تیز مرچوں والا کھانا کھانے کے بعد پانی ہرگز نہیں پینا چاہیے کیونکہ۔۔۔ ماہرین نے خبردار کردیا، مرچیں لگنے کی صورت میں پانی کا متبادل بھی بتادیا

تیز مرچوں والا کھانا کھانے کے بعد پانی ہرگز نہیں پینا چاہیے کیونکہ۔۔۔ ماہرین ...
تیز مرچوں والا کھانا کھانے کے بعد پانی ہرگز نہیں پینا چاہیے کیونکہ۔۔۔ ماہرین نے خبردار کردیا، مرچیں لگنے کی صورت میں پانی کا متبادل بھی بتادیا

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) اکثر لوگ تیز مرچوں والا کھانا پسند کرتے ہیں مگر جیسے ہی انہیں مرچیں لگتی ہیں فوراً پانی کا گلاس منہ کو لگا لیتے ہیں۔لیکن اب ماہرین نے بتا دیا ہے کہ پانی پینے سے مرچوں کی چبھن کم نہیں ہوتی بلکہ مزید پھیلتی ہے۔امریکی کیمیکل سوسائٹی کے ماہرین نے ایک ویڈیو میں مرچیں لگنے کی وجہ اور اس کا حل بتایا ہے۔ ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ مرچوں میں کیپسئیسن (Capsaicin)نام کا ایک مرکب موجود ہوتا ہے اور یہی مرکب ان کے لگنے کی وجہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ کیپسئیسن کا درجہ حرارت بہت زیادہ ، بعض مرچوں کی اقسام میں 43ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے، اس لیے مرچیں کھانے سے جلن کا احساس ہوتا ہے۔

مزید جانئے: میکسیکو میکڈونلڈ نے ’برگر میں چوہے کا کٹا سر ‘برآمد ہونے پر مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کر لیا

ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ مرکب تیل کی طرح ہوتا ہے، اس لیے پانی اپنی مخصوص ترکیب کے باعث اس کواپنے اندر حل نہیں کر سکتا اور پورے منہ میں پھیلا دیتا ہے۔ویڈیو میں ماہرین نے بتایا کہ اگر کسی کو مرچوں کی جلن اور چبھن سے فوری چھٹکارہ پانا ہو تو اسے پانی کی بجائے دودھ پینا چاہیے ، کیونکہ دودھ مرچوں کے اس مرکب کو اپنے اندر حل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے ساتھ بہا کر معدے میں لے جاتا ہے۔ دودھ میں حل ہونے کی وجہ سے اس مرکب کا درجہ حرارت بھی گر جاتا ہے جس سے جلن کا احساس نہیں رہتا۔ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر دودھ دستیاب نہ ہو تو آئس کریم بھی اس کا بہترین حل ہو سکتا ہے کیونکہ آئس کریم ٹھنڈی ہونے کے ساتھ اس میں دودھ بھی شامل ہوتا ہے۔

مزید : تعلیم و صحت