اِب کے مار

اِب کے مار
 اِب کے مار

  

دھرنوں کی طرح جلسے بھی اپنی کشش کھو رہے ہیں۔ 30نومبر کو اسلام آباد کے جلسے کو فیصلہ کن قرار دینے کا اعلان دھرے کا دھرا رہ گیا۔ اس جلسے میں 10لاکھ افراد کی شرکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ وقت مقررہ پر پنڈال کا بڑا حصہ خالی دیکھ کر عمران خان اپنے ہی ساتھیوں پر برس پڑے۔ وہ تو بھلا ہو ماڈرن خواتین و حضرات کا‘ خصوصاً جینز میں ملبوس نوجوان لڑکیوں کی بڑی تعداد کا کہ ان کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو اور لوگ بھی آنا شروع ہو گئے۔ اس کے بعد تعداد کسی بھی مرحلے پر 35ہزار سے بڑھ نہ سکی۔ پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے‘ عمران خان نے ایک اور ڈیڈلائن پلان سی کی صورت میں دیدی۔ خوداعتمادی کی کمی کا واشگاف اظہار کرتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی کہہ ڈالا کہ پلان سی فیل ہوا تو پھر پلان ڈی آئے گا۔ اب تو یوں محسوس ہونے لگا کہ کپتان پلان زیڈ تک جائے گا اور پھر نئے سرے سے اے بی سی شروع کرنا ہو گی، یعنی پلان اے اے سے زیڈ زیڈ تک۔

اسلام آباد کا جلسہ اس حوالے سے بھی پھیکا رہا کہ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ نوری نت (اداکار مصطفی قریشی) تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کرنے والے تھے۔ مولا جٹ (بڑھک بازی) کا کردار تو پہلے ہی سے کپتان نے خود سنبھال رکھا ہے۔ کیا خوش کن منظر ہوتا کہ جب مولاجٹ اور نوری نت یک جان دوقالب ہو کر اپنے دشمن نوازشریف پر ٹوٹ پڑتے۔ اب تھوڑا انتظار کرنا ہو گا لیکن یہ طے ہے کہ نوری نت کو کپتان کے آستانے پر ہی گھٹنے ٹیکنا ہونگے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ خواتین ماڈلز سمیت تمام کی تمام فنکار برادری ایک ایک کر کے خود کو تحریک انصاف کے سپرد کرتی جا رہی ہے۔ کوئی بھی فنکار سیاسی معاملات پر لب کشائی کرنے لگے تو لوگ اس کے بولنے سے پہلے ہی اندازہ لگا لیتے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کو پیارا ہونے والا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کا جلسہ حاضری کے اعتبار سے کمزور تو تھا اعلانات (دھمکیوں) کے حوالے سے بھی ”بیک فائر“ ثابت ہوا۔ لاہور‘ فیصل آباد‘ کراچی اور پھر پورا پاکستان بند کرانے کے لئے جن تاریخوں کا اعلان کیا گیا وہ تبدیل کرنا پڑیں۔ معاملہ یہیں تک رہتا تو شاید تھوڑی بہت فیس سیونگ ہو جاتی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ تاجر برادری کا زبردست ردعمل دیکھ کر احتجاج کے اعلان کی نئے سرے سے تعریف کرنا پڑی کہ مختلف مقامات پر پُرامن دھرنے دیئے جائیں گے۔ کاروباری مراکز اور دفاتر کھلے رہیں گے۔ یہ اتنا بڑا سیٹ بیک تھا کہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ کھلے عام جھوٹ بولنے کی شہرت رکھنے والے شاہ محمود قریشی بھی میڈیا کے سامنے آئے تو سٹپٹا گئے۔ آنکھیں ملانے کی ہمت نہ کر پائے اور احساس شکست کے ساتھ شرمندگی کی ہلکی ہلکی لہریں بھی ان کے چہرے پر واضح طور محسوس کی جا سکتی تھیں۔ اپنے ٹائیگروں کو 16دسمبر کے بدقسمت دن پر پاکستان بند کرانے کی کال دے کر عمران نیازی خود ٹائیگرنیازی بننے کی راہ پر چل پڑے۔ سکرپٹ رائٹر کی باقیات نے عمران خان کو ملک بند کرانے کی تاریخوں کے حوالے سے جو پرچی تھمائی وہ جہالت پر مبنی تھی یا پھر کپتان کی کارکردگی سے مایوس ہو کر ان کے خلاف سازش کی گئی۔ عمران خان کو ہوش مندی کے ساتھ اس معاملے کا جائزہ لینا چاہیے۔ شاہ محمود قریشی‘ شیخ رشید اور شیریں مزاری کو کنٹینر کے اندر بلا کر شامل تفتیش کرنا خود عمران خان کے فائدے میں ہو گا۔ یہ احتیاط بھی کرنا ہو گی کہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ اور بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن جیسے نابغوں کو اس تمام معاملے سے دور رکھا جائے تاکہ سچ سامنے آ سکے۔

