صوبائی وزیر اور اعلیٰ پولیس افسران کی سر پرستی میں لوئر مال ساکل جرائم کا گڑھ بن گیا

صوبائی وزیر اور اعلیٰ پولیس افسران کی سر پرستی میں لوئر مال ساکل جرائم کا ...

لاہور(بلال چودھری) لوئرمال سرکل کے علاقہ میں جرائم پیشہ افراد نے شریف شہریوں کی زندگی "اجیرن"بنا دی ۔ چوروں، ڈاکوؤں اوردیگر سنگین جرائم میں ملوث عناصر نے پورے علاقے میں قمار بازی اور ہوٹلوں پرقحبہ خانے کا "ٹینڈر "پولیس سے مبینہ بھاری"نذرانہ "کے عوض حاصل کرلیا۔پولیس کے شیر جوانوں نے مال باقاعدگی سے ملنے پر کریک ڈاؤن کرنے کے فیصلے کو موخرکردیا۔متعلقہ ڈی ایس پی اعلیٰ حکام کو " سب ٹھیک "ہے کی نویدسنانے لگے۔تھانوں میں تعینات محررروزانہ کی بنیاد پر بند ہونے والی موٹرسائیکلوں کوسائلین سے"مک مکا"کرنے کے بعد حاصل ہونیوالی "موٹی رقم" ڈی ایس پی کودینے کا مبینہ ٹھیکہ خوشی اسلوبی سے نبھانے لگے۔ اعلیٰ حکام سب کچھ جانتے ہوئے بھی "خاموشی میں سلامتی ہے "کی "تسبیح"کا ورد کرنے میں مصروف ہوگئے۔ نمائندہ" پاکستان" سے گفتگو کرتے ہوئے اہل علاقہ نے بتایا کہ علاقہ میں میاں وکی کا سب سے بڑا قمار بازی کا اڈہ ہے اگر شہر میں کوئی اورقمار بازی کا اپنا اڈہ چلانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ شخص وہاں کے ایس ایچ او کو مبینہ طور پر منتھلی دیکر اس اڈے کو بند کروا دیتا ہے۔ سپاہی سے لیکر ڈی آئی جی تک مبینہ طور پر اس اڈے سے منتھلی وصول کرتے ہیں جبکہ ایک صوبائی وزیر بھی اس اڈے کی سرپرستی کرتا ہے ۔ شراب اورمنشیات فروشی کا کاروبار کرنے والے افراد میں آرا حسن شاہ کا شہنشاہ خان ،سید مٹھا بازا سکول والی گلی میں بنگالی نامی شخص ودیگر پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے کر رہے ہیں۔ان منشیات فروشوں کی وجہ سے متعدد پڑھے لکھے نوجوانوں نے بھی زندگی کوروگ لگا لیا ہے جس کی وجہ سے علاقے کے درجنوں شریف شہری اپنی نشئی "اولاد"کے غم میں مبتلا ہوکر ذہنی مریض بن گئے ہیں جبکہ سرکل کی پولیس نے ان موت کے "سوداگروں"کو چند سکوں کی خاطر لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی مکمل چھوٹ دے رکھی ہے۔علاو ازیں جوئے خانے چلانے والوں میں سرے فہرست داتا صاحب دیگوں والی گلی میں میاں ثاقب اورمحمد حنیف پوما،خلیفہ پان شاپ، ابراہیم روڈ کے قریب بلو شیخ پرچی جوا،سردار چپل چوک کے قریب وکی ،گڈواورماجد موہنی روڈ پرسہیل،ابراہیم روڈ پرخادم عرف کالو،مین داتا دربار کے قریب پوما بٹ ،ابراہیم روڈ چھری مار کے ساتھ والی گلی میں لبھا میچ فکسنگ پرجواء جبکہ قائد اعظم سٹریٹ نزد گندہ نالہ کے قریب گھر میں رئیس خان جواء اورمنشیات فروخت کرنے کا کا روبارپولیس کی مبینہ آشیر آباد سے سر عام کرنے میں مصروف ہے جبکہ پولیس ان اڈوں سے بھاری رقم وصول کرتی ہے جسے بعدازاں مل بانٹ کراہلکار سے لیکر اعلیٰ افسران تک کی نذر کی جاتی ہے۔