ایک مدت میں 33ضمنی الیکشن ، پنجاب اسمبلی باقی اسمبلیوں پر بازی لے گئی

ایک مدت میں 33ضمنی الیکشن ، پنجاب اسمبلی باقی اسمبلیوں پر بازی لے گئی
 ایک مدت میں 33ضمنی الیکشن ، پنجاب اسمبلی باقی اسمبلیوں پر بازی لے گئی

  

لاہور ( نواز طاہر سے) پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں سب سے زیادہ ضمنی الیکشن پنجاب اسمبلی کی موجودہ مدت کے دوران ہوئے جن کی مجموعی تعداد 3 3بنتی ہے۔ اس اسمبلی کے بعض اراکین کو نااہل ہونے اور مستعفی ہونے کے بعد دوبارہ منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا اور یہ مثال بھی قائم ہوئی کہ کسی رکن نے اپنی چھوڑی ہوئی نشست پر قریبی رشتے دار کو الیکشن جتوایا اور پھر اس کی نشست خالی ہونے پر اپنا بیٹا منتخب کرا لیا۔ چار دسمبر منگل کو پنجاب کی چھ نشستوں پر الیکشن ہوا جن میں پی پی 226ساہیوال سے حنیف جٹ، پی پی 122 سیالکوٹ سے چودھری اکرام، پی پی 92 گوجرانوالہ سے نواز چوہان، پی پی 133 نارووال سے عمر شریف پی پی26جہلم سے چودھری خادم حسین کامیاب ہوئے۔ اس سے پہلے پنجاب اسمبلی کی 27 نشستوں پر ضمنی انتخاب عمل میں آیا۔ رحیم یار خان کے حلقے پی پی 295 سے سابق وزیراعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے عبدالقادر گیلانی کے 18اگست 2012ءکو استعفے کے بعد پانچ نومبر کو فنکشنل لیگ کے پارلیمانی لیڈر مخدوم احمد محمود کے صاحبزادے مخدوم سید مرتضیٰ محمود نے حلف اٹھایا۔ مخصوص نشست ڈبلیو 351 سے ق لیگ کی ڈاکٹر فائزہ اصغر نے سات اکتوبر کو استعفیٰ دیا جن کی جگہ پر رابعہ رحمان نے پانچ نومبر کو حلف اٹھایا۔ دوہری شہریت کے عدالتی فیصلے سے نااہل ہونے والی پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر آمنہ بٹر کی نشست پر پانچ نومبر کو شازیہ عابد نے حلف اٹھایا۔ دس مارچ کو سینیٹر بننے پر استعفیٰ دینے سے محسن لغاری کی خالی نشست پر محمد خاں لغاری نے سات جون کو حلف اٹھایا۔ سینیٹر بننے پر سردار ذولفقار خاں کھوسہ کی نشست پر ان کے صاحبزادے سردار ہسام الدین کھوسہ پانچ جون کو ایم پی اے بنے۔ ن لیگ کی شمائلہ رانا نے چوری کا الزام لگنے پر 25 جولائی کو استعفیٰ دیا اور پھر اسی نشست پر دوبارہ نو مئی 2012ءکو حلف اٹھایا۔ پی پی 194 سے شاہد محمود خان نے استعفیٰ دیا جن کی جگہ پر محمد عثمان بھٹی نو مئی 2012ءکو ایم پی اے بنے۔ سینیٹر منتخب ہونے پر ن لیگ کے کامران مائیکل کی نشست پر رضیہ جوزف 29 ماچ 2012ءکو منتخب ہوئیں۔ پی پی 18 سے ملک خرم علی خان یکم دسمبر 2011 ءکو مستعفی ہوئے جن کی جگہ پر میجر ریٹائرڈ اعظم خان گابا یکم مارچ 2012ءکو ایم پی اے بنے۔ 