صحافت کے بعض شرابے اور خرابے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ عمران خان کی جانب سے تین بڑے شہر اور پھر پورے ملک کو بند کرنے کی دھمکی کے باعث حکمرانوں کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹی وی پر چلنے والے اشتہارات اور وفاقی وزراءکے بیانات کو بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔ یقینی طور پر حکومت عمران خان‘ خصوصاً ان کے پشت پناہوں کے حوالے سے اب بھی بڑی حد تک محتاط ہے لیکن اسے ڈرا ہوا سمجھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ واقفان حال اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ کپتان نے جب سے ”حکومت گراﺅ‘ خود اقتدار میں آﺅ“ تحریک شروع کی ہے‘ لیگی کارکن اس وقت سے جواب دینے کے لئے بے چین بیٹھے ہیں۔ قیادت نے صورت حال کا درست ادراک کرتے ہوئے انہیں کسی بھی کارروائی سے روک رکھا ہے۔ اس کے باوجود لانگ مارچ اور دھرنا مہم کے عین عروج پر گوجرانوالہ میں لیگی کارکن بے قابو ہو گئے۔ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ محض چند درجن لیگی ورکروں کے پتھراﺅ کے فوری بعد عمران خان ٹرک چھوڑ کر بلٹ پروف گاڑی میں آ گئے تھے اور تمام ساتھیوں کو وہیں چھوڑ کر فوری طور پر اسلام آباد کی راہ لے لی تھی۔ اگست سے دسمبر کے درمیان معاملات کو درست رکھنا یقینی طور پر حکومت کی ہی ذمہ داری تھی لیکن اب شاید یہ طے کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے خلاف لیگی کارکنوں میں پایا جانے والا اشتعال کم کرنے کے لئے وزراءکو ذمہ داریاں دی جائیں۔ کپتان کے متضاد دعوﺅں کا پول اشتہارات کے ذریعے کھولنے کی کوشش بھی محض عوامی آگہی ہی کیلئے نہیں بلکہ کارکنوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کیلئے بھی ہے۔ اگست میں جب سیاسی کشیدگی عروج پر تھی ایک ایسے وزیر کے لہجے اور گفتگو نے شرکاءمحفل کو حیران کر دیا کہ جس کی خاندانی شرافت اور نرم گوئی کی ہر کوئی مثال دیتا ہے۔ کپتان کا ذکر آتے ہی وزیر موصوف کے چہرے پر تناﺅ آ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بدزبانی کا منہ توڑ جواب دینا چاہتے ہیں لیکن قیادت نے ہمارے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔ عمران خان پر وزراءکے زبانی حملے دراصل کپتان کو تنگ کرنے سے کہیںزیادہ اپنے رہنماﺅں اورکارکنوں کو مطمئن کرنے کیلئے ہیں۔

لاہور بند کرانے کی دھمکیوں پر ایک غیرسیاسی دکاندار کا فوری ردعمل یہ تھا کہ ہمارا کاروبار کسی کا باپ بھی بند نہیں کرا سکتا۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ثابت ہو چکا عمران خان کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ وہ صرف دھمکیوں پر دھمکیاں اور تاریخوں پر تاریخیں ہی دے سکتا ہے۔ ان حالات میں یہ تاثر عام کیوں نہ ہو کہ عمران خان بالآخر ”اب کے مار“ والی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ادھر حکومت نے طے کر رکھا ہے کہ کپتان کو گزند بھی نہیں پہنچائیں گے۔ یہ صورتحال تحریک انصاف کیلئے شدید پریشانی کا سبب بن رہی ہے۔