بھاٹی گیٹ میں جسم فروشی کا مکروہ دھندہ کرنے والوں میں داتا دربار کے قریب گل ہوٹل اوردربار کے سامنے واقع رحمان ہوٹل میں رات دن جرائم پیشہ افراد"تتلیوں "کے ساتھ موج مستی کرنے میں مصروف رہتے ہیں جبکہ وہیں پر ہی شاہد ہوٹل میں اسکا مینجر ومنشی سہیل احمد ہوٹلوں میں لڑکیاں سپلائی کرنے کا مکروہ دھند کرتا ہے تاہم پولیس اپنا "نذرانہ "ملنے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور افسران بھی کوئی ایکشن لیناپسند نہیں کرتے کیونکہ کہ انہیں بھی "حصہ "پہنچ رہا ہے۔علاقے میں بدنام زمانہ قبضہ گروپ جن میں پرانا دھوبی گھاٹ بلال گنج میں کابل خان،گلشن ریاض کالونی بوبی پلازہ میں ولی خان ،ابراہیم روڈ گلی نمبر11مکان نمبر10میں قادر خان ،گلشن ریاض کالونی میں سعید خان اور ابوبکر روڈ کے قریب میاں حامد بیواؤں سمیت غریب غرباء افراد کے مکانوں اور زمینوں پر قبضے کر نے کا کام سراانجام دے رہے ہیں۔ لوئر مال سرکل کے علاقہ میں سروے کے دوران مقامی رہائشیوں فقیر حسین،نجم الدین،شکیل اعوان،ندیم بھولا،شاکر جان،نجف خان،سعید اللہ،نیامت بھٹی،شاہد کریم،نذیر علی،تاج بابا،ناصر مٹھو،اکمل شیر خان اور متعدد شہریوں نے گفتگو کرتے ہوئے پولیس کا "کچا چٹھہ"کھول دیا۔شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر ہماری پولیس ہی نیک نیتی سے اپنے اصل فرائض کو سمجھنے کے قابل ہوجائے اور اس پر عمل پیرا ہو تو پھر ایسے چند مٹھی بھر افراد جو کہ معاشرہ کے لیے "ناسور"بنے ہوئے ہیں کا خاتمہ "گھنٹوں"میں ممکن ہے ۔شہریوں کا مزید کا کہنا تھا کہ ایسا تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب اس محکمہ میں چند کرپٹ ترین پولیس "مافیا"جو کہ پوری فورس کے لیے "بدنامی"کا باعث بنتے ہیں کے خلاف سخت ایکشن لے کر انہیں قرار واقع سزادلوائی جائے مقامی تاجروں نیاز علی،رانااختر وغیرہ نے کہا کہ آئے روز ڈاکو دن دیہاڑے ڈکیتی کر کے فرار ہوجاتے ہیں اور ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ مختلف شہروں سے داتا دربار پر حاضری دینے کے لیے آنے والے افراد جن میں اکرم،رشید،نعیم،ببلو بٹ،نذیر جٹ ،قاقا چوہان،حمید بھٹی وغیرہ نے بتایا کہ ہم اس پاک ہستی کے لیے اتنی دور سے حاضری دینے کے لیے آتے ہیں لیکن یہ پولیس اہلکار ہمیں بلا وجہ تنگ کرتے رہتے ہیں اور مختلف ہیلے بہانوں سے ڈرا دھمکا کر مقدمہ درج کرنے کا "ڈراوا"دے کر ہماری جیبیں صاف کر لیتے ہیں اور اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں اس لیے ہماری اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل ہے کہ پولیس میں اس طرح کی کالی بھیڑوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ ان ہستیوں کے مزارات پر حاضری دینے میں سائلین کو کوئی دشوای پیش نہ آئے اور وہ وقت پر اپنے گھروں کی واپسی ممکن بنا سکیں۔اس حوالے سے ڈی ایس پی مہر ممتاز کا کہنا ہے کہ علاقے میں جرائم کا کاتمہ کروادیا ہے جبکہ میاں وکی کے اڈے کو بند کروانے کی کوشش کی جائے گی سرکل کے وہ ڈی ایس پی نہیں ان کو ایڈیشنل چارج دیاگیا ہے اگر ان کو ڈی ایس پی بنا دیا جائے تو وہ علاقہ کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کر دیں گے۔

مزید : علاقائی