کسی ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم نہیں بننے دینگے: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

کسی ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم نہیں بننے دینگے: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

چنیوٹ(نمائندہ خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اعجازالاحسن نے کہا ہے کہ قانون کی بالادستی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔کسی ظالم کو مظلوم اور کسی مظلوم کو ظالم نہیں بننے دیا جائیگا انہوں نے کہا کہ کرپشن کی دیمک نے تمام اداروں میں اپنا اثر کر کھا ہے جس کی وجہ سے مثبت فیصلوں میں تاخیر بنیادی وجہ بن کر سامنے آتی ہے انہوں نے کہا کہ عام آدمی تک حصول انصاف کے لئے مختلف رکاوٹوں کا کھڑا کیاجاتا ہے مگراسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع چنیوٹ صدر بار ایسوسی ایشن چوہدری ریاض لنگڑیال ایڈووکیٹ،جنرل سیکرٹری رانا قیصر بشیر ایڈووکیٹ اورلالیاں بار ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے دوران کیااس موقع پر چےئرمین ڈسپلنری کمیٹی ملک غلام عباس نسوآنہ بھی انکے ہمراہ تھے ۔انہوں نے اس موقع پر جو ڈیشل پالیسی پر پنجاب بھر میں ضلع چنیوٹ کو فرسٹ پوزیشن آنے پر وفد کو خراج تحسین کیا چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اعجازالاحسن نے کہا کہ کسی بھی ادارے میں کرپشن کے نظام کو پنپنے نہیں دیں گے کیونکہ اس کی وجہ سے معاملات انتہائی گھمبیر صورتحال اختیار کر جاتے ہیں انہوں نے کہا عام آدمی تک حصول انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کا عزم کر رکھا ہے اور اس کے لئے عدلیہ میں بیٹھے ہر فرد کو اپنا مثبت و اہم کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ بہتر نتائج سامنے آئیں انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی میں اہم کردار ادا کرنے والے لوگوں میں ایک نام ملک غلام عباس نسوآنہ کابھی ہے۔ انہوں نے ملک غلام عباس نسوآنہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ چنیوٹ کی پہچان ملک غلام عباس نسوآنہ ہیں ۔اس موقع پر چنیوٹ کے وکلاء کو آغا خان لیبارٹری و ہسپتال کے کارڈز بھی جاری کئے گئے جن پر ضلع چنیوٹ کے وکلاء کو علاج و لیبارٹری ٹیسٹوں میں پچاس فی صد رعائت دی جائے گی ۔

مزید : صفحہ آخر