ایک طرف داعش دوسری طرف بمباری اور اب شام کو دنیا کی خوفناک ترین بیماری نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، بڑا خطرہ پیدا ہوگیا

ایک طرف داعش دوسری طرف بمباری اور اب شام کو دنیا کی خوفناک ترین بیماری نے ...
ایک طرف داعش دوسری طرف بمباری اور اب شام کو دنیا کی خوفناک ترین بیماری نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، بڑا خطرہ پیدا ہوگیا

  


دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں ایک طرف شدت پسند تنظیم داعش برسر پیکار ہے تو دوسری طرف کئی ممالک کی افواج کی طرف سے اس کے زیر قبضہ علاقوں پرفضائی بمباری جاری ہے۔ ایسے میں بد نصیب شامی شہریوں پر ایک اور افتاد آ پڑی ہے۔ داعش کے زیرقبضہ شامی علاقوں میں ایک انتہائی خطرناک وباءپھوٹ پڑی ہے۔عالمی فلاحی ادارے ہلال احمر کی رپورٹ کے مطابق اس وباءمیں شہری ایک ایسے کیڑے(جراثیم )کا شکار ہو رہے ہیں جو انسانی گوشت کھاتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا افراد کے جسم پر گوشت ختم ہوتا جا رہا ہے اور وہ شدید تکلیف میں مبتلا ہیں۔ اور یہ مرض تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ اب تک ان علاقوں میں اس مرض کے اب تک 500سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں۔

مزیدجانئے: داعش امریکا میں جنگجو بھرتی کر رہی ہے،جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہرین کی رپورٹ

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لیشمیناسز(Leishmaniasis) نامی بیماری ہے اور اس کی وجہ ایک ایسا جراثیم ہے جس کی خوراک انسانی گوشت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش کے زیرقبضہ علاقوں میں یہ بیماری پھیلنے کی وجہ یہ ہے کہ داعش کے شدت پسندقتل کیے جانے والے لوگوں کوآبادی کے درمیان گلیوں میں ہی پھینک دیتے ہیں۔ ان گلی سڑی لاشوں کو کھانے کے لیے یہ جراثیم وہاں پیدا ہوتے ہیں اور آبادی کے درمیان ہونے کی وجہ سے زندہ انسانوں پر بھی مسلط ہو جاتے ہیں۔شام میں ہلال احمر کے عہدیدار دلقاش عیسیٰ کا کہنا تھا کہ یہ سب داعش کے کاموں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ وہاں سینکڑوں کی تعداد میں روزانہ لوگ قتل ہو رہے ہیں جنہیں گلیوں میں ہی دبا دیا جاتا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی اس حوالے سے خدشات کا اظہارکیا ہے کہ شام میں بدترین سول جنگ کی وجہ سے ہیلتھ سروسز ختم ہو کر رہ گئی ہیں اور باشندے طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، اس کے باقی دنیا پر بھی نہایت برے اثرات مرتب ہوں گے۔ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ایک کرد جنگجو کا کہنا تھا کہ ہم اس بیماری کے متعلق بالکل بھی نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے۔ہم محاذ جنگ پر گزشتہ 4سال سے لڑ رہے ہیں۔ یہ بیماری ہم نے زندگی میں پہلی بار دیکھی ہے اور یہ زیادہ تر تل حمیس، حون اور قوسہ کے علاقوں میں لوگوں کو لاحق ہو چکی ہے۔

مزید : بین الاقوامی