سی اینڈ ڈبلیو کے ہیڈ ڈرافٹس مین کیخلاف مقدمہ درج، نوکری معطل

سی اینڈ ڈبلیو کے ہیڈ ڈرافٹس مین کیخلاف مقدمہ درج، نوکری معطل

لاہور(محمد نواز سنگرا)محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں ملازمین اپنے ہی ساتھیوں کی جڑیں کاٹنے لگے ۔قتل کی دھمکیاں دینے اوربھتہ مانگنے پر ینگ انجینئرز ایسوسی ایشن کے صدر سرمد اختر لنگڑیال کی مدعیت میں ڈویژنل ہیڈ ڈرافٹس مین میاں بشارت کے خلاف تھانہ مسلم ٹاؤن میں مقدمہ درج کرا دیا گیا۔پولیس کاررائی میں مجرم ٹھہرائے جانے پر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے بھی میاں بشارت کو معطل کر کے محکمانہ کارروائی شروع کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق تھانہ مسلم ٹاؤن میں ینگ انجنئیرز ایسوسی ایشن کے صدر ایس ڈی او بلڈنگز ڈویژن نمبر 3 سرمد اختر لنگڑیال سرمد کی مدعیت میں مقدمہ 882/15 درج کرایا گیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ محمد اسحاق نامی شخص نے ایس ڈی او سرمد اختر لنگڑیال سے ٹیلی فون پر ڈیڑھ لاکھ روپے بھتہ مانگتا تھا اور بعد ازاں قتل کی دھمکیاں بھی دیتا تھا۔جب فون کالز کی بنیاد پر ان کے خلاف تھانہ مسلم ٹاؤن میں مقدمہ درج کرایا گیا تو انکوائری کے دوران محمد اسحاق نے انکشاف کیا کہ یہ کام انہوں نے ڈویژنل ہیڈ ڈرافٹس مین میاں بشارت تھرڈ پرونشل بلڈنگ لاہور کے کہنے پر کیا ۔جب پولیس نے میاں بشارت کو شامل تفتیش کیا تو اس نے بھی اقبال جرم کر لیا اور پولیس نے ان کو بھی مقدمے میں شامل کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور پولیس نے انکوائری رپورٹ محکمے کو ارسال کر دی ۔رپورٹ کی ایک کاپی سیکرٹری کمیونیکیشن اینڈ ورکس میاں مشتاق احمد،چیف انجنئیر نارتھ محمد طارق اور ایکشئین تھرڈ چوہدری محمد علی کو بھی ارسال کی۔پولیس کی طرف سے رپورٹ آنے پر محکمے نے بھی میاں بشارت کو معطل کر دیا اور اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا ہے ۔یہ بھی معلوم ہو ا ہے کہ میاں بشار ت اس سے قبل سابق ایکسئین ریاض حسین شاہ،ظفر اقبال اور موجودہ ایکسئین محمد علی کو بھی بلیک میل کرکے لاکھوں روپے بٹور چکا ہے۔اس طرح محکمہ سی اینڈ ڈبلیوکے ملازمین اپنے ہی ساتھیوں کو بلیک میل کرنے لگے ہیں۔میاں بشارت ہیڈ ڈرافٹسمنین پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ محکمے کا خفیہ ریکارڈ نامعلوم افراد کو مہیا کر تا تھا اور ان کو افسران کے نمبر بھی مہیا کرتا تھا جس پر نامعلوم افراد محکمے کے افسران کو بلیک میل کرتے تھے اور ان سے پیسے پیسے لیتے تھے جن کا ایک حصہ ملک بشارت لیتا تھا۔ایسا ہی ایک انکشاف محمد اسحاق نے کیا کہ وہ آدھی رقم میاں بشارت کو دیتا تھا۔

مزید : صفحہ آخر