حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوگئ ,وزیراعلیٰ اغواءاور قتل کی ذمہ داری قبول کریں : سپریم کورٹ

حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوگئ ,وزیراعلیٰ اغواءاور قتل کی ذمہ ...
 حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوگئ ,وزیراعلیٰ اغواءاور قتل کی ذمہ داری قبول کریں : سپریم کورٹ

  

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے بلوچستان بدامنی کیس میں حکم نامے میں کہا ہے وفاقی اورصوبائی حکومتی لوگوں کے تحفظ میں ناکام ہوگئی۔ عدالت نے صوبائی اسمبلی نہیں، صوبائی حکومت کی آئینی اتھارٹی ختم ہونےکی بات کی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم بینچ نے مختصر حکم نامے میں کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوگئی ہیں۔ شارٹ آرڈر میں درج ہے کہ صوبائی حکومت کی آئینی اتھارٹی ختم ہوچکی ہے۔صوبائی اسمبلی کے بارے میں عدالت نے کبھی کچھ نہیں کہا۔لاپتہ افرادکے د کھ روزبروزبڑھ رہے ہیں۔ ڈاکٹرز، انجینیئزز سمیت کوئی شخص بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا، صوبائی حکومت نے بارہ اکتوبرکے حکم نامے کےخلاف نظرثانی کی درخواست نہ دائرکرنے کابیان دیا ہے۔اس سے پہلے سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اغواءاور قتل کی ذمہ داری قبول کریں ، صرف پولیس پر امن وامان کی ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی ، بلوچستان میں جو حکومت کررہاہے ، اپنے رسک پر کررہاہے ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے بلوچستان بدامنی کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ لوگوں کی زندگیاں چلی گئیں،اس کا ذمہ دار کون ہے؟جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتے تو بیٹھے کیوں ہیں؟بلوچستان حکومت آئینی اختیار کھو چکی ہے۔حکومت سے زیادہ انسانی جان قیمتی ہوتی ہے،کوئی بڑا ہے یا چھوٹا ،قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے۔پی ایم اے بلوچستان کے نمائندے نے کہاکہ گورنر بلوچستان سے ملاقات میں بتادیاکہ جان کا خطرہ ہے،ڈیوٹی کیسے کریں؟عدالت نے کہاکہ صوبے میں ڈاکٹر وہ کام کریں جس کی قانون اجازت دیا ہے۔صوبے میں اغواءاورقتل و غارت پہلے کی طرح جاری ہے،ہم دوبارہ کوئٹہ جائیں گے اوردیکھیں گے کہ کیا فرق پڑتا ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہاکہ عدالت آج حکم دے تو وہ کل ہی مستعفی ہوجاتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت کو نہیں پتہ کہ کیاکرناہے ؟ جائیں ، آئین پڑھیں اور پھرفیصلہ پڑھ لیں ۔عدالت نے کہ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے حکومت کے خلاف فیصلے کی خلاف ورزی کی ، چیف سیکرٹری کو بلاکر پوچھیں کہ کیا ڈیرہ بگٹی کھل گیاہے ۔

مزید :

اسلام آباد -