ہے ).... مزید اقدامات جواس تاریخی سانحہ کو تادیر زندہ رکھنے کے حوالے سے کئے گئے، وہ ہیں وسیع پیمانے پر علمی وتحقیقاتی کوششیں تاکہ اس سانحہ کی درست سند حاصل ہوسکے۔ امریکہ اور یورپ میں ہولوکاسٹ کے حوالے سے خاص عجائب گھروں کا قیام اس دن، یعنی 27جنوری کو عالمی طور پر منانا، ہالی ووڈ اور دیگر فلم کمپنیوں کے توسط سے ہولوکاسٹ کے موضوع پر فلمیں بنانا، اس سانحہ کے خلاف آواز اٹھانے یا اظہار کرنے والوں کوعدالت کے کٹہرے میں لاکھڑا کرناہے۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ دنیا کو وہ حصوں میں تقسیم کرکے جو مصنوعی صورت حا ل پیدا کی گئی ہے، اس کا تقاضا کیا ہے ”ہم“(us)اور ”وہ“(them)باالفاظ دیگر the guilty party اور the grieved partyکی جوتقسیم دیکھنے میں آئی ہے وہ صہیونیوںکے بالمقابل فلسطینیوں کو لاکھڑا کرتی ہے۔ ایڈ ورڈسعید نے اس کی مثال یوں دی کہ یروشلم میںتیس سے زائد جامعات میں عبرانی (مردہ زبان)کے احیاءاور ترویج کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں، جبکہ اسی زبان کو سیکھنے کے لئے مغربی کنا ر ے میں کتنے شعبے وقف کئے گئے ہیں ؟ کوئی ایک بھی نہیں۔(جاری ہے)

  ہولوکاسٹ افسانے کا پول کھولنے والے دانشوروں اور مخققین کی صف کے سب سے دلیر اور ان تھک معکر سوربون یونیورسٹی ،فرانس کے شعبہ تاریخ کے سابق سربراہ پروفیسر رابر ٹ فور یسن ہیں یہ امر بہت سوں کےلئے ناقابل یقین ہوگا کہ پروفیسرموصوف کو ہولوکاسٹ کو من گھڑ ت افسانہ قرار دے کر اس کی تحقیقات کرنے کی پاواش میں فرانس جیسے ملک میں تنہا کردیا گیا ان کا سماجی مقاطعہ (Boycott)کیا گیا ان پر جھوٹے مقدمے تیار کیے گئے یورپ کی مسلح یہودی ملیشیا کے ڈنڈ بردار غنڈوں نے کئی بار پروفیسر فور یسن پر سخت تشدد بھی کیا اور ان کی بے عزتی کی گئی اس وقت پور ے کرو ارض پر پروفیسر فوریسن کا واحد خامی اور ہمدرد مسلمانوں مفکر اور محقق سویڈن میں مقیم احمد رامی ہے جو” ریڈیو اسلام “کا ڈائر یکٹر ہے پروفیسر صاحب سے ایرانی اسکالرز کی ایک جماعت نے انٹرویو لیا جس میں پروفیسر فوریسن نے ہولوکاسٹ افسانے کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں انھوں نے تمام حقائق پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ ہولوکاسٹ میں بہت کچھ زیب داستان کے لئے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا

 ایک بہت اہم حوالہ جو باربا ردیا جاتا ہے وہ ہولوکاسٹ میں آدم سوزی کی بھٹیوں (Chambers Gas) ہے کہ جہاں Zyclone B جیسی مسموم گیس کا استعمال کیا گیا اور نازیوں نے اس مخصوص ہتھیار سے یہودی قوم کی نسل کشی کی جب اس حوالے سے پروفیسر فوریسن سے سوال کیا گیا تو انھوں نے تفصیل سے وضاحت کی کہ مذکورہ زہر موذی حشرات جیسے کھٹمل جوﺅں اور چچڑیوںکے خاتمے کے لئے بھی استعمال ہوتا تھا کیونکہ قیدیوں کی ایک کثیر تعدار کیمپوں میں جمع تھی اورصفائی کے حالات ناگفتہ بہ تھے بقول پروفیسر فوریسن ” لیکن سرکاری مورخین نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ جنگ کے زمانے میں جرمنی والوں نے یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتار نے کے لئے گیس کے کمروں کی اصطلاح میں اسی زہر سے استفادہ کیاتھا۔

