محکمہ ریونیو کے اسسٹنٹ کے خلاف انکوائر ی کے تحت تحقیقات کا آغاز

محکمہ ریونیو کے اسسٹنٹ کے خلاف انکوائر ی کے تحت تحقیقات کا آغاز

لاہور(اپنے نمائندے سے)کروڑوں روپے کے اثاثے،قیمتی جائیدادیں،ریکارڈ میں ردو بدل اور حکومتی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت محکمہ اینٹی کرپشن سمیت قومی احتساب بیورو پنجاب نے محکمہ ریونیو کے اسٹنٹ کے خلاف انکوائر ی نمبر 28/23 کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ،مزید معلوم ہوا ہے کہ ریونیو کی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن لاہور کے گریڈ 14کی آسامی پر تعینات ریاض حسین زاہد کے کروڑوں روپے کے خفیہ اثاثے ،بھاری بنک بیلنس،اربوں روپے کی جائیدادیں منظر عام پر آنے کے بعد غیر قانونی اثاثہ جات کے الزام پر محکمہ اینٹی کرپشن اور قومی احتساب بیورو پنجاب بھی حرکت میں آچکے ہیں اور ضمن میں تحقیقات کا آغا کر دیا گیا ہے ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ریاض حسین زاہد اس وقت ایچ آر سی برانچ میں تعینات تھا جب اقبال ٹاؤن اور نشتر ٹاؤن کے رجسٹرری محرر کروڑوں روپے کی سرکاری فیسیں لے کر فرار ہوئے تھے اور حکومتی خزانے کو 80کروڑ سے زائد نقصان پہنچایا گیا تھا جس میں مذکورہ اہلکار کا نام بھی شامل تھا تاہم بااثر اسسٹنٹ نے اس انکوائری سے اپنا نام نکلوا لیا تھا جو کہ اس وقت بھی محکمہ اینٹی کرپشن میں زیر سماعت ہے ریونیو ذرائع نے مزید آگاہی دی ہے کہ مذکورہ اہلکار تعلیمی قابلیت سے لے کر بنیادی کام کے حوالے سے بھی انتظامی معاملات سے ناواقف ہے اور اپنے ساتھ پڑھے لکھے نوجوانوں کو لگا کر ریونیو کے کام کرواتا ہے موجودہ حالات میں بھی مذکورہ اسسٹنٹ نے دوبارہ ایچ آر سی کے آرڈر کروا لئے ہیں جس میں اسٹیبلشمنٹ برانچ کے اہلکار اور ایڈیشنل کلکٹر کا پی اے اکبر میو بھی شامل ہے اس طرح ملک ربانی نامی کلرک نے بھی اپنا سکول تعمیر کروا رکھا ہے جس کی مالیت بھی کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے، مذکورہ اہلکار ریاض حسین زاہد اور ملک ربانی نے مبینہ ویڈیو میں اس خدشات کے پیش نظر قبل از وقت ہی ڈی سی او لاہور کو دھمکی دے دی تھی کہ اگر کسی اخباری تراشے کی خبر پر نوٹس لیا گیا یا ان کی مرضی کے خلاف ڈی سی او لاہور نے کوئی فیصلہ سنایا تو وہ ڈی سی او لاہور آفس کا بھی گھیراؤ کریں گے ،ریونیو ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ ریونیو میں ایک تاریخ رقم ہو رہی ہے آج تک ایسے حالات دیکھنے میں نہیں آئے اور نہ ہی کبھی کسی اہلکار کو سر عام ڈی سی او لاہور کو دھمکیاں دیتے ہوئے اور اس کے کرپشن میں ملوث ہونے کے باوجود اپنی سیٹ پر کا م کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی سی او لاہور کی جانب سے قانونی کارروائی میں تاخیر برتنے اور قانون ہاتھ میں لینے والے اہلکاروں کے سامنے بے بس ظاہر کرنے پر ضلع لاہور سمیت پنجاب بھر میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن پر سوالات اٹھ رہے ہیں ،دوسری جانب محکمہ اینٹی کرپشن اور قومی احتساب بیورہ نے مذکورہ اہلکار کی ملکیت کو ٹرانسفر ہونے سے روکنے کے لئے پی آئی اے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کو بھی ہدایات کر دی ہیں ،اینٹی کرپشن افسران کا کہنا ہے کہ28/23انکوائری کے تحت مذکورہ اہلکار اس کے ساتھ شامل افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے،مہیا کئے گئے ثبوتوں کی روشنی میں چند روز میں انکوائری مکمل کر لی جائے گی ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1