قیمتیں برقرار،سی این جی سٹیشن مالکان کے اکاﺅنٹس کی تفصیلات طلب، سٹیشن بند ہوں یا کھلے، عدالت کو عوام کا مفاد دیکھناہے: سپریم کورٹ

قیمتیں برقرار،سی این جی سٹیشن مالکان کے اکاﺅنٹس کی تفصیلات طلب، سٹیشن بند ...
 قیمتیں برقرار،سی این جی سٹیشن مالکان کے اکاﺅنٹس کی تفصیلات طلب، سٹیشن بند ہوں یا کھلے، عدالت کو عوام کا مفاد دیکھناہے: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے سی این جی ایسوسی ایشن کی جانب سے پرانی قیمتیں بحال کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سٹیشن مالکان کے اکاﺅنٹس کی تفصیلات طلب کرلیں جبکہ اوگرا نے قیمتوں کے تعین کا فارمولا عدالت میں پیش کر دیا۔جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے سی این جی کی قیمتوں کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔دوران سماعت اوگرا کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ تاحال سی این جی مالکان سے قیمتوں کے فارمولے پر اتفاق نہیں ہو سکا، اتھارٹی نے تین ہزار تین سو پچانوے سی این جی سٹیشنز کو لائسنس جاری کیے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے استفسار کیا کہ سی این جی سٹیشنز کے لیے کتنی درخواستیں آئیں، ان میں سے کتنی منظور اور کتنی مسترد کی گئیں،کتنے درخواست گزاروں کو لائسنس جاری کیے گئے؟کتنے لائسنسوں پر سی این جی سٹیشن قائم ہوئے؟ لائسنس کے بغیر سی سی این جی فروخت نہیں کی جا سکتی،جاری کیا گیا ٹیرف کہاں ہے ؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک مافیا بن چکاہے،سٹیشن مالکان نے جو ٹیرف مقرر کرنے کا مطالبہ کیا وہ پوراکر دیا گیا۔ جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ ایک بڑا طبقہ سی این جی کی وجہ سے پریشان ہے،حکومت کچھ نہیں کر رہی، عوام کو پریشانی سے بچانے کے لئے وزارت پٹرولیم کردار ادا کرے۔ سی این جی سٹیشنز مالکان کے وکیل عبدالحفیظ پیر زادہ نے کہا کہ قیمتیں مقرر کرنا عدالت کا کام نہیں، نرخ کم کرنے سے سٹیشن بند ہونا شروع ہو گئے۔عدالت نے کہاکہ تفصیلات نہ دی گئیں تو ایف بی آر سے کہیں کہ ڈیٹا فراہم کرے، ایسانہیں ہوسکتاکہ نام بدلا اور نیا لائسنس جاری کر دیا۔بتایاجائے کہ کتنے لائسنس ہولڈروں نے لائسنس صرف جیب میں ڈال لیے؟وہ ہو گا جو قانون کہے گا۔ سی این جی ایسوسی ایشن کے وکیل وسیم سجاد نے عبوری ریلیف کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے تک سی این جی کی پرانی قیمتیں بحال کر دی جائیں کیونکہ موجودہ قیمتوں سے نہ صرف سٹیشن مالکان کو نقصان ہو رہا ہے بلکہ فلنگ سٹیشن بند ہونے سے صارفین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے،تاہم عدالت نے پرانی قیمتیں بحال کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس خواجہ نے ریمارکس دئیے کہ فلنگ سٹیشنز کی تعداد دگنی ہو جائے یا تمام سٹیشنز بند ،عدالت کو کوئی غرض نہیں، عوام کا مفاد دیکھنا ہے،فیصلہ قانون کے مطابق کریں گے،کیس کی سماعت جمعرات کو پھر ہو گی۔

مزید :

بزنس -