 میں نے اس سلسلے میں ایک سوال اٹھایا تھا جو” لوموند “میں شائع ہونے والے مقالہ میں شامل تھا زیکلون بی وہی ہائیڈروسینک ایسڈ ہے جو بے حد طاقتور زہر ہوتا ہے ۔لہذا میں آپ سے استد عا کرتاہوں کہ مجھے وضاحت کے ساتھ بتایا جائے کہ گیس کے کمرے کی مکمل تفصیلات کیا تھیں اور غیر معروف ہتھیار کے استعمال کا طریقہ کار کیا تھا ؟میں نے اس مقابلے میں لکھا تھا کہ میرا یہ سوال ایک ایسا نکتہ ہے جو کبھی میری سمجھ میں نہیں آتا ، سرکاری تاریخ کی روایت کے مطابق خصوصا نازی حکومت کے اعلیٰ حکام کے مقدمات جو نور مبرگ کی عدالت میں چلائے گئے تھے اس میں پیش کیے گئے خصوصی اسناد میں کہا گیا ہے کہ ہر بار گیس کے کمروں کو استعمال کرنے کے ایک گھنٹہ بعد جرمن فوجی کمروں میںں مرجانے والے افراد کے لاشوں کو نکال کر مذکورہ کمروں کو خالی کرنے کے لئے ان کمروں میں نہایت بے اثری سے بغیر ماسک کے داخل ہوتے وہ بھی اس طرح کہ ان کے ہونٹوں سے جلتے ہوئے سگریٹ موجود ہوتے تھے میں نے اپنے مذکورہ مقالہ میں سوال کیا تھا کہ یہودیوں کوموت کے گھاٹ اتارنے کے لئے مذکورہ مہلک گیس کو استعمال کرنے کے بعد کس طرح نازی لوگ ان گیس کے کمروں میں داخل ہوسکتے ہیں جس میں ہائیڈروسینک ایسڈ نامی زہریلی انخلا بیحد مشکل کام ہے پھر وہ لوگ نازی کس طرح ان لاشوں کو ہاتھ لگا سکتے تھے جو اس مہلک اور قوی زہر سے پوری طرح آلودہ ہوچکی ہوتی تھیں “؟

پروفیسر فوریسن کامذکورہ انٹریو بے حدچشم کشاحقائق کا حامل ہے وہ محض کتابی شواہد کو کافی سمجھ لینے کے بجائے ان تمام فوجی کیمپوں میں بھی گئے جہاں دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کو قید کیا گیا تھا وہ کہتے ہیں :

 ”بالکل میں آشویٹر فوجی کیمپ بھی گیا تھا دوسری عظیم کے تین سال بعد ۱۹۴۸ءمیں تاسیس ہونے والے ”آشویٹز کے نیشنل میوزیم کا بھی دورہ کیا جس کو گئی ملین افراد نے دیکھا ہے اسی طرح ان کمروں کا جس کےلئے گیس کے کمروںکی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے معائنہ کیا اور نہایت تیزی سے مجھ پر یہ بات منکشف ہوگئی کہ وہ گیس کے کمرے جعلی ہیں ۔“

وہ مزید بیان کرتے ہیں:

” اس لیے کہ چھت کنکریٹ میں لوہے کی سلاخیں دبا کہ بنائے گئے ہیں جبکہ ان میں موجود سوراخ بیحد معمولی اور سادہ ہیں جنھیں آہین بستہ کنکریٹ سے تیار شدہ چھتوں میں کدال کے ذریعے کھود اور سوراخ کیا گیا ہے

پروفیسر فوریسن نے اپنے اس مصاحبے میں واضح کیا کہ وہ آشویٹزAuschwitzاور وخاﺅDachaiuنامی فوجی کیمپوں میں نہ صرف گئے بلکہ وہاں کے مشاہدات وتاثرات اور حقائق کو تحریر بھی کیا مگر ان اعتراضات یا سوالات کا کبھی کوئی جواب متعلقہ احباب کی طرف سے نہ دیا گیا اور سماجی مقاطعے اور ظلم وتشدد کے ذریعے انھیں سچ کہنے کی سزادی گئی

 اعدادو شمار اورتاریخ کا وسیع مطالعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ چھ ملین یہودیوں کے قتل عام کی جو کہانی گھڑی گئی ہے اس میں بھی سچائی نہیں ۶لاکھ یہودی جوجرمنی میں آباد تھے ان میں سے چار لاکھ کو ہٹلر کے حکم سے جرمنی سے نکالا جاچکاتھا اور یہ بات دوسری جنگ عظیم کے شروع ہونے سے قبل کی ہے گویا جنگ کے وقت جرمنی میں کل دو لاکھ یہودی موجود تھے اور ان میں سے بھی زیادہ ترشدید سردی ناکافی غذا پریشانی اور ضعیف العمری اور حفظان صحت کی ناکافی سہولیات کے سبب انتقال کرگئے سواگر چھے ملین یہودیوں کے قتل کو افسانہ یا مبا لغہ آرائی سمجھا جائے تو یہ امر حقیقت سے قریب تر نظر آتا ہے

 ایک اور مورخ کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ تھوڑی بہت ریاضی کی شدبدھ رکھنے والا بھی سمجھ سکتاہے کہ اس سے چھیا سٹھ برس قبل چھے ملین افراد کو قتل کرڈالنا ممکن نہیں تھا ۔وہ مثال دیتے ہیں کہ بالفرض ایک لاش کو ٹھکا نے لگانے میں کم از کم ایک لٹر پٹرول اور تقریبا۲۰منٹ وقت درکار ہوتو چھے ملین افراد کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے میں کئی برس اورکئی سو لٹر ایند ھن درکار ہوگا اور نازی افواج کے پاس یہ موجود نہیں تھا ۔“

 دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کا پروپیگنڈ اکا وزیر گوٹبلر کہا کرتاتھا کہ جھوٹ اتنے تواتر سے بولو کہ وہ سچ محسوس ہونے لگے یہی معاملہ صہیونیت کی پراپیگنڈہ مشینری کاہے ۔ بن گور بان نے نصف صدی قبل کہاتھا

 We must save the remnants of Israel in the Diaspora We must also save their possessions Without these two things we shall not build this country.

مزید :

کالم -