سیاسی جماعتوں نے ’رسوائی ‘ کا میدان مار لیا ۔۔۔

سیاسی جماعتوں نے ’رسوائی ‘ کا میدان مار لیا ۔۔۔
 سیاسی جماعتوں نے ’رسوائی ‘ کا میدان مار لیا ۔۔۔

  

گلوبل پِنڈ ( محمد نواز طاہر)مارگئے ، ماردیا ، مار لیا ۔۔۔ہائے ہائے بھوکے مر گئے ۔ ۔کم و بیش ملک بھر میں یہی کچھ سننے کو مل رہا ہے ۔سندھ اور بلوچستان میں نامعلوم موت لوگوں کے اتے پتے ڈھونڈ کر’ جگالی ‘کر رہی ہے۔ خیبر پختونخواہ میں پاک سر زمین سے بہت مانوس ’اجنبی‘گولیوں اور بموں سے اپنے شکار ڈھونڈ رہے ہیں ،پنجاب میں دوسرے صوبوں سے اگرچہ حالات بہتر ہیں لیکن یہاں بھی ہرجانب موت کا راج ہے۔ کوئی صنعت ایسی نہیں جہاں بغیر خون کے کام کرنے والے کِل پرزے موت سے نہ لڑ رہے ہوں ۔کوئی حیات سے بیزار موت کو پکار لیتا ہے تو کسی کی پکار موت بھی دھتکار دیتی ہے ۔ ۔ ۔ بحیثیت مجموعی موت ہی کا راج نظر آتا ہے ۔ اخبارات اور ٹی وی کی چیخیں بھی سب کو اسی موت کی جانب متوجہ کرتی ہیں ماسوائے حکمرانوں اور ارباب ِ اختیار کے، سب ہی ہر لمحہ موت موت سن رہے ہیں ۔۔ ۔اسی دوران اخبارات اور ٹی وی نے پھر مار لیا ۔ ۔ ۔ مار لیا ۔ ۔ کی پکار شروع کی تو حالتِ نزع میں کئی لوگ چونک اٹھے کہ اب کس کا قرعہ نکلا لیکن پتہ چلا کہ اب کوئی بندہ نہیں، میدان مارلیا ہے اور وہ بھی ن لیگ نے ۔ ۔ ۔ یعنی جمہور کی مدد سے جمہور کو فتح کرلیا اور وہ جمہوریت ان کی حد تک مضبوط ہونے کا امکان پیدا ہوا جس کے بارے میں اُن کا کہنا ہے کہ غیر مستحکم ہے بلکہ سب سے زیادہ چیخ و پکار پاکستان کی سب سے بڑی اورمرکز کی حکمران پارٹی کرتی ہے ۔مار لیا ۔ ۔مار لیا کی گردان تینوں حکمران پارٹیوں نے گردانی۔ پیپلزپارٹی نے سندھ کی ایک اور ق لیگ نے نارووال کی نشست پر جبکہ ن لیگ نے اپنی چھوڑی ہوئی نشستیں واپس جیت لیں ۔ ۔ پیپلز پارٹی کو البتہ ایک نقصان ضرور ہوا کہ اس کے نااہل ہونے والے قومی اسمبلی کے ایک رکن اب ن لیگ کا جھنڈا تھام کردوبارہ اسمبلی کی جانب چل پڑے ہیں ۔

گذشتہ سال جب ڈیڑھ دہائی پہلے جنم لینے والی’ ننھی سی‘ تحریک انصاف نے تاریخی مینارِ پاکستان پر جلسہ کرکے نئی تاریخ رقم کی تو تحریکِ انصاف سمیت سب کے ہوش اُڑ گئے ۔۔۔بلکہ بعض اوقات تو یوں معلوم ہوا کہ اس جماعت کے سربراہ نے دوسروںکی ’ کِلیاں ‘ اڑانے کیلئے جاری باﺅلنگ میں اپنے حواس پر بھی دو ایک باﺅنس مار لئے ہیں ۔۔۔اس جماعت کی مقبولیت پر کسی کو شبہ نہیں رہا ۔ سچ اور جمہورت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مان لیا جائے ورنہ کان بند کر لئے جائیں ۔’(البتہ آنے والے کل کے انتخابی نتائج الگ بحث ہے )۔