عمران خان کا احتجاج کب تک جاری رہے گا۔ اس حوالے سے متضاد آراءسامنے آ رہی ہیں۔ اگرچہ تجزیہ کاروں کی بڑی تعداد اس نتیجہ پر پہنچ چکی ہے کہ عمران خان کو اپنا اصل ہدف (حکومت کا خاتمہ) حاصل نہیں ہو سکتا لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کو استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ آخر کو یہ عمران خان ہی ہیں کہ جن کے سبب پاکستان کو درپیش سب سے بڑے مسئلے کی جانب کسی کی توجہ ہی مبذول نہیں ہورہی۔ ضرب عضب کے نام پر شروع ہونے والا آپریشن ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ قبائلی اپنے گھروں سے دور دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ سیاسی حکومت کئی معاملات کا کنٹرول اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کر کے پیچھے ہٹ چکی۔ عمران خان کے استعمال کے بارے میں اگست میں ہی اسٹیبلشمنٹ کے ایک ذریعے نے واضح کر دیا تھا کہ وہ ایک بہترین پریشرککر ہیں، لیکن انہیں کسی بھی صورت کک نہیں بنایا جا سکتا۔ اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ حلقوں تک رسائی رکھنے والے اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ عمران خان کے ہاتھ کچھ نہیں آنے والا۔ حالیہ احتجاجی تحریک میں اپنے بعض ”کارناموں“ کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ میں ان کے متعلق پایا جانے والا تاثر مزید پختہ ہو گیا ہے۔ ہاں مگر کپتان کا استعمال جاری رہے گا۔ اس صورتحال پر افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے کیونکہ 62سالہ کپتان نے اپنی نئی شادی کا معاملہ بھی نئے پاکستان کے قیام سے مشروط کر ڈالا ہے۔ بہتر ہو گا کہ وہ دیگر معاملات کی طرح اس حوالے سے بھی جلد یوٹرن لے لیں۔ دھرنے کے چکروں میں کہیں شادی کے ارمان بھی دھرے نہ رہ جائیں۔ ویسے بھی عمریا بیتی جائے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملک میں کھیلے جانے والے کھیل کو محض مقامی سکرپٹ رائٹر تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس سارے معاملات کا ایک بین الاقوامی پہلو بھی ہے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو موم کی ناک بنا کر اپنی منشا کے مطابق ڈھالنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے جے یو آئی (ف) کو یقین ہے کہ ڈاکٹر خالدسومرو کی شہادت خطے میں جاری گریٹ گیم کا حصہ ہے۔ انہیں نشانہ بنا کر اعتدال پسند مذہبی سیاسی جماعت کو تشدد پر اکسانے کی کوشش کی گئی۔ مولانا فضل الرحمن نے جہاں حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو تلاش کر کے ہمارے حوالے کیا جائے وہیں طویل احتجاجی پروگرام کا شیڈول بھی جاری کر دیا۔ کوئٹہ میں اپنے اوپر ہونے والے حملے کے بعد بھی مولانا فضل الرحمن اور پارٹی رہنماﺅں کے لہجوں میں اتنی تلخی نہیں آئی تھی جتنی اب آ گئی ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما نجی محفلوں میں یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ڈاکٹر خالد سومرو کو عالمی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قاتلوں کو پکڑنے میں لاپروائی برتی تو یہ خدشہ موجود رہے گا کہ کہیں جے یو آئی کا پیمانہ صبر لبریز نہ ہو جائے۔ دینی جماعتوں کو (خصوصاً جو کسی نہ کسی حوالے سے جہاد میں شریک رہی ہیں) خدشہ ہے کہ انہیں نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ دھرنے میں شریک طاہرالقادری دینی مدارس کے حوالے سے جو منصوبہ لے کر آئے تھے اسے محض عالمی ہی نہیں بلکہ ملکی اسٹیبلشمنٹ کے ایک حصے کی حمایت بھی حاصل تھی۔ عمران خان کو مولانا فضل الرحمن کے پیچھے لگانے کی ہدایات بھی وہیں سے آئیں جہاں سے حکومت کو مفلوج کر کے گرانے کی ترکیبیں کی جا رہی تھیں۔ جے یو آئی کی قیادت نے صورتحال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اپنی ہم مسلک تمام جماعتوں کا اجلاس بلا کر مخالف قوتوں کو بھرپور پیغام دے ڈالا۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی کا منصوبہ آگے بڑھا تو بات صرف جے یو آئی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جماعت اسلامی‘ جماعت الدعوة سمیت جہاد کی حامی تمام پارٹیوں کو رگڑا لگایا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قسم کے منصوبے کافی دیر سے بن رہے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی عملی جامہ پہنانے کی جرا¿ت نہیں کر سکا۔ ایسی کوئی نئی کوشش ہوئی تو نتائج کیا ہوںگے؟ سب کے لئے نوشتہ دیوار ہے۔ معروف مذہبی سکالر اور روحانی شخصیت پروفیسر احمد رفیق اختر کی رائے کو تو ملک کے مختلف حلقوں میں بھی بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل ہے۔ ان کی تازہ ترین ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا میں زیرگردش ہے۔ پروفیسر نے مکمل مشاہدے کے بعد عمران خان کو ناقابل اعتبار اور طاہرالقادری کو ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔

مزید :

کالم -