کراچی کے تین اضلاع میں کامیاب ہونیوالی جماعت اپنا میئر منتخب کر ا سکے گی؟

کراچی کے تین اضلاع میں کامیاب ہونیوالی جماعت اپنا میئر منتخب کر ا سکے گی؟

  

تجزیہ : نصیر احمد سلیمی

ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سے متصل جناح گراؤنڈ سے گزریں تو وہاں ایک جشن کا سماں نظر آتا ہے، کیا یہ جشن اس بات کی علامت ہے کہ آج (ہفتہ) کراچی کے چھ اضلاع میں جو بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں، ان میں ایم کیو ایم کو اپنی کامیابی کا یقین ہے؟ اس جماعت کے رہنما تو کہہ رہے ہیں کہ انہیں پہلے سے زیادہ ووٹ ملیں گے۔ ان کے اس دعوے کی صدا قت تو آج ہی معلوم ہو جائے گی لیکن ایم کیو ایم کی ایک کامیابی یہ ہے کہ میڈیا میں وہ یہ تاثر پختہ کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے کہ وہ جیت رہی ہے، اس کے مقابلے میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے اتحاد کرکے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں، سخت مقابلے کی امید ہے۔ آج کے انتخاب میں فیصلہ ہوگا کہ شہر کی میئر شپ کا ہما کس کے سر پر بیٹھے گا، کراچی کے تین اضلاع ضلع وسطی (سنٹرل) ضلع شرقی (ایسٹ) اور ضلع کورنگی سے ملنے والی نشستیں اس سلسلے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔ ایم کیو ایم نے 1987ء میں کراچی میں ڈاکٹر فاروق ستار (اب ایم این اے) کو میئر بنوانے میں کامیابی حاصل کی تھی، پھر 2005ء میں مصطفی کمال ناظم منتخب ہوئے تھے، اس سے پہلے 2001ء میں جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان کراچی کے ناظم رہے، ذرا اور پیچھے جائیں تو عبدالستار افغانی 1979ء اور 1983ء میں کراچی کے میئر رہے، ان کا تعلق بھی جماعت اسلامی سے تھا۔ دونوں جماعتوں کی یہ کامیابیاں اوپر بیان کئے گئے تینوں اضلاع میں کامیابی کی وجہ سے ممکن ہوسکیں۔ عبدالستار افغانی کو کامیاب کرانے کے لئے دوسرے گروپوں نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ ایم کیو ایم مطمئن ہے کہ وہ ضلع وسطی، شرقی اور کورنگی میں کلین سویپ کرے گی، جس کے بعد ایم کیو ایم کو اپنا میئر منتخب کرانے میں کوئی مشکل درپیش نہیں آئے گی۔ اس کے مخالفوں کا بھی خیال ہے کہ اوپر بتائے گئے اضلاع میں ایم کیو ایم اگر کلین سویپ نہ بھی کرے تو سنگل لارجسٹ پارٹی تو بہرحال رہے گی۔ اگر مخالف اتحاد (جماعت اسلامی + تحریک انصاف) ایم کیو ایم کے میئر کا راستہ روکنا چاہتا ہے تو اس اتحاد کو ان اضلاع میں کم از کم 30 فیصد نشستیں حاصل کرنا ہوں گی۔

لیاری (ضلع ساؤتھ) ضلع ملیر اور ضلع غربی میں پیپلز پارٹی سے ناراضگی کے باوجود پیپلز پارٹی روایتی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ ضلع جنوبی کی لیاری میں اکثر نشستوں پر پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی پوزیشن مضبوط ہے۔ البتہ یہ تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ لیاری میں عمران خان نے جگہ ضرور بنائی ہے اور ایم کیو ایم کے مضبوط گڑھ میں عمران خان کی قد آور تصاویر اور تحریک انصاف کے پرچم نظر آتے ہیں۔ جماعت اسلامی 2005ء میں لیاری سے دو تین نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی، دیکھنا ہوگا کہ اب ان میں اضافہ ہوتا ہے یا کمی۔ لیاری میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا اتحاد نہیں ہے۔ باقی حلقوں میں 85 فیصد نشستوں پر دونوں جماعتوں کے مشترکہ امیدوار کھڑے ہیں۔

کراچی میں مجموعی طور پر 209 نشستیں ہیں۔ تمام کی تمام نشستوں پر کسی جماعت نے بھی امیدوار کھڑے نہیں کئے، ڈاکٹر فاروق ستار نے بتایا کہ ایم کیو ایم نے 172 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں، 10 نشستوں پر آزاد امیدواروں کی حمایت کر رہی ہے، جو کامیاب ہوکر ایم کیو ایم میں آجائیں گے۔

ضلع وسطی میں کل 51 نشستیں ہیں جن میں سے ہر نشست پر ایم کیو ایم نے امیدوار کھڑے کئے ہیں، جبکہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے 50 نشستوں پر امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ ضلع شرقی میں 31 نشستیں ہیں، ان میں 20 پر ایم کیو ایم کے اپنے امیدوار ہیں اور 10 پر آزاد امیدواروں کی حمایت کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اتحاد نے بھی 30 نشستوں پر امیدوار کھڑے کئے ہیں، ضلع ایسٹ میں ایم کیو ایم (حقیقی) نے چار امیدوار اور ضلع کورنگی میں 8 امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ ایم کیو ایم حقیقی نے پورے کراچی میں 12 امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ ضلع کورنگی میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اتحاد نے 30 نشستوں پر مشترکہ امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ اس ضلع میں کل یونین کونسلیں 37 ہیں۔ ضلع ملیر میں سب سے کم 13 یونین کونسلیں ہیں، یہاں ایم کیو ایم نے زیادہ دلچسپی نہیں لی۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے 13 میں سے 9 پر مشترکہ امیدوار کھڑے کئے ہیں۔

ضلع ویسٹ (غربی) میں کہیں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے امیدوار مشترکہ ہیں، اور کہیں الگ الگ اور کہیں مدمقابل بھی ہیں۔ ضلع غربی میں 46 یونین کونسلیں ہیں۔ یہاں جماعت اسلامی نے 42 یونین کونسلوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ ضلع وسطی کے بعد ضلع غربی میں سب سے زیادہ نشستیں ہیں۔ جناب عمران خان اگر ایم کیو ایم سے میئر شپ چھیننے کے دعوے کر رہے ہیں تو انہیں اپنے مشترکہ امیدواروں سے کم از کم 40 فیصد نشستوں پر کامیابی کی ضرورت ہے۔ 20 فیصد نشستوں پر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اے این پی، جمعیت علمائے پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام بھی دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ٹرن آؤٹ زیادہ رہا تو اس کا فائدہ ایم کیو ایم کے مخالفوں کو ہوگا اور اگر کم رہا تو ایم کیو ایم فائدے میں رہے گی۔ بہرحال 12 گھنٹے کے بعد اندازہ ہو جائے گا کون کہاں کھڑا ہے۔

مزید :

تجزیہ -