 گلی سے گذرتے ہوئے جب دو نوجوان پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی کامیابی اور ناکامی پر بحث کر رہے تھے تو وہاں سے یک سوٹڈ بوٹڈباﺅ نے ان کی بحث اپنی علمیت سے ختم کرنے کی کوشش کی۔اس نے ان کی توجہ تحریکِ انصاف کے سربراہ کے اس بیان کی جانب مبذول کروائی کہ ضمنی الیکشن جیتنا عوامی مقبولیت کا کوئی پیمانہ نہیں ۔ ۔ ۔اس نوجوان نے ان دونوں کو قائل کرنے کی کوشش کی تو وہ ماننے پر تیار نہیں ہوئے ۔ ایک نوجوان بولا بھئی ق لیگ کو آپ کیاسمجھتے ہیں ؟ ۔ ۔جھٹ سے ایک بولا، ق لیگ تو اقلیت پارٹی بن گئی ، اس کے کئی لوگ ہماری ن لیگ میں آگئے ہیں تو دوسرا بولا نہیں پیپلز پارٹی میں بھی آئے ہیں ۔۔ اس نوجوان نے چند روز پہلے ٹی وی پر ق لیگ کے سربراہ کے انٹرویو کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ بھی مانتے ہیں کہ لوگ اِدھر اُدھر ہوئے ہیں جس پر انہی نوجوانوں نے یہ سوال بھی داغ دیا کہ بھئی دھڑا دھڑ تحریکِ انصاف میں جانے والے بھی تو بڑی تعداد میں لوٹ رہے ہیں ۔۔۔

نہایت جمہوری انداز میں جاری اس شعوری بحث میں یہ تینوں نوجوان اس بات پر متفق نظر آئے کہ ضمنی الیکشن میں ق لیگ نے اصل کامیابی حاصل کی ہے جس کے ٹکٹ پر جیتنے والے ڈاکٹر طاہر علی جاوید ’لوٹا ‘بن کر ن لیگ کے ہمدرد ہوگئے توان کے والد نے ضمنی الیکشن میں ن لیگ کے ٹکٹ پر حصہ لیا مگر کامیاب نہیں ہوئے اور یہ نشست ق لیگ نے ہی جیتی ہے ۔

کبھی بھی جمہوریت کی حمایت نہ کرنے والے ایک بزرگ نے ان تمام نوجوانوں سے صرف ایک سوال کیا کہ ۔ ۔ بھئی اس میں مرکز اور پنجاب کی حکمران جماعتیں کچھ بھی حاصل نہیں کر سکیں ۔۔۔جو جماعت ایک فوجی صدر کے دور میں پنپی ،اُسی نے اپنے بھگوڑے کی نشست صوبائی حکومت کے وسائل کا مقابلہ کر بچا لی، یعنی خرگوش ہار گئے اور کچھوا کامیاب رہا جبکہ اس میں کامیابی تو کسی کی نہیں بلکہ اخلاقیات ، عدالت ، جمہوریت اور جمہور کی ناکامی اور آمریت کی کامیابی ہے ۔ ۔ ۔اسمبلی سے جن لوگوں کی شادیانوں یا آنسوﺅں سے رخصتی ہوئی دوبارہ بھی کامیابی کی مہندی کا رنگ انہی گھروں پر جمہور اور حقیقی جمہورت کا منہ چڑا رہا ہے ۔ ۔ ۔یہ کونسی جمہوریت ہے جس میں عام نہیں صرف خواص ،ڈنڈے ، گولی ، نوٹوں اور کی شامد والے ہی آتے جاتے ہیں ۔ ۔ یہ جمہوریت ہے یا بالا دست طبقے کی محکوموں پر ’غصبیت ‘غاصبانہ قبضہ ہے ۔ ۔ اس بزرگ نے جملہ مکمل کر کے میری طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا اور پوچھا اوئے بتا اوئے ۔ ۔بڑا صحافی بنا پھرتا ہے ۔ ۔ہونہہ صحافی جو قوم کی رہنمائی اور سچ کا دعویٰ کر کے خود اس سے کوسوں دور ہیں ۔ ۔ ۔یہ تو بھلا ہو جمہوریت جیسی نحیف موٹرسائیکل کا جو پہلی کک پر سٹارٹ ہو گئی اور ایک جمہوریت پسند منہ موڑ کر آمریت کے سامنے لاجواب ۔۔ڈھٹائی کے ساتھ گیں گیں ۔۔گیں۔۔۔ کرتا سچ لکھنے کی نوکری کیلئے چل پڑا ۔۔۔راستے میں اس بزرگ کی بازگشت بے ہنگم ٹریفک کے شور میں بھی واضح طور پر صاف سنائی دے رہی تھی تو میں خود کلامی کرتے یہ تسلیم کر رہا تھا کہ۔۔ ۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ۔ ۔

مزید :

بلاگ -