سیاستدان کی طرح سول و ملٹری بیوروکریسی بھی ’’ پاک‘‘ نہیں، احتساب بلا تقریق ہونا چاہئے: رضا ربانی

سیاستدان کی طرح سول و ملٹری بیوروکریسی بھی ’’ پاک‘‘ نہیں، احتساب بلا تقریق ...

لاہور (خبرنگار خصوصی،اے این این)حکومتی وزراء و سیاسی رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے جمہوریت و پارلیمنٹ کی بالا دستی ناگزیر ہے،ملک مزید ڈکٹیٹر شپ برداشت نہیں کر سکتا، سیاستدان کرپٹ ہیں تو سول اور ملٹری بیوروکریسی کونسی ’’پاک اور پاوتر‘‘ ہے وہ کوئی مقدس گائے نہیں، سب کا احتساب بلاتفریق ہونا چاہئے،ہماری پسماندگی ہماری حماقتوں کا نتیجہ ہے ، ووٹ کا حق ہماری جنریشن نے مسلسل 40 سال کی جدوجہد کے بعد چھینا، پاکستان میں جمہوریت اور آمریت کے کھیل نہ کھیلے جاتے تو آج پاکستان بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوتا، 2025 تک پاکستان کو دنیا کی 25 بہترین معیشتوں کی صف میں آنا ہوگا،سچ بولنا آسان لیکن اس کی قیمت ادا کرنا بہت مشکل کام ہے ۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین سینٹ رضا ربانی ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید ، وفاقی وزیر احسن اقبال ، سابق وزیرخارجہ سردار آصف احمد علی ، سینٹر مشاہد اللہ خان ، سہیل گوندی ودیگر نے مصنف عفان مشاہد اللہ کی جانب سے لکھی گئی کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں وہ وقت آگیا ہے کہ اب ایلیٹ کلاس کے عمل دخل کو کم کرکے مڈل کلاس کو آگے آنے کا موقع دیا جائے ۔ پارلیمان میں محنت کش اور مزدور کے لیئے سیٹیں مختص کی جائیں تاکہ یہ طبقہ اپنے نقطہ نظرسے ایوان کو آگاہ کرسکے ۔ پاکستان کا ایک اور بڑا مسئلہ کرپشن ہے جس نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے اس سمت میں پیش رفت کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بطور سیاستدان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ سیاست میں کرپٹ لوگ موجود ہیں ان کا احتساب ہونا چاہئے ۔ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ سول اور ملٹری بیوروکریسی بھی پاک اور پوتر نہیں ۔ سب کا بلاتفریق احتساب ہونا چاہئے کوئی مقدس گائے نہیں ۔ سیاست دان کے لیئے سپیشل کورٹس اور دیگر لوگوں کے لیئے عام کورٹ یہ تفریق درست نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل پاکستان کی نئی اسٹیبلشمنٹ نہیں ہونی چاہئے ۔ ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں یہ تجربہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے ۔پاکستان مزید ڈکٹیٹر شپ برداشت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس مزید تجربات کی گنجائش نہیں ہے ملک کو بحران سے نکالنے کے لیئے تمام اداروں کا آپس میں بیٹھ کر نیشنل او رسکیورٹی معاملات پر ڈائیلاگ کرنا ضروری ہے ۔ پارلیمنٹ واحد راستہ ہے جو پاکستان کو آگے لے جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی اچھا یا براطالبان نہیں ہمیں اب فیصلہ کرلینا چاہئے کہ ہمیں قائد اعظم کا لبرل اور سوشل ویلفئرپاکستان چاہئے یا رجعت پسندی اور تنگ نظری کا پاکستان چاہئے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا کہ آج لوگ آسانی سے دھاندلی اور ووٹ کی بات کرتے ہیں لیکن جب ان کی جنریشن نے سکول جاناشروع کیا تب سیاسی جماعت کی بات کرنا بھی جرم سمجھا جاتا تھا ۔ مسلسل 40 سال کی جدوجہد کے بعد ہمیں ووٹ کا حق ملااور یہ حق ان کی جنریشن کو چھیننا پڑاکیونکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے یہ جمہوریت ہمیں وراثت میں دیا تھا۔جمہوری نظام کی بدولت آج ہم سیاسی جماعت کے ورکروں کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے اور آزاد عدلیہ کے حقوق ملے ۔ پندرہ سال قبل بھی پاکستان پر بدترین آمریت تھی جب ایک ڈکٹیٹر نے جمہوریت پر شب خون مارا تھا۔ انہوں نے کہاکہ 9/11 کے واقعہ نے دنیا پر بہت اثرات چھوڑے ہیں اور پاکستان کو بہت متاثر کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس واقعہ میں پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش ہوئی ہولیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم اپنے حالات کے خود ذمہ دار ہیں ۔ ہم اپنے بچوں کو سکول جانے نہیں دیتے یا انہیں ایسا نصاب پڑھاتے ہیں جس میں تنگ نظر ی کے جراثیم آجاتے ہیں یا وہ جنگجو بن جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ورکس احسن اقبال نے کہا کہ ایشیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ایک چیز مشترک ہے کہ وہاں جمہوریت کو تسلسل ہے ۔ پاکستان میں جمہوریت اور آمریت کے کھیل نہ کھیلے جاتے تو آج پاکستان بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوتا۔ 1965 کے واقعہ نے پاکستان کو ترقی کی پٹری سے اتار دیا۔ آئین اور قانون کو دوام دینے سے ہین ہماری پالیسیاں تناور درخت بن سکیں گی ۔ جدت اور مہارت کو اپنائے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔سینٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ دنیا کے نظام کو چلانے والے علم و ہنر سے عاری ہیں اور اقتدار میں بیٹھے لوگ صاحب کتاب نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے پہلے سب نظام بھی فیل ہوئے اور آئندہ بھی سب نظام فیل ہونگے ۔ ہمیں اس نظام کی طرف آنا ہوگا جو ہمیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے ۔ سابق وزیرخارجہ سردار آصف احمد علی نے کہا کہ آصف علی زرداری نے اپنے پورے دور میں ایک اچھا فیصلہ کیا کہ سینٹ کے چیئرمین کے لیئے رضا ربانی کو منتخب کیا۔ سچ بولنا آسان لیکن اس کی قیمت ادا کرنا بہت مشکل کام ہے ۔

مزید : صفحہ آخر