ایکسپورٹروں اور صنعتکاروں کو سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی مد میں ریفنڈ نہیں مل رہا ،غلام علی

ایکسپورٹروں اور صنعتکاروں کو سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی مد میں ریفنڈ نہیں مل ...

لاہور(جنرل رپورٹر)ایف بی آر کے تحت انڈسٹری کے سیلز ٹیکس ریفنڈ، کسٹم ریبیٹ اور ڈی ایل ٹی ایل کی مد میں پھنسے ہزاروں ملین روپے جلد از جلد جاری کئے جائیں صدارتی امیدوار برائے ایف پی سی سی آئی سینیٹر غلام علی نے کہا ہے کہ ملک میں ایکسپورٹروں اور صنعتکاروں کو گزشتہ کئی سالوں سے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی مد میں ریفنڈ نہیں مل رہا جس سے معیشت جمود کا شکار ہے۔ ورکنگ کیپٹل اور کیش فلو میں ٹھہراؤ کے باعث تاجر اور صنعتکار پریشانی کا شکار ہیں جس سے مارکیٹ گروتھ میں نمایاں کمی ہوئی ہے، بہت سی کمپنیز نے اپنا بزنس محدود کر دیا ہے۔

اور کچھ نے اپنا سرکل چلانے کے لیے بینکوں سے ادھار لے رکھا ہے۔انڈسٹریز کے لئے بجلی و گیس کا کوٹہ بھی کم کر دیا گیا ہے۔ 27 فیصدGIDC جب کہ ٹیرف میں بھی 25سے 30فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ اور اب حکومت نے منی بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی بجٹ کے پانچ ماہ بعد ہی چالیس ارب کے نئے ٹیکس لگا دئیے جس سے بزنس کمیونٹی شدید مشکلات کا شکار ہے ۔ GSP+ کے باوجود ملکی برآمدات 25 سے 23.5بلین ڈالر تک آ گئی ہیں جو کہ باعث تشویش ہے ۔انھوں نے کہا کہ تاجر ملکی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہیں اور محاصل کا 90% سے زائد ان سے ہے حاصل ہوتا ہے لہذا حکومت بزنس کمیونٹی کو ہر ممکن بہتر کاروباری ماحول فراہم کرے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہئے کہا کہ وفاقی بجٹ میں کئے گئے وعدے کے مطابق بزنس کمیونٹی کے ریفنڈز جلد از جلد ادا کئے جائیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے بزنس کمیونٹی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ماہ ہونے والے FPCCI الیکشن میں بزنسمین پینل کے نمائندوں کو کامیاب کریں تاکہ ان کے مسائل کی مثبت انداز سے حکومی ایوانوں میں وکالت کی جا سکے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4