29 دسمبر2011ءکو عامر حیات خان روکھڑی کے انتقال سے خالی ہونے والی نشست پر عادل عبداللہ خان روکھڑی یکم مارچ 2012ءکو منتخب ہوئے۔ چودھری ممتاز احمد ججا 8 اکتوبر 2011ءکو ڈینگی کے باعث انتقال کر گئے ، ان کی نشست پر 12 دسمبر 2011ءکو احسان الحق چودھری نے حلف اٹھایا۔ ولایت شاہ کھگہ کی پانچ ستمبر 2011ءکو نااہلی پر پیرخضر حیات شاہ کھگہ 12 دسمبر 2011ءکو ایم پی اے بنے۔ 31 اگست 2010ءکو شبینہ ریاض کے مستعفی ہونے پر تین دسمبر 2010ءکو رانا رضوی نے حلف اٹھایا۔ ملک یاسر رضا کی یکم جولائی 2010ءکو نااہلی سے خالی ہونے والی نشست پر پانچ اکتوبر 2010ءکو ملک غلام رضا ایم پی اے بنے۔ سات جون 2010ءکو نااہل ہونے والے رضوان نوئز گل کی نشست پانچ اکتوبر 2010ءکو اعجاز احمد کاہلو نے پر کی۔ 29 جولائی 2010ءکو آمنہ جہانگیر کے استعفے پر پانچ اکتوبر 2010ءکو حمیرا اویس شاہد ایم پی اے بنیں۔ 27 اپریل 2010ءکو رانا مبشر اقبال کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر ملک سیف الملوک کھوکھر پانچ جولائی 2010ءکو ایم پی اے بنے۔ 24 مارچ 2010ءکو محمد اجمل کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر محمدا جمل آصف 14 جون 2010ءکو منتخب ہوئے۔ آٹھ اپریل 2010ءکو نغمہ مشتاق کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر سابق وزیراعظم کے بھائی سید احمد مجتبیٰ گیلانی 14 جون 2010ءکو منتخب ہوئے۔ 29 مارچ 2010ءکو اللہ وسایا عرف چنو خان لغاری کے استعفے پر سید باسط احمد سلطان 14 جون 2010ءکو منتخب ہوئے۔ سردار میر بادشاہ خان کیسرانی نے 17 اپریل 2010ءکو استعفیٰ دیا پھر اس نشست پر وہ 14 جون 2010 ءکو دوبارہ منتخب ہو گئے۔ یکم ستمبر 2009ءکو محمد رﺅف خالد کی نااہلی سے خالی ہونے والی نشست پر چودھری شاہد انجم 27 مارچ 2010ءکو منتخب ہوئے۔ 14 نومبر 2008ءکے ضمنی الیکشن میں منتخب ہونے والے میاں محمد اعظم چیلہ نے 17 جون 2009ءکو استعفیٰ دیا اور 27 مارچ 2010ءکو دوبارہ اسی نشست پر منتخب ہو گئے۔ حاجی ناصر محمود تین فروری 2010ءکو نااہل ہوئے اور 27 مارچ 2010ءکو اس نشست پر حاجی عمران ظفر منتخب ہوئے۔ 11 اپریل 2009ءکو غزالہ فرحت کے انتقال سے خالی ہونے والی نشست پر سیمل کامران 15 جون 2009ءکو ایم پی اے بنیں۔ 14 نومبر 2008ءکو اسمبلی ہال کے اندر ہی ہارٹ اٹیک سے انتقال کرنے والے سابق ڈپٹی سپیکر سردار شوکت حسین مزاری کی نشست پر دو فروری 2009ءکو ان کے بھتیجے سردار عاطف حسین مزاری منتخب ہوئے۔ سات مئی 2008ءکو انتقال کر جانے والے رانا طارق محمود کی نشست پر چھ اگست 2008ءکو رانا محمد اقبال ہرنا منتخب ہوئے۔ عام انتخابات کے بعد چار دسمبر م،نگل کو ایک ساتھ چھ نشستوں پر انتخاب عمل میں آیا ہے ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -