میاں شہباز شریف یونیورسٹی آف لندن میں اورپنجاب کی جامعات؟

میاں شہباز شریف یونیورسٹی آف لندن میں اورپنجاب کی جامعات؟
میاں شہباز شریف یونیورسٹی آف لندن میں اورپنجاب کی جامعات؟

  


وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے مخالفین ان پر سب سے بڑا اعتراض ان کی ترجیحات کے حوالہ سے کرتے ہیں۔ ان کے مخالفین کا موقف ہے کہ میاں شہباز شریف کی تعلیم اور صحت پر توجہ کم اور میٹرو و دیگر ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ ہے۔ ان کے مخالفین کے پاس میاں شہباز شریف کے ترقیاتی منصوبوں کے خلاف یہی ایک دلیل ہے۔ ان کے پاس ان منصوبوں کی افادیت کے خلاف کوئی دلیل نہیں ۔ ان کے مخالفین کی بات اس حد تک تو درست ہے کہ تعلیم کے شعبہ میں کئے جانے والے کام اس حد تک واضح نہیں ہو تے۔ جیسے بڑے ترقیاتی منصوبے واضح ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تعلیم کو کم ترجیح دی جائے۔ بات درست ہے کہ کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ ان میٹرو اور اورنج ٹرین منصوبوں میں ایک جاہل قوم سفر کرے۔ یا ہم یہ سب منصوبے ایک پڑھی لکھی قوم کے لئے بنا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف گزشتہ روز یونیورسٹی آف لندن میں برطانیہ کے تعلیمی ماہرین کے ساتھ پنجاب کی یونیورسٹیوں کی استطاعت اور ان کے معیار کو بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ ویسے تو اس ا جلاس کی محدود سی تفصیلات میاں شہباز شریف نے خو د سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔ تا ہم یونیورسٹی آف لندن نے بھی اس اجلاس کی تفصیلات شیئر کی ہیں۔ اس اجلاس کا فوکس پنجاب کی یونیورسٹیوں کا معیار بہتر کرنے کے لئے اقدامات اور ترجیحات طے کرنا تھیں۔ میاں شہباز شریف اس ضمن میں یونیورسٹی آف لندن کے تعلیمی ماہرین کا تعاون مانگ رہے تھے۔ مجھے یہ دیکھ کر کسی حد تک اطمینان ہو اکہ ایسا نہیں ہے کہ میاں شہباز شریف کی ترجیحات میں تعلیم نہیں ہے۔ بلکہ تعلیم موجود ہے۔

یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں ہم نے ملک میں اور پنجاب میں بالخصوص یونیورسٹیوں کے چارٹر کی ایک لوٹ سیل لگا دی ہے۔ گلی گلی یونیور سٹیاں کھل گئی ہیں۔ کوٹھیوں بنگلوں میں یونیورسٹیاں کھل گئی ہیں۔ حتیٰ کہ پبلک یونیورسٹیوں نے بھی اپنے سب کیمپس کھول دئے ہیں۔ یہ سب کیمپس سرمایہ کاروں کو بھی کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ جنہوں نے کروڑوں لگا کر اربوں کمائے ہیں۔ اور اب نیب کے چکر بھی لگا رہے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں یونیورسٹیوں نے کیا پنجاب میں معیار تعلیم بلند کیا ہے۔ کیا بے روزگاری کی شرح کم ہوئی ہے۔ کیا ہم معاشرہ میں بہتر پڑھے لکھے لوگ پیدا کرنے میں کا میاب ہوئے ہیں۔ کیا اتنی بڑی تعداد میں یونیورسٹیاں صرف پیسے لیکر ڈگریاں بانٹ رہی ہیں۔ یا واقعی ملک و قوم کی کوئی خدمت کر رہی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں بننے والی ان نئی یونیورسٹیو ں میں سے ایک بھی عالمی درجہ بندی میں کوئی مقام نہیں حاصل کر سکی ۔ یہ افسوسناک بات ہے کہ نئی تمام یونیورسٹیاں عالمی درجہ بندی میں اپنا کوئی مقام نہیں بنا سکی ہیں۔ یہ یونیورسٹیاں بس ڈیپارٹمنٹل سٹور بن گئی ہیں۔ جہاں روایتی مال تو فروخت کیا جا رہا ہے ۔ لیکن کسی بھی جگہ کوئی جدت اور نئی چیز نہیں دی جا رہی ہے۔

میاں شہباز شریف نے بھی یونیورسٹی آف لندن میں تعلیمی ماہرین سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات ٹھیک کی ہے کہ وہ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں تحقیق کو فروغ دینا چاہتے ہیں ۔ ہماری جامعات میں اس وقت تحقیق پر سب سے کم توجہ ہے۔ بس رٹے کا نظام ۔ نمبر اور گریڈلینے کی دوڑ نے طلباء کی تحقیقی صلاحیتوں کو دفن کر دیا ہے۔ اس لئے ہماری جامعات میں تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے۔ بس اس بات پر شکر ہی کیا جا سکتا ہے کہ میاں شہباز شریف کو اس بات کا احساس ہوا ہے کہ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں تحقیق کی کمی ہے۔ انہوں نے برطانوی ماہرین تعلیم سے درست کہا ہے کہ پنجاب کی جامعات میں تحقیق و ترقی کی بنیادیں بہت کمزور ہیں۔ اور ان کی خواہش ہے کہ پنجاب کی جامعات میں نئے آئیڈیاز اور نئی سوچ کو سامنے لانے کا کلچر پیدا کیا جائے۔ میاں شہباز شریف کی بات بھی ٹھیک ہے کہ جب تک یونیورسٹیوں سے پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے پاکستان کے حالات اور ماحول کی مناسبت سے تحقیق اور آئیڈیاز سامنے نہیں آئیں گے ۔ تب تک پاکستان میں مستحکم معاشی ترقی ممکن نہیں ہے۔ اب تک تو ہم باہر کی تحقیق کو اپنے ملک میں لاگو کرنے کے محتاج ہیں کیونکہ ہم اپنے ملک میں کوئی تحقیق نہیں کرتے۔

میری میاں شہباز شریف سے گزارش ہے کہ وہ مرض کی تہہ تک پہنچ گئے ہیں۔ آج پنجاب میں تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے اپنی اپنی یونیورسٹیوں کو ڈیپارٹمنٹل سٹور بنا دیا ہے۔ صرف وہی کورس متعارف کروائے جا رہے ہیں جہاں سے بھاری فیسیں وصول کی جا سکتی ہیں۔ مکھی پر مکھی ماری جا رہی ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مغرب اور بالخصوص برطانیہ کی بڑی یونیورسٹیوں سے تحقیق کا کلچر درآمد کر سکیں۔ ہمارے جو استاد باہر پڑھنے جاتے ہیں۔ وہ یا تو واپس ہی نہیں آتے۔ اور جو واپس آتے ہیں ۔ وہ بھی باہر سے جو سیکھ کر آتے ہیں بھول جاتے ہیں۔ اور یہاں واپس آکر یہیں کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔

میاں شہباز شریف کے بیرونی دوروں کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ وہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بھائی بھی ہیں۔ اور یہ مانا جاتا ہے کہ موجودہ حکومتوں کے بڑے بڑے اقتصادی فیصلوں کے پیچھے بھی میاں شہباز شریف کی بنائی ہوئی بنیاد ہوتی ہے۔ وہ اس سے پہلے چین کے بھی کافی دورے کر چکے ہیں۔ اور چین کی اتنی بڑی سرمایہ کاری کے پیچھے بھی میاں شہباز شریف کا کام نظر آتا ہے۔ اس لئے اس دورہ کے بعد برطانیہ سے سرمایہ کاری کے دروازے بھی کھلنے کی امید ہے۔ لیکن اگر پنجاب کی جامعات کو ٹھیک کرنے کا کام ہو جائے تو یہ کسی بھی بڑی سرمایہ کاری سے کم اہم نہیں ہے۔

مزید